لیڈر شپ ۔۔۔راہنما کون ہوتا ؟نعرے لگانے والا یا ؟
13 اکتوبر 2020 (16:25) 2020-10-13

محمد سلمان

کبھی غور کیا آپ نے کہ انسان محض گوشت پوست اور ہڈیوں کا نام نہیں بلکہ انسان نام ہے جذبے کا۔ انسانی زندگی کا سب سے بڑا راز انسانی جذبہ ہے۔ بقول مولانا رومی تم جو ہو وہ تمہاری سوچ ہے باقی سب گوشت پوست ہے۔ مطلب یہ کہ انسان کو اس کی سوچ، عمل اور جذبے سے محروم کردیا جائے تو باقی صرف گوشت اور ہڈیاں بچتی ہیں۔ یہ جذبہ ہی ہے جو انسان کو محافظ ملک وقوم بناتا ہے اور جہاد کی منزل کی جانب لے جاتا ہے۔ یہ جذبہ ہی ہے جو انسان کو بے خوف اور اس قدر بہادر بناتا ہے کہ وہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتا اور مسکراتے ہوئے موت سینے سے لگا لیتا ہے ورنہ زندگی کس کو پیاری اور عزیز نہیں۔ زندگی نبیوں، پیغمبروں کو بھی پیاری تھی اور ہر انسان کو پیاری ہوتی ہے۔ آپ نے وہ واقعہ پڑھا ہو گا کہ حضرت ادریس علیہ السلام موت کے خوف سے آسمانوں پر چلے گئے تھے جہاں عزرائیل نے اُن کی روح قبض کی۔ مطلب یہ کہ زندگی اللہ تعالیٰ کی ایسی نعمت ہے جو ہر جاندار کو عزیز اور پیاری ہوتی ہے اور انسان موت کے تصور ہی سے خوفزدہ ہو جاتا ہے لیکن جذبہ ایک ایسا محرک ہے جو انسان کو موت کے خوف سے بے نیاز کر دیتا ہے اور شہادت ایک ایسا مقام ہے جسے پانے کی آرزو انسان کو دُنیا کی محبت سے آزاد کر کے سر مقتل لے جاتی ہے۔ مسلمان کے لیے شہادت دراصل موت نہیں بلکہ حیاتِ جاودانی ہے، ہمیشہ کی زندگی اور ابدی زندگی۔ شہید ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا ہے لیکن قرآن مجید کے مطابق وہ زندہ ہے اور اللہ پاک کے ہاں کھاتا پیتا ہے۔ موت زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے لیکن اگر انسان کو موت کے بعد زندگی مل جائے تو وہ رحمت خداوندی کا ایسا تحفہ ہے اور اتنا بڑا انعام ہے جس کے مقام کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔

انسانی تاریخ اور اپنی قومی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ انسان کو انسان سے محض جذبہ جدا کرتا اور ممتاز کرتا ہے۔ دیکھنے میں سبھی انسان ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن اُن میں سے معدودے چند تاریخ کا حصہ بن کر لوحِ جہاں پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں جبکہ دوسرے موت کے بعد مٹی کے ساتھ مٹی بن جاتے ہیں اور زمانہ انہیں یوں بھلا دیتا ہے جیسے وہ کبھی دُنیا میں تھے ہی نہیں۔ قائداعظمؒ میرکارواں بنے اور پاکستان کی تحریک کی قیادت سنبھالی تو ان کے ساتھ سینکڑوں سیاسی لیڈران، لاکھوں سیاسی کارکنان اور اپنے دور کے ممتاز لوگ شامل تھے لیکن آج تاریخ میں قائداعظمؒ کا مقام اُن تمام سے نہایت بلند اور ابدی نوعیت کا ہے جبکہ دوسروں کا صرف نام مانوس ہے، کچھ کا تو نام بھی مانوس نہیں، وہ اپنے وقت کی گرد تلے دب کر رہ گئے ہیں۔ یہ جذبہ ہی تھا، کردار ہی تھا، ایثار اور بے پایاں جدوجہد ہی تھی جس نے محمد علی جناحؒ کو قائداعظم بنایا، پھر بانی پاکستان اور بابائے قوم کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز کیا۔ یہ جذبہ ہی تھا جو بیماری اور جسمانی کمزوری کے باوجود قائداعظمؒ سے روزانہ اٹھارہ گھنٹے کام کرواتا، ہندوستان کے طول وارض میں دورے کرواتا اور بیک وقت دو محاذوں کانگرس اور انگریز کے خلاف برسرپیکار رکھتا تھا۔

قائد یا لیڈر وہ نہیں ہوتا جو ہجوم سے نعرے لگواتا اور ووٹ حاصل کرنے کے لیے جذباتی تقریریں اور جھوٹے وعدے کرتا ہے بلکہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو صحیح معنوں میں قوم کی رہنمائی کرتا، قوم کا اندھا اعتماد حاصل کرتا اور قوم کو جذبے کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ قائد وہ ہوتا ہے جو قوم کو متحد اور منظم کرتا ہے اور اپنے ساتھیوں کو جذبے سے متحرک کرتا ہے۔ قائداعظمؒ کوئی ایک سال پاکستان کے گورنر جنرل رہے۔ اس ایک سال میں انہوں نے سادہ طرزِحکومت، قومی وسائل کے ایماندارانہ استعمال، قومی خزانے کے تقدس اور قانون کی حکمرانی کی ایسی مثالیں قائم کیں جو خلافتِ راشدہ کے دور کی یاد دلاتی ہیں۔ گورنر جنرل ہائوس کے اخراجات پر کڑی نظر رکھی اور اپنے علاج کے لیے بیرون ملک جانے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ میرے غریب ملک کا خزانہ اس خرچ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ راتوں کو اُٹھ کر خود بتیاں بجھانا اور خزانے کی ایک ایک پائی کا خیال رکھنا قائداعظمؒ کے جذبے، جذبہ خدمت وایثار، جذبہ حب الوطنی کے منفرد مظاہر تھے۔ بچت اور اصراف سے پرہیز کی بہترین موجودہ دور میں عنقا مثال محترمہ فاطمہ جناحؒ کا کراچی کی بیکری کو فون تھا جو گورنر جنرل ہائوس میں ناشتے کا سامان فراہم کرتی تھی۔ محترمہ نے بیکری کے مالک کو فون کیا اور کہا کہ آپ جو ڈبل روٹی سپلائی کرتے ہیں ہم اُس کے بمشکل دو تین سلائس کھاتے ہیں اور باقی ضائع ہو جاتی ہے۔ آپ گورنر ہائوس کو اس سے چھوٹی ڈبل روٹی بھجوایا کریں۔ محترمہ فاطمہ جناحؒ کی ہدایت پر بیکری کے مالک نے چھوٹا سانچا تیار کروایا اور پہلے سے بہت چھوٹی ڈبل روٹی بھجوانی شروع کردی۔ ایسا کیوں تھا؟ چند سلائس جائع جانے سے گورنر ہائوس کو کیا فرق پڑتا تھا؟ دراصل یہ جذبہ تھا جس نے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کو معمولی اصراف، معمولی ضیاع سے بچنے پر مجبور کیا۔

لیڈر جذبوں کا رول ماڈل ہوتا ہے اور وہ اپنے اردگرد موجود ساتھیوں کو بھی اُسی جذبے سے سرشار کردیتا ہے۔ جو سیاسی رہنما، قومی لیڈر ایسا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا وہ بلاشبہ لیڈر نہیں، قائد نہیں بلکہ ہجوم کا مداری اور وقتی سیاسی لہر کا قائد ہوتا ہے۔ لیڈر ایک ایسی شمع ہوتی ہے جو تاریخی میں اُمید، حوصلوں اور جذبوں کی روشنی پھیلاتی اور اپنے ساتھیوں کو ننھے منے چراغ بنا دیتی ہے۔ جو لیڈر اپنے ساتھیوں کی صلاحیتیں اُجاگر نہیں کرسکتا انہیں چراغ راہ نہیں بنا سکتا اور ان میں جذبے کی روح نہیں پھونک سکتا وہ بہرحال لیڈر نہیں ہوتا۔ مختصر یہ کہ لیڈر کو اس کا قائدانہ جذبہ اور قائدانہ کردار باقی لیڈروں سے ممتاز کرتا ہے۔ ہماری قومی زندگی میں اس کی بہترین مثال قائداعظمؒ کے دست راست اور قریبی رفیق نوابزادہ لیاقت علی خان کی ہے جو چار سال تک پاکستان کے وزیراعظم رہے اور اس دوران قائداعظمؒ کے نقشِ قدم پر چلتے رہے۔ قائداعظمؒ نے اپنی زندگی بھر کی کمائی اور جمع پونجی انتقال سے پہلے قوم میں تقسیم کردی۔ لیاقت علی خان نواب ابن نواب تھے، ہزاروں ایکڑوں کے مالک اور محلات میں رہنے والے تھے۔ انگلستان اعلیٰ تعلیم کے لیے گئے تو اپنا باورچی اور خادم ساتھ لے کر گئے۔ پاکستان کے وزیراعظم بنے تو سادہ طرزِ زندگی کی مثال بن گئے۔ اُس دور میں چینی راشن کارڈ پر ملتی تھی۔ کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ وزیراعظم ہائوس بھی کارڈ کا مرہون منت ہو۔ لیاقت علی خان کا وزیراعظم ہائوس راشن کارڈ کے مطابق چینی لیتا تھا۔ عام طور پر چینی کا یہ کوٹہ مہینے کے پہلے بیس اکیس دنوں میں ختم ہو جاتا تھا، بقایا نو دس دن وزیراعظم، ان کا خاندان اور مہمان پھیکی چائے پیتے تھے۔ اس کے پیچھے جذبہ کیا تھا؟ جذبہ شہری برابری اور قانون کی حکمرانی تھا کہ ملک کا قانون اور سسٹم سب پر ایک طرح لاگو ہو گا۔ ایثار اور قربانی کا یہ عالم، نوابزادہ لیاقت علی خان شہید ہوئے تو محترمہ رعنا لیاقت علی اور بچوں کے لیے سر چھپانے کی جگہ بھی نہیں تھی کیونکہ لیاقت علی خان نے وزیراعظم ہونے کے باوجود نہ پاکستان میں گھر الاٹ کروایا تھا اور نہ ہی زرعی زمین۔ بینک بیلنس نہایت مختصر تھا۔ کپڑوں کے چند جوڑے تھے۔ نوابزادہ لیاقت علی خان کہا کرتے تھے جب تک ہر پاکستانی کو چھت نہیں مل جاتی اور ہر مہاجر آباد نہیں ہو جاتا وزیراعظم کو گھر الاٹ کروانے اور زرعی زمین کا کلیم داخل کرنے کا ہرگز حق نہیں۔ دراصل یہ خلافت راشدہ کے سنہری دور کا ماڈل تھا جس کی قائداعظمؒ اور قائد ملت نے اتباع کرنے کی کوششیں کیں۔ وہ زندہ رہتے تو اس طرزِحکومت کی بنیادیں مضبوط کر جاتے لیکن زندگی نے وفا نہ کی اور اک دھوپ تھی جو ساتھ گئی آفتاب کے۔

مثالیں ان گنت لیکن کہنا یہ مقصود ہے کہ جذبہ انسان کو انسان سے ممیز کرتا، ممتاز کرتا اور عظمت کی بلندیوں پہ بٹھاتا ہے ورنہ اولاد آدم تو بظاہر ایک ہی جیسی ہے، ایک ہی طرح کی ساخت رکھتی اور ایک ہی جیسی نظر آتی ہے اور پھر لیڈر سے مراد صرف سیاسی لیڈر نہیں، مختلف شعبوں کے سربراہ وغیرہ سبھی اپنے اپنے دائرہ کار میں لیڈر ہوتے ہیں اور ان اصولوں کا طلاق اُن سب پر ہوتا ہے۔ لیڈرشپ کا اول اصول یہ ہے کہ آپ اپنے کردار سے دوسروں کیلئے مثال بنیں۔

٭٭٭


ای پیپر