نامور ہستیوں کا قبول اسلام 
13 اکتوبر 2020 (16:03) 2020-10-13

علی حمزہ

حضرت حمزہؓ کا قبولِ اسلام

نبوت کے چھٹے سال ایک دن ابوجہل کوہِ صفا کے پاس سے گزرا تو اس نے یہاں حضور نبی کریمﷺ کو اکیلے پاکر آپؐ کو تکالیف دیں اور پتھر مار کر سرمبارک پھاڑ دیا جس سے خون بہنے لگا۔ ابوجہل اُس واقعہ کے بعد خانہ کعبہ میں قریش کی محفل میں جابیٹھا۔ عبداللہ بن جدعان کی لونڈی نے یہ سارا منظر کوہِ صفا پر واقع اپنے مکان سے دیکھا تھا۔ تھوڑی دیر بعد حضرت حمزہؓ کمان کندھے پر لٹکائے شکار سے واپسی پر وہاں سے گزرے تو عبداللہ بن جدعان کی لونڈی نے سارا واقعہ ان کے گوش گزار کردیا۔ حضرت حمزہؓ گھر جانے کے بجائے سیدھے قریش کی محفل میں پہنچے اور ابوجہل کو جالیا، بولے کہ میرے بھتیجے کو بُرا کہا حالانکہ میں اُسی کے دین میں ہوں۔ آپؓ نے ابوجہل کے سر پر کمان مار کر اُسے زخمی کردیا۔ اس پر دونوں قبیلے بنومخزوم اور بنوہاشم ایک دوسرے کے خلاف بھڑک اُٹھے مگر ابوجہل نے یہ کہہ کر معاملہ ٹھنڈا کروا دیا کہ ابوعمارہ یعنی حضرت حمزہؓ کو جانے دو۔ میں نے ہی پہلے اُس کے بھتیجے کو بُرابھلا کہا۔ حضرت حمزہؓ اسلام نہیں لائے تھے لیکن قریش کی محفل میں بغیر کسی ارادے کے آپؓ کے منہ سے نکل گیا: ’’میں بھی اسلام قبول کرچکا ہوں‘‘۔

بعدازاں اللہ تعالیٰ نے آپؓ کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیا اور آپؓ حلقہ بگوشِ اسلام ہو گئے۔

حضرت عمرؓ کا قبول اسلام

حضرت حمزہؓ کے اسلام قبول کرنے کے تیسرے دن عمرؓ بن خطاب بھی مسلمان ہو گئے۔ قبول اسلام سے قبل آپؓ  مسلمانوں کے بدترین دُشمن تھے۔ اس دن وہ آپؐ کو قتل کرنے کے ارادہ سے ننگی تلوار لیے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ راستے میں ان سے ایک صحابیؓ جنہوں نے پوچھا ’’عمرؓ! ننگی تلوار لیے کہاں جارہے ہو‘‘ تو وہ بولے:’’محمدؐ کو قتل کرنے جارہا ہوں‘‘۔

صحابیؓ نے کہا: ’’محمدﷺ کو قتل کرکے کیا تم بنوہاشم اور بنوزہرہ سے بچ جائو گے؟‘‘

حضرت عمرؓ نے کہا ’’معلوم ہوتا ہے تُو بھی اپنے باپ دادا کے دین سے پھر گیا ہے‘‘۔ اس پر اللہ کے نبیﷺ کے صحابیؓ نے کہا: ’’عمرؓ! تمہیں حیران کر دینے کی بات نہ بتائوں؟ تمہاری بہن اور بہنوئی بھی اسلام قبول کرچکے ہیں‘‘۔

اتنا سننا تھا کہ آپؓ اپنے بہنوئی کے گھر پہنچے اور زور سے دروازہ پیٹنا شروع کردیا۔ اس وقت وہاں حضرت خباب بن ارتؓ، حضرت عمرؓ کی بہن اور بہنوئی کو ’’سورہ طہٰ‘‘ پڑھا رہے تھے۔ آپ کی آواز سُن کر وہ گھر کے اندر چھپ گئے اور آپؓ کی بہن نے سورہ طہٰ پر مشتمل صحیفہ چھپا دیا۔ اندر پہنچ کر آپؓ نے پوچھا: ’’یہ کیسی بھنبھناہٹ تھی جو میں نے تم لوگوں کے پاس سُنی؟‘‘

انہوں نے کہا ’’کچھ بھی نہیں، ہم باتیں کررہے تھے‘‘۔ اس کے بعد آپؓ نے ان سے پوچھا: ’’کیا تم بے دین ہوچکے ہو؟‘‘

آپ کے بہنوئی نے کہا: ’’اچھا عمرؓ! یہ  بتائو کہ اگر حق تمہارے دین کے خلاف ہوتو؟‘‘

یہ سنتے ہی حضرت عمرؓ نے اپنے بہنوئی کو مارنا پیٹنا شروع کردیا۔ آپؓ کی بہن بچانے آئیں تو آپؓ نے انہیں اتنی زور سے مارا کہ منہ سے خون نکلنے لگا۔

اس پر آپؓ کی بہن نے غصّے سے کہا ’’عمرؓ! اگر حق تیرے دین کے سوا ہو تو ، پھر پڑھا ’’میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں‘‘۔

کلمہ شہادت سنتے ہی آپؓ کا دل موم ہو گیا اور کہنے لگے ’’تمہارے پاس جو کتاب ہے مجھے بھی دو، میں بھی پڑھوں‘‘۔

آپؓ کی بہن نے کہا ’’تم ناپاک ہو، اُٹھو غسل کرو کیونکہ اسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں‘‘۔ غسل کے بعد حضرت عمرؓ نے بسم اللہ پڑھ کر سورہ طہٰ کی پہلی آیات تلاوت کیں تو کہنے لگے ’’یہ تو بڑا عمدہ کلام ہے، مجھے محمدﷺ کے بارے میں بتائو‘‘۔

یہ سُن کر حضرت خبابؓ بھی باہر نکل آئے اور کہنے لگے کہ ’’نبی کریمﷺ نے اللہ ربّ العزت سے دعا کی تھی ’’یااللہ! عمرؓبن خطاب یا ابوجہل بن ہشام میں سے جو تیرا محبوب ہو اُس کے ذریعے اسلام کو قوت بخش دے۔ عمرؓ! مبارک ہو اللہ تعالیٰ نے نبی کریمؐ کی دعا قبول کرلی ہے‘‘۔

پھر حضرت خبابؓ نے عمر بن خطابؓ کو نبی کریمﷺ کا پتا بتا دیا ’’وہ اس وقت کوہ صفا کے پاس دارِارقم میں ہیں‘‘۔

حضرت عمرؓ  فوراً حضور نبی کریمﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کرلیا۔ حضرت عمرؓ کے قبول اسلام کے بعد صحابہ کرامؓ خوش ہوگئے اور مسلمانوں کو کافی حوصلہ ہوا۔

حضرت عمرؓ اسلام قبول کرنے کے بعد ابوجہل کے گھر گئے۔

ابوجہل نے حضرت عمرؓ کو دیکھا تو کہا:’’خوش آمدید، کیسے آنا ہوا؟‘‘

حضرت عمرؓ بولے ’’میں تمہیں یہ بتانے آیا ہوں کہ میں نے اسلام قبول کرلیا ہے‘‘۔ یہ سنتے ہی ابوجہل نے دروازہ زور سے بند کردیا۔

پھر آپؓ اپنے ماموں عاص بن ہاشم کے پاس گئے، اسے اپنے اسلام قبول کرنے کے حوالے سے بتایا تو وہ بھی گھر میں گھس گیا۔

بعدازاں حضرت عمرؓ جمیل بن معمر جہمی کے پاس گئے جو پیٹ کا کچا تھا اور کوئی بات منٹوں میں شہر میں پھیلا دیتا تھا۔ آپؓ نے اسے بتایا کہ میں مسلمان ہوچکا ہوں تو اس نے چیخ کر کہا ’’خطاب کا بیٹا بے دین ہوگیا ہے‘‘۔

حضرت عمرؓ نے کہا ’’یہ جھوٹے ہیں، مسلمان ہوا ہوں، بے دین نہیں‘‘۔

یہ سن کر لوگ حضرت عمرؓ پر ٹوٹ پڑے۔ آپؓ لوگوں کو ماررہے تھے اور لوگ آپؓ کو یہاں تک کہ سورج سروں پر آگیا اور حضرت عمرؓ  تھک کر بیٹھ گئے۔

آپؓ کے گھر لوٹنے پر مشرکین مکہ دوبارہ اکٹھے ہوئے اور جلوس کی شکل میں آپؓ کو قتل کرنے کے لیے آپؓ کے گھر کا رُخ کیا۔ اسی وقت عاصم بن وائل سہمی آگیا۔ بنوسہم حضرت عمرؓ کے قبیلے بنوعدی کا حلیف تھا۔ اس نے پوچھا ’’عمرؓ کیا بات ہے؟‘‘

حضرت عمرؓ نے جواب دیا ’’میں نے اسلام قبول کرلیا ہے اس لیے یہ لوگ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ عاصم نے کہا’’یہ ناممکن ہے‘‘۔

اس کے بعد عاصم بن وائل سہمی باہر آیا اور لوگوں سے پوچھا ’’آپ لوگ یہاں کیوں آئے ہیں؟‘‘ مشرکین نے کہا کہ ’’حضرت عمرؓ نے اسلام قبول کرلیا ہے۔

عاصم نے کہا ’’تم اس کا کچھ نہیں بگاڑسکتے‘‘۔

یہ سن کر لوگ اپنے گھروں کو پلٹ گئے۔

حضرت عمرؓ  مسلمانوں کی طاقت

حضرت عمرؓ  اسلام کیا لائے مسلمانوں کی عزت، وقار اور دبدبہ بڑھتا ہی چلا گیا۔ آپؓ کے اسلام لانے سے قبل مسلمان چھپ کر عبادت کرتے تھے، حضرت عمرؓ اسلام لائے تو انہوں نے آپﷺ سے پوچھا: ’’اے اللہ کے رسولؐ! کیا ہم حق پر نہیں؟‘‘

آپﷺ نے فرمایا ’’ہاں‘‘۔

حضرت عمرؓ نے کہا ’’پھر ہم چھپ کر عبادت کیوں کریں، اس ذات پاک کی قسم جس نے آپﷺ کو حق دے کر بھیجا ہے ہم ضرور باہر نکلیں گے‘‘۔

چنانچہ مسلمان دو صفوں میں دارِ ارقم سے نکلے۔ ایک صف کے آگے حضرت حمزہؓ اور ایک کے آگے حضرت عمرؓ تھے۔ مسلمانوں کو مسجد حرام میں داخل ہوتے دیکھ کر قریش کے دل بجھ گئے۔

حضرت صہیبؓ کا ارشاد ہے ’’جب حضرت عمرؓ اسلام لائے تو اسلام ظاہر ہوا۔ اس کی اعلانیہ طور پر دعوت دی گئی۔ ہم حلقے لگا کر بیت اللہ کے گرد بیٹھے اور اس کا طواف کیا اور جس نے ہم پر سختی کی اُس سے انتقام لیا اور اُس کے بعض مظالم کا جواب دیا‘‘۔

٭٭٭


ای پیپر