سلیکٹڈ حکومت کو مزید وقت نہیں دے سکتے ،مسلم لیگی راہمنا حنا پرویز بٹ 
13 اکتوبر 2020 (16:17) 2020-10-13

انٹرویو: ابراہیم لکی

رکن صوبائی اسمبلی حناپرویزبٹ ملک کے معروف بزنس مین پرویزبٹ کی صاحبزاد ی ہیں،اوراپنے والد کے ساتھ کاروبار ی معاملات سے بھی منسلک ہیںاورایک کامیاب سیاستدان کے ساتھ ساتھ ایک کامیاب خاتون بزنس مین بھی ہیں،و ہ پہلی بار 2013ء کی اسمبلی میں مخصوص نشست پرکن نامزد ہوئیں اورپھردوسری مرتبہ 2018ء میں رکن نامزد ہوئیں ،ان کاشمارمسلم لیگ ن کی ان چند نوجوان خواتین رہنمائوںمیںہوتاہے جوملکی سیاست میںانتہائی متحرک دکھائی دیتی ہیں،اوراپنی پارٹی کے نظریات کی ترویج کیلئے سوشل میڈیاکابھرپوراستعمال کرتی دکھائی دیتی ہیں،ملکی وغیرملکی سطح پرسماجی ،اقتصادی اورسیاسی فورمزاورسیمینارمیں پاکستان کانام روشن کرتی ہیں،تنگ گلوبل لیڈرزکے پلیٹ فارم سے ورلڈ اکنامک فورم کے سیمینارمیں شرکت کے زریعے پاکستان میںنوجوانوں کی امیج بلڈنگ میںبڑا کام کیا،اسی طرح مختلف ممالک میںہونے والے مختلف موضوعات پرسیمناروں میںشرکت کی،اعلیٰ تعلیمی قابلیت کی حامل خاتون رکن اسمبلی پنجاب اسمبلی بزنس میںبھی کافی متحرک ہیںاوران چند ارکان اسمبلی میںشامل ہیںجن کی سماجی ،معاشی اورسیاسی مسائل سب سے زیادہ قراردادیں فائل کی جاتی ہیں،اورمختلف نوعیت کی قانون سازی میںبڑھ چڑھ حصہ لیتی ہیں،اسمبلی بزنس میںکئی قوانین میںان کی آئوٹ پٹ شاندار رہی،خواتین اوربچوں کے حقوق کی علمبردارہیں۔ 

قارئین جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن )کے سربراہ سا بق وزیراعظم محمدنوازشریف کے آل پارٹی کانفرنس میں خطاب کے بعد ملکی سیاست میںتیزی آچکی ہے،اپوزیشن جماعتیں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم)کے پلیٹ پرمتحد ہوچکی ہے اورحکومت کیخلاف فیصلہ کن محاذ پرسیاسی جنگ کیلئے صف بندی کرچکی ہے،جلسے جلسوں کے پروگرام ترتیب دیدیئے گئے ہیں،مسلم لیگ(ن)کے بارے میںبعض شکوک وشہبات ختم ہوچکے ہیںکہ وہ اپوزیشن کی جماعتوں کے ساتھ دل وجان سے نہیںچلتی،سابق وزیراعظم کے خطاب میںمسلم لیگ(ن)کی سیاسی حکمت واضح ہوچکی ہے،شہبازشریف کی گرفتاری کے بعد ایک نئی صورتحال پیداہوچکی ہے ،مریم نوازبھی میدان میںہیں بطور پارٹی کی مرکزی نائب صدر وہ بھی پوری طرح میدان میںہیں،ان تمام امورپربات چیت کیلئے ہم نے قارئین کی دلچسپی کیلئے مسلم لیگ (ن)کی خاتون رہنما اوررکن صوبائی اسمبلی حناپرویزبٹ کا’’روزنامہ نئی بات ‘‘کیلئے خصوصی انٹرویوکیاجوحاضرخدمت ہے۔

حناپرویز بٹ کاکہناتھاکہ تحریک انصاف کی سلیکٹڈ حکومت ہے جس کوعوامی حمایت حاصل نہیں ،اس حکومت نے کچھ لوگوں کے ساتھ ملکرمسلم لیگ (ن)کامینڈیٹ چھینااوراقتدارپرقبضہ جمالیا،یہی وجہ ہے کہ دوسال گذرگئے مگرتحریک انصاف ابھی تک اپنی حکومت کو عوامی حکومت کادرجہ نہیںدلواسکے ،دوسالوںمیں جس طرح نئے پاکستان کی آڑ میں قائد کے پاکستان کاحال کیاوہ پوری قوم کے سامنے ہے ،اس لئے عوام اورہم بطوراپوزیشن جماعت اوردیگراپوزیشن کی جماعتیں وزیراعظم عمرا ن خا ن کومنتخب وزیراعظم نہیں سمجھتے ، سلیکٹڈ حکومت پرانے پاکستان کابراحال کرکے رکھ دیاہے،عوام مہنگائی اوربے روزگاری کے سونامی میںتباہ ہورہے ہیں،قومی ادارے تباہ حالی کاشکارہیں،بیوروکریسی ان کے ساتھ کام کرنے کوتیارنہیں،عوامی مینڈیٹ چھیننے پرہم حکمران قومی مجرم ہیں،جنہوںنے عوامی حقوق پرڈاکہ ڈالااورپھرانتقامی سیاست کوفروغ دیکرسیاسی نظام کوشدید نقصان پہنچایا۔سابق وزیراعظم محمدنوازشریف اورکیپٹن ریٹائرڈمحمدصفدرپر پرغداری کے مقدمات سے پاکستان کونقصان ہوگا،جمہوری ادارے کمزورہونگے ،اس لئے موجودہ صورتحال میںہمیں تحمل سے کام لیناہوگاکیونکہ سلیکٹڈ حکومت چاہتی ہے کہ مسلم لیگ(ن)اورقومی ادارے آمنے سامنے آجائیں مگرہم کہتے ہیں اس سے حکومتی سازشی ٹولہ کاکچھ نہیںبگڑے گامگرملک کانقصان ہوگا ،جمہوری ادارے کمزورہونگے،سازشی ٹولے کاکیاہے وہ ادھرادھرچلے جائیںگے مگرہم نے ادھرہی رہناہے کیسے ممکن ہے کہ ہماری قیادت ریاستی ادارو ںکیخلاف کام کرے؟،حناپرویزبٹ کاکہناتھاکہ سوال تویہ تھاکہ گذشتہ عام انتخابات میںکس طرح عوامی مینڈیٹ چوری کیاگیا؟عمران خان کیسے اقتدارمیںآئے؟پنجاب میںاکثریتی پارٹی کوکس طرح اقتدارسے باہر رکھا گیا؟آرٹی ایس کیوںبیٹھ گیا؟تحریک انصاف دھرنے کے دنوںمیں حکومت کے خاتمہ کی بات کرتے تھے اورپھرمنتخب وزیراعظم سے استعفی کیوں مانگاگیا؟لہذامیںیہی کہوں گی کہ حالات نازک ہیں،حکومتی سازشی ٹولہ ملک کی بقاکیخلاف کام کررہاہے،آپ اندازہ لگائیں کہ غداری کے مقدمہ میںآزاد کشمیرکے وزیراعظم راجہ فاروق حید رکوبھی ملوث کردیاگیا،اب اس سے بھارت خوش ہورہاہے ،بھارت کویہ موقعہ کس نے دیا؟مگرمودی کے یارکا الزام میاںمحمدنوازشریف پرلگایاجارہاہے،تین ریٹائرڈ جرنیلوں پربھی غداری کامقدمہ قائم کردیاگیا جوحکومت کی ذہنی پستی کاپتہ دیتاہے،چلیں سیاستدان ایک دوسرے پر الزامات لگاتے رہتے ہیں،مقدمات ہوتے رہتے ہیںمگرکم ازکم حکومت مقدمہ درج کرتے ہوئے کچھ توسوچ لیتی کہ جن ناموں کو وہ شامل کررہی ہے اس کاعالمی سطح پرہمارے ملک کاکیامذاق بنے گا۔بحرحال ہمیںکسی سے محب الوطنی کاسرٹیفیکیٹ نہیںچاہئے ،کیونکہ دنیااورقوم میاںمحمدنوازشریف کوبخوبی جانتی ہے جس سے ملک کاناقابل تسخیربنانے کیلئے وطن کوایٹمی طاقت بنایا،باقی سیاسی باتیں سیاسی میدان میں ہونی چاہئے۔

سابق وزیراعظم محمدنوازشریف کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میںحناپرویزبٹ کاکہناتھاکہ آپ سابق وزیراعظم کی قانون اورآئین کی بالادستی کاعزم دیکھیں کہ وہ اپنی بیماراہلیہ (کلثوم نواز)کوبسترمرگ پرچھوڑ کراپنی بیٹی(مریم نواز)کاہاتھ پکڑے وطن واپس آئے ،جبکہ انہیںعلم تھاکہ وہ ائرپورٹ سے سیدھے جیل جائیںگے مگرانہوںنے قانون اورآئین کی عظمت کے سامنے سرتسلیم خم کیامگرآخرمیںکیانکلا؟جج ارشد ملک کا سکینڈل ،پھرآپ خوداندازہ لگائیںکہ کہ رول آف لاء(قانون کی حکمرانی)کی پاسداری کس نے کی؟حالانکہ وہ جانتے تھے کہ انہیںسیاسی انتقام کانشانہ بنایاجارہاہے ،اب آپ نے انہیںاشتہاری بنادیا،لوگ بھی سوچ رہے ہیں کہ ایک ایساشخص جوقانون کی حکمرانی کیلئے ملک واپس آتاہے اورپھرعلاج کیلئے باہر جاتا ہے ،مگرجس جج ارشد ملک نے انہیںسزا دی اس کے بارے میںپوری قوم جانتی ہے کہ اس نے سزاکس کے کہنے پردی،اورکیوں دی ،اس بارے میںمزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیںکیونکہ ہماری قوم بہت شعوروالی ہے،انہیںعلم ہے کہ کیاہوا؟اوران کے ووٹ کے تعدس کوکس نے پامال کیا۔میں پوچھناچاہتی ہوںکہ جج ارشد ملک کوآپ نے برطرف کرکے گھربجھوادیا،مگراس پرکوئی جے آئی ٹی نہیںبنائی گئی،عوام یہ پوچھنے پرحق بجانب ہیںکہ انہیںبھی انصاف کے اس معیاری کٹہرے میںکھڑا کیاجائے جس میںعوام کے مقبول لیڈرمحمدنوازشریف کوکھڑا کیاگیا۔

حکومت اوراپوزیشن کے جمہوری نظام میں ورکنگ ریلشن بارے ان کاکہناتھاکہ جب بھی عوام کے حقوق پرڈاکہ ڈالا جائے گا،عوامی مینڈیٹ چوری کرکے سلیکٹڈ حکومت لائی جائے گی وہاں عوامی حکومت کاتصورمٹ جائے گا کیونکہ کوئی بھی سلیکٹڈ حکومت عوام کے حقوق کی ترجمانی نہیں کرسکتی،وہ کسی صورت عوام کوریلیف نہیں دے سکتی ،اسی لئے ہمارے قائد محمد نواز شریف ’’ووٹ کوعزت دو‘‘کے بیانئے کی بات کرتے ہیں جس پرکچھ لوگ سیخ پاہوجاتے ہیںکیونکہ ہم عوام کے حقوق کے تحفظ کی بات کرتے ہیں،جوکچھ لوگوں کوہضم نہیںہوتی۔اسی لئے ہم اب بھی کہتے ہیںکہ صرف ایک ہی بیانیہ ہے کہ ووٹ کوعزت د و،تاکہ ایک عوامی حکومت ہوجوعوام کے مسائل کوترجیحی بنیادوں پرحل کرے،کیونکہ سلیکٹڈ حکومت جب بھی آئے گی عوام کے ووٹ کوعزت نہیں ملے گی۔

موجودہ سیاسی صورتحال بارے ان کاکہناتھاکہ اپوزیشن نے انہیںدوسال دیدیئے ،یہ کسی بھی حکومت کواپنی گڈگورننس دکھانے اورقومی معاشی ترقی کی سمت کومذید بہتربنانے کیلئے بہت ہوتے ہیں ،ہم نے سوچاکہ نہیںبھئی انہیں کچھ توموقعہ دیںحالانکہ حقیقت ہمیںعلم تھی،مگریہ ہماری توقعات سے بھی زیادہ بڑے نااہل اورنالائق نکلے جس پران کے اپنے لوگ تنگ آچکے ہیں۔ سلیکٹڈ وزیراعظم اوران کی نالائق ٹیم نے اپنی بری کارکردگی سے اپنے ہی پائوں پرکلہاڑی ماری،عمران خان جس کشتی پرسوارتھے اسی کوآگ لگادی۔ہم نے انہیںدوسال دیدیئے مگراب مذید وقت نہیںدے سکتے،جہاں تک فیٹف میںحکومت کوووٹ دینے کی بات ہے تومیری قیاد ت نے واضح کردیاتھاکہ ہم حکومت کونہیںپاکستان کوووٹ دے رہے ہیںکیونکہ جب بھی ملک کی سلامتی کی بات آئے گی تومسلم لیگ (ن)سب سے آگے ہوگی ،اس لئے یہ توواضح ہوگیاکہ ہم حکومت نہیںبلکہ ملک کوسپورٹ کررہے ہیںتاکہ ہمارا وطن زیادہ سے زیادہ مضبوط اورخودمختارہو۔ہم نے چارترامیم دیں وہ قومی نوعیت کی تھیں مگرحکومت نے ان ترامیم کوبھی اپنی انتقام کی بھینٹ چڑھادیا،ہم نے کہاکہ نیب کے قوانین میںپہلے سے ہی منی لانڈرنگ قانون لاگوہے،آپ کودوبارہ اس میںشامل نہیںکرناچاہئے، جبکہ اس حوالے سے سعدرفیق کیس میںسپریم کورٹ کافیصلہ بھی آچکاتھا،ہم کہتے تھے ایک عام شہری کو الزامات کے تحت سات دن کیلئے بغیروارنٹ گرفتارنہیںکرسکتے،اس لئے ہم نے بنیادی انسانی حقوق کامعاملہ اٹھایا،مگرسپیکرقومی اسمبلی نے جانبداری سے کام لیاحالانکہ اسے غیر جانبدارہوناچاہئے ،وزیراعظم پارلیمنٹ میںبات کرتے ہیںتواپوزیشن لیڈرکوبھی اتناہی حق ہے کہ وہ عوام کے حقوق کی ایوان میں  آواز بلند کریں، اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ بہت وقت گذرچکاہے ،اب حکومت کو مزید وقت نہیںدے سکتے ،مسلم لیگ (ن)آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیہ کے مطابق پوری طرح سیاسی میدان میںسیاسی جنگ کیلئے بھرپور تیار ہے، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم کے تحت اپوزیشن کی تمام جماعتیں متفق ہیںکہ اس فاشسٹ حکومت کوگھربجھواناہے ،کیونکہ عوام ا س حکومت سے سخت بیزارہوچکے ہیں،اورملک کی معاشی ترقی رک چکی ہے اورملک سنگین معاشی خطرات میںگھرا ہوا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے تحت اپوزیشن جماعتوںنے اپنی سیاسی جدوجہد کاآغازکردیاہے جوحکومت کے خاتمہ تک جاری رہے گی۔مسلم لیگ (ن)عوامی حقوق کیلئے اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔

سا بق وزیراعظم محمدنوازشریف کی واپسی کے حوالے سے ان کاکہناتھاکہ اول توحکومت خودنہیںچاہتی کہ وہ واپس آئیںکیونکہ سلیکٹڈ حکومت کیلئے نوازشریف اورمریم نوازایک بڑا سیاسی تھریٹ ہیں ،وزیراعظم عمران خان ان سے خوفزدہ ہے،نوازشریف جیل میں ہو، ہسپتال میںہوں یا بیرون ملک علاج کیلئے ہوں ،وہ حکومت کیلئے بڑا خطرہ ہیں،آپ نے ماضی میں دیکھاکہ مریم نوازنے جب عوامی رابطہ مہم چلائی توہرشہرمیںان کے جلسوں نے حکومت کی نیندیں حرام کردیں،جس پرحکومت اوچھے ہتھکنڈوں پراترآئی ،اس لئے میںکہتی ہوںکہ موجودہ وصورتحال میںجس طرح سابق وزیراعظم نے اے پی سی اورپارٹی کے فورمزپرخطاب کیااس سے حکومت اوران کے دوست کافی پریشان ہیں،اپوزیشن کی سیاسی جدوجہدکاآغازہوچکاہے جس کاانجام حکومت کاخاتمہ ہوگی،کیونکہ عمران خان کودوباتوں کابخوبی علم ہے کہ وہ سلیکٹڈ ہے اوروہ چوردروازے سے اقتدارمیںآئے ہیں، اور دوسرا وہ محمدنوازشریف کی پاپولیرٹی(عوامی شہرت)سے خوفزد ہیں۔اسی لئے توحکومت ہمارے قائد کی کافی پیتے ہوئے ایک تصویرسے ہل جاتی ہے،جبکہ مریم نوازکے ایک ٹوئیٹ سے صوبائی وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان سمیت ان کے چالیس کے چالیس ترجمان جن کوہٹادیاگیاہے ،وہ سب کے سب ہل جاتے ہیں،تواس میںبنیادی بات کیاہے کہ وہ ہماری لیڈرشپ کی عوامی شہرت سے گھبراتے اورڈرتے ہیں۔حناپرویزبٹ کاکہناتھاکہ سا بق وزیراعظم تمام مشکلات کے باوجود اپنے عوامی بیانئے کے ساتھ عزم وحوصلہ کے ساتھ کھڑ ے رہے اوران کی صاحبزادی مریم نوازنے اس بیانئے کے ساتھ مصمم ارادے سے مضبوط کھڑی رہیں،لوگ ان سے محبت کرتے ہیں، انہوں نے مشکل وقت میںپارٹی اورخاندان کے ساتھ کھڑے رہ کراپنی سیاسی اہلیت کوثابت کیا،وہ مسلم لیگ (ن)کاروشن ستارہ ہیں۔

حناپرویز بٹ نے کہاکہ ہم کسی ایمپائرکی انگلی کے اشارے پرچلتے ہیںنہ کسی اشارے کے منتظرہے ،مسلم لیگ (ن)کا ایک ایمپائر ہے جوصرف ہمارے عوام ہیں،اگرہم کسی اشارے کے منتظرہوتے تو 2018ء میںآرٹی ایس نہ بیٹھتا،ہماری لیڈنگ سیٹوں پرکیاہوا ،سبھی جانتے ہیں،ہماراایمپائر’’عوام‘‘اپنے قائد محمدنوازشریف سے محبت کرتاہے ،ہم چوردراوازوں سے نہیںآتے ،آپ آج صاف شفاف انتخابات کرالیں ،اوررزلٹ دیکھ لیں ،مسلم لیگ(ن)کلین سوئپ کریںگی۔حناپرویزبٹ کاکہناتھاکہ شریف خاندان پرجھوٹے کیسز بنائے گئے ہیں،ہمارا مطالبہ ہے ان پرجھوٹے کیس ختم کئے جائیں۔

٭٭٭


ای پیپر