میٹھی جیل(7)
13 ستمبر 2018 2018-09-13

وفاقی کابینہ کی حلف برداری کیساتھ ہی حکومت سازی مکمل ہو گئی ہے۔ نو منتخب حکومت کی ترجیحات اور حکمت عملی و طریقہ کار کا جائزہ لیے بغیر ذاتی پسند اور نا پسند کی بنیاد پر رائے قائم کرنا اور لکھنا غیر مناسب ہے لہٰذا حکومت کے پہلے 100 دن امریکا یاترا اور وہاں مقیم پاکستانیوں کی زندگی آپ کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج ساتویںقسط پیش خدمت ہے۔

                                                                                                    

کوئی سلمانؓ کوئی میثم ؓ کوئی ابوذرؓ نکلے
جو بھی نکلے وہ مقدر کے سکندر نکلے
یہ جو اصغرؓ کے لئے مانگ رہا ہے پانی
مار دے خاک پے ٹھوکر تو سمندر نکلے
مال اسلام نے بانٹا تو ہزاروں موجود
خون اسلام نے مانگا تو72نکلے
محرم الحرام شروع ہوچکا ہے اور شہدائے کربلاکو خراج عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ عروج پر ہے ،دوسری جانب نواز شریف فیملی کو بیگم کلثوم نواز کے انتقال کے صدمے کا سامنا ہے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیںکمال باہمت خاتون تھیں جنہوں نے مشرقی خاتون خانہ ہوتے ہوئے مشکل وقت میں اپنی فیملی کے لئے مردانہ وار مشکلات کا سامنا کیا۔مشکلات تو سب کو ہی زندگی میں پیش آتی ہیں کہ زندگی مشکلات سے عبارت ہے،بات صرف اتنی ہے کہ آپ ان مشکلات کا سامنا کیسے اور کتنی ہمت سے کرتے ہیں یہی ہنر آپ کے مقام کا تعین کرتا ہے۔
امریکا جانے والے تارکین وطن بھی روزانہ ایک نئے امتحان سے گذرتے ہیںکہ وہاں درختوں پر پیسے اور فون نہیں اگتے لیکن پاکستان میں بیٹھ کر ہم سب یہی سوچتے ہیں کہ کل ہمارادوست، بھائی،باپ ،شوہراور چچا وغیرہ صبح اٹھیں گے اور اپنے امریکا والے گھر کے صحن میں لگے درخت سے سام سنگ یا آئی فون،ٹیبلٹ اور لیپ ٹاپ اتار کر ہمیں کورئیر کردیںگے۔درحقیقت جتنی سخت اور تکلیف دہ زندگی ان تارکین وطن کی گذرتی ہے وہ ،وہ جانتے ہیں یا ان کا خداجانتا ہے ۔ نیویارک کے جان ایف کینیڈی ائیر پورٹ سے ناصر کے ساتھ لانگ آئی لینڈ کے لئے روانہ ہوئے جہاں میرے ایک اور دوست اور سابق کولیگ عاطف محمود نے میرے لیے کرائے کی رہائش کا بندوبست کرکھا تھا ،ناصر قیوم تو خیر نوے کی دہائی میں اسلام آباد میں گاہے صحافت سے منسلک رہے یا بیرون ملک چلے گئے پھر واپس آکر پہلی محبت سے تجدید وفا کرتے رہے۔ 2008کے لگ بھگ وہ ایک ٹی وی چینل سے بطور رپورٹروابستہ ہوئے جہاں میں پہلے ہی سے موجود تھا جبکہ عاطف محمود نے بھی اسی ادارے میں میرے ساتھ کام کیا تھا وہ بنیادی طور پر پروڈیوسر تھے بعدازاں ایک اور ادارے میں 2012میں بھی ہم اکٹھے رہے جہاں وہ نسیم زہرہ صاحبہ کی ٹیم کا حصہ تھے ۔سات سال بعد ہم تینوں ایک مرتبہ پھر انکل سام کے دیس میں اکٹھا ہونیوالے تھے جہاں عاطف اور ناصر موبائیل فونز کے کاروبار سے اپنے اپنے طور پر روزگار کمارہے تھے، عاطف ایک کمپنی کی فرنچائز میں نوکری کررہے تھے اور آخری اطلاعات تک وہیں کام کررہے ہیں جبکہ ناصر فری لانس کام کررہا تھا۔دونوں غم روزگار کے باعث وہ کام کررہے تھے جو ،ان کی پہلی کیا شایدتیسری چوائس بھی نہیں تھا لیکن مچھندر کو روزی کمانے سے غرض ہوتی ہے اور بالخصوص امریکا میں جہاں کی بودوباش میں عموما والدین سولہ سترہ سال کی عمر تک بھی بمشکل اولاد کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور جوابا بڑھاپے میںاولاد بھی ان کو سوشل سکیورٹی کے رحم وکرم پر چھوڑجاتی ہے تارکین وطن میں سے وہاں کام کرنے کے لئے گئے کم ہی لوگ ہوں گے جن کو اپنی مرضی کاکام ملتا ہے، ڈاکٹرز، انجینئرز اور دیگر پروفیشنل، مقامی ڈگریوں کے ساتھ مطابقت تک مشکل کاٹتے ہیں لیکن اس کے بعد ان کی زندگی بہت اچھی ہوجاتی ہے ۔ موبائل سٹور پر عاطف سے ملاقات ہوئی جو اپنے آخری گھنٹے کا کام تیزی سے نمٹا رہا تھا۔ یاد رہے کہ امریکا میں آپ کے کام کی اجرت آپ کو گھنٹوں کے حساب سے ہفتہ وار بنیادوں پر ادا کی جاتی ہے ،جس کے باعث ہمارے یہ مہربان کوشش کرکے کم از کم بارہ گھنٹے ضرور کام کرتے ہیں تاکہ اپنے جسم وجاں کا رشتہ برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ یہ پاکستان میں بیٹھے افراد خانہ کی اچھی گذر بسر کی رقم بھیج سکیں ۔ ہماری ناجائز فرمائشیں پور ی کرنے کے لئے یہ بارہ گھنٹے ،سولہ یا اٹھارہ گھنٹوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ،جن کی بیٹیاں جوان ہورہی ہو ں اور سر پر اپنی چھت بھی نہ ہو تو پھر ہفتے میں سات دن اٹھارہ گھنٹے روزانہ کی بنیادوں پر کام کیے بنا چارہ نہیں ہوتا، جبکہ یہاں جوان بھائی یا بیٹا سونے کی چین اور گاڑیوں یا موبائلز کے ماڈلز میں پھنسے ہوتے ہیں۔ عاطف کی معیت میں ہمارا قافلہ ڈئیر پارک کی جانب روانہ ہوا جہاں ہمیں وحید اقبال سے ملناتھا جس کے گھر کے ایک حصے میں کرائے کے لئے جگہ خالی تھی،پانچ دس منٹ کی ملاقات کے بعد پانچ سو ڈالر ماہانہ کرایہ طے کیا جو ایڈوانس اداکرکے چابی حاصل کی ،سامان وہاں رکھا اور پھر ہم تینوں وہاں سے رخصت ہوئے ۔اب ہمارا رخ پورٹ واشنگٹن کی جانب تھا جہاں ناصر کے ایک اور دوست احتشام ہمارے منتظر تھے۔پورٹ واشنگٹن لانگ آئی لینڈ کے شمالی ساحل پر نیویارک، نسواو¿ کاو¿نٹی میں واقع ہے ۔فوربس میگزین کے مطابق، پورٹ واشنگٹن 2017 میں ریاستہائے متحدہ امریکہ میں مہنگی رہائشی جگہوں میں شمار ہوتی ہے یہاں ایک یاٹ کلب سو سال سے بھی پرانی تاریخ رکھتا ہے ۔ نسواو کاونٹی بالخصوص پورٹ واشنگٹن میں ریت کے بڑے ذخائر تھے جو نیویارک کی ایمپائر اسٹیٹ جیسی اپنے وقت کی اونچی ترین بلڈنگز کی تعمیر میں استعمال کیے گئے۔اس کا نام ضرور پورٹ جیسا ہے لیکن اس علاقے اور پانی کے کنارے میں پورٹ جیسی کوئی بات نظر نہیں آتی کہ یہ پورٹ کبھی تجارتی مقاصد کے بحری جہازوں کے لنگر انداز ہونے میں کام آئی ہو۔ یہاں بیٹھ کر سب کو سفر سمیت پاکستان کااحوال دیا ، سب نے ایک دوسرے کے گزرے ہوئے کچھ وقت کے بارے میں بتایا۔جس کے بعد کھانے کا نعرہ لگا اور مجھ سے پوچھا گیا کہ نیویارک میں پہلا کھانا کیا کھایا جائے جس پر چوبیس گھنٹے سے زیادہ مرضی کا کھانا نہ ملنے کے باعث ملول اور قدرے شرمندہ انداز میں دیسی کھانے کی فرمائش کی ،جس پر باقاعدہ میری کلاس لی گئی اور کہا گیا کہ یہاں آکر بھی اگر دیسی ہی کھانا تھا تو اتنا سفر کرنے کی ضرورت کیا تھی ؟بہرحال آخر مہمان کی ایک ، دو دن تو مرضی چلنی ہی تھی پھر عاطف نے جیکسن ہائٹس کا مشور دیا پر بات نہیں بنی، ان سب نے طے کیا کہ اب ہکس ول کے علاقے کی طرف جایا جائے کہ وہ دیسی فوڈ کے لئے قریب ترین جگہ تھی ، سفر کا سلسلہ جاری تھا اور ابھی مزید کچھ عرصہ یہ یونہی چلنا تھا کہ پیر میں آیا چکر اتنی آسانی سے نہیں نکلتا۔ (جاری ہے)


ای پیپر