وزیراعظم عمران خان کو عوام کی مشکلات کا ادراک نہیں، مرتضیٰ وہاب
13 اکتوبر 2020 (18:21) 2020-10-13

کراچی: ترجمان سندھ حکومت اور مشیر قانون و ماحولیات بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا وزیر اعظم عمران خان سے متعلق کہنا ہے کہ پاکستان کے 22 کروڑ عوام کو جن مشکلات کا سامنا ہے اس کا عمران خان کو ادراک نہیں۔

بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس کے دوران اپنے ایک بیان میں وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک کا مسئلہ یہی ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے صرف اپنے لیے ہو رہا ہے اور جو وزیر اعظم اپنے آپ کو جمہوریت کہے وہ کیا قانون پر یقین رکھتا ہو گا۔ اس جملے سے انہوں نے بتا دیا کہ وہ اپنی ذات سے آگے نہیں سوچ رہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ این ایف سی اور آئینی تقاضوں کو صحیح حق نہیں دیا جاتا اور وزیراعظم کہتے ہیں کہ میں جمہوریت ہوں، انہوں نے جمہور کا جو خیال کیا ہے، جمہوریت میں آئین کی پاسداری کرنا بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اکتوبر کا مہینہ بہت اہم ہے کیونکہ اکتوبر کے مہینے میں پاکستان میں حقیقی جمہوریت کو لانے کی ابتداء ہوئی تھی جب بے نظیر بھٹو پاکستان واپس آئی تھیں تو عوام کے ایک سمندر نے ان کو خوش آمدید کیا، وہ پاکستان کے عوام کی جنگ لڑنے آئی تھیں، 18 اکتوبر کو جمہوریت کی خاطر پیپلز پارٹی کے جیالوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اسی لیے 18 اکتوبر کو پیپلز پارٹی کی میزبانی میں جلسہ کیا جا رہا ہے۔

بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ تمام لیڈران اس جلسے میں موجود ہوں گے اور غریب آدمی مہنگائی کی چکی میں پسا ہوا ہے، غریب کو بجلی گیس نہیں ملتی اور کہتے ہیں کہ ملک میں جمہوریت ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ کل کراچی میں بجلی کی قیمتوں میں بھی ایک بار پھر اضافہ کیا گیا اور یہ لوگ جمہوریت تو کہتے ہیں مگر عوام کا احساس و خیال ان کو نہیں ہے، وزیر اعظم کو احساس نہیں کہ کل ہی بجلی کے نرخ میں اضافہ کیا اور یہ اپنی ذات سے آگے کچھ نہیں سوچ رہے ہیں۔

انہوں نے حالیہ مہنگائی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلے چینی 55 روپے کلو تھی اور وزیر اعظم نے نوٹس لیا تو سنچری کراس کر گئی، ادویات عام آدمی کی دسترس سے دور کر دی گئی ہیں اور جو شخص تین ہزار کی دوائی لیتا تھا اب چھ ہزار کی دوائیں خریدے گا، آٹا مافیا کے ہاتھ میں ملک دے دیا گیا ہے اور لگ رہا ہے کہ آٹا بھی سینچری کراس کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ انڈے ایک سو ستر روپے درجن ہو گئے ہیں۔ آلو ، پیاز، کھیرا 80 روپے کلو اور ٹماٹر 190 روپے کلو ہو گئے ہیں۔ عوام کی آمدنی وہی ہے مگر وزیراعظم کو کوئی احساس نہیں۔ 

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ابھی چینی سو روپے پر بھی نایاب ہے اور یہ مدینہ کی ریاست ہے لیکن ایک عام آدمی کو ادویات کے حصول کی مشکلات ہیں جبکہ اخرجات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ 

اس وقت انڈے 170 روپے درجن ہیں اور وزیر اعظم کو ان چیزوں کا کوئی احساس نہیں ہے، اگست 2018 ء میں 332 روپے دس کلو گندم تھی، چینی55 روپے کلو تھی، کوکنگ آئل 145 روپے فی لیٹر تھا اور آلو 29 روپے کلو تھے، گیس، تیل اور ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ چیزیں ایک عام آدمی استعمال کرتا ہے اور اگر ان کی قیمتیں بڑھیں گی تو اس کا اثر عام آدمی پر آتا ہے اور غریب آدمی کے منہ سے نوالہ چھین لیا گیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسے نیک لوگ نہیں چاہیئں، اب چینی سو روپے کلو ہے اور یہ کیا ہو رہا ہے کہ آپ برملا کہتے ہیں کہ ہمیں سب پتا ہے۔


ای پیپر