کرونا کی دوسری لہر !
13 اکتوبر 2020 (16:00) 2020-10-13

جبران علی

پاکستان میں حالیہ دنوں کورونا وائرس کے نئے مصدقہ کیسز میں ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اگرچہ گزشتہ مہینوں کی صورتحال کے مقابلے میں ہم اسے 'معمولی' اضافہ کہہ سکتے ہیں، مگر اسے نظرانداز کرنا اس لیے خطرناک ہو سکتا ہے کہ آجکل دنیا کورونا وائرس کی دوسری لہر کا سامنا کر رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت 57 ممالک میں کورونا وائرس کے کیسز میں واضح کمی کے بعد دوبارہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

پچھلے دو ماہ میں کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں میں اضافے کا گراف نیچے جانے کے بعد پاکستان میں سماجی اور کاروباری سرگرمیاں بتدریج معمول پر آ گئی ہیں اور 15 ستمبر سے تعلیمی ادارے بھی کھولے جا چکے ہیں۔ ایسے میں کورونا وائرس کے نئے کیسز میں حالیہ اضافہ اور لوگوں کے درمیان وائرس کے پوشیدہ موجودگی انتہائی خطرناک صورتحال کو جنم دے سکتا ہے۔

ادھر  آزادکشمیر میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر دوبارہ لاک ڈاون نافذ کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔و زیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کی زیر صدارت اجلاس  میں آزادکشمیر میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز  پر تشویش کا اظہار  کیا گیا۔ وزیر اعظم نے اعلیٰ   افسران و انتظامیہ کو دو دن میں مکمل حکمت عملی اور بندش کو موثر بنانے کی تجاویزتیار کرنے کی ہدایت کر دی۔راجہ فاروق  حیدر  کا کہنا تھا کہ آزادکشمیرمیں مثبت آنے والے کیسز کی شرح  آٹھ اعشاریہ تین فی صد ہے،  جو پاکستان بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آزادکشمیر میں مذہبی اجتماعات سیاسی و سماجی تقریبات بھی محدود کی جائیں گی۔ گھر سے باہر اور دفاتر میں ماسک کی مکمل پابندی ہوگی، خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اس سے پہلے  حالات بے قابو ہو جائیں ہمیں سخت اقدامات کرنے ہیں۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے بازار غیر ضروری، دفاتر، تعلیمی اداروں پر مکمل و جزوی بندش کی تجاویز طے کرنے کی  ہدایت بھی کردی۔  علاوہ ازیں آزادکشمیر کے انٹری پوائنٹس پر چیکنگ ٹرانسپورٹ و تعلیمی اداروں میں ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کی بھی ہدایت کی۔

واضع رہے کہ جولائی کے وسط سے پاکستان میں کورونا وائرس کے روزانہ سامنے آںے والے نئے مریضوں کی تعداد نمایاں طور سے کم ہو گئی تھی تاہم اس کمی کی وجوہات اب بھی واضح نہیں ہیں۔ طبی ماہرین نے بارہا خبردار کیا ہے کہ احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنے کی صورت میں یہ بیماری دوبارہ شدت سے حملہ آور ہو سکتی ہے۔

ماہرین نے محرم کے آغاز سے پہلے بھی ایسا ہی انتباہ جاری کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اس مہینے سماجی سرگرمیوں اور میل جول میں اضافہ اس وبا کے دوبارہ پھیلاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق عشرہ محرم کے اختتام کے بعد کوورنا وائرس کے کیسز میں حالیہ اضافہ پچھلے تین ہفتوں میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے دوران ضروری احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنے کا ممکنہ نتیجہ ہو سکتا ہے۔اس سے پہلے مئی میں عیدالفطر کے موقع پر لاک ڈاؤن کھولے جانے کے بعد ملک بھر میں کوورنا وائرس بڑے پیمانے پر پھیلا تھا۔ اِسی بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے جولائی میں عیدالاضحٰی سے پہلے اور بعد میں حکومت نے ایک ہفتے سے زیادہ مدت کے لیے مکمل لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا تھا جِس کے نتیجے میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد میں کمی آ گئی تھی۔

حالیہ سرکاری سروے کے مطابق پاکستان کی 17.5 فیصد آبادی  یعنی تین کروڑ سڑسٹھ لاکھ سے زیادہ لوگ  کورونا وائرس کا شکار ہو چکی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہمارے ارد گرد موجود ہر سات اشخاص میں سے لگ بھگ ایک پچھلے کچھ مہینوں میں اس وبا کا نشانہ بن چکا ہے اگرچہ ان میں سے بہت کم لوگوں کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ ان حالات میں کورونا وائرس کے کیسز میں دوبارہ اضافہ بہت سے خدشات کو جنم دیتا ہے۔

دوسری طرف دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا کا پھیلاؤ جاری ہے اور آج کل اس بیماری کے روزانہ سب سے زیادہ کیسز ایشیا اور لاطینی امریکہ کے ممالک میں سامنے آ رہے ہیں۔ کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد کے اعتبار سے امریکہ کے بعد اب انڈیا دوسرے نمبر پر آ گیا ہے جہاں حالیہ دنوں اس بیماری کے نئے کیسز میں اچانک بڑے پیمانے پر اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ پچھلے دنوں انڈیا میں ایک دن میں ریکارڈ 90 ہزار نئے کیسز سامنے آئے تھے۔ انڈیا میں یہ صورتحال ایسے وقت میں جنم لے رہی ہے جب حکومت معاشی سرگرمیوں میں اضافے کے لیے سماجی پابندیوں کو نرم کرنے کے اقدامات کر رہی ہے۔

لاطینی امریکہ میں اس بیماری سے بری طرح متاثرہ ممالک میں برازیل سرفہرست ہے جہاں اب تک مصدقہ طور سے ایک لاکھ 26 ہزار اموات ہو چکی ہیں۔ حالیہ دنوں برازیل میں بھی کورونا کے کیسز میں دوبارہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں عراق، ایران اور مشرق بعید میں انڈونیشیا میں اس بیماری کی شدت میں کمی کے بعد ایک بار پھر اضافہ ہو رہا ہے۔ یورپ میں فرانس، سپین، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ میں اس وبا کی دوسری لہر آ چکی ہے جہاں اگست میں کورونا کے نئے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ متعدد یورپی ممالک نے اپنے ہاں مخصوص علاقوں میں دوبارہ لاک ڈاؤن اور اس سے ملتے جلتے حفاظتی اقدامات کرنا شروع کر دیے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق کورونا وائرس کی دوسری لہر آنے کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ جہاں جہاں اس وبا کا زور ٹوٹا ہے وہاں اسے دوبارہ پھیلنے سے روکنے کے لیے طے شدہ منصوبوں پر پوری طرح عملدرآمد نہیں ہوا۔ بہت سے ممالک میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں کمی آنے کے بعد حکومت اور عوام نے بنیادی احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کرہ ارض کی 60 سے 70 فیصد آبادی میں کورونا وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہونے تک اس کی دوسری اور تیسری لہر کا خطرہ موجود رہے گا۔ جرمن طبی ماہرین کہتے ہیں تمام براعظموں کے بیشتر ممالک میں وائرس کی دوسری لہر کافی حد تک یقینی ہے تاہم اس کی شدت میں فرق ہو سکتا ہے۔عالمی ادارہ صحت نے متنبہ کیا ہے کہ سردیوں میں کورونا وائرس کی دوسری لہر آئی تو لاکھوں مزید لوگ ہلاک ہو سکتے ہیں۔ ستمبر اور اکتوبر میں درجہ حرارت کم ہونے کے باعث کورونا کی شدت بڑھ سکتی ہے۔ ماہرین نے اس کا موازنہ سو سال پہلے آںے والے سپینش فلو سے کیا ہے جس کی شدت موسم گرما میں کم ہو گئی تھی، جبکہ ستمبر اور اکتوبر میں اس کی شدت میں اضافہ ہو گیا تھا جب دنیا کے مغربی کرے میں سردی کا موسم ہوتا ہے۔ سپینش فلو کی دوسری لہر میں لگ بھگ پانچ کروڑ انسان ہلاک ہو گئے تھے۔

کیا کورونا کی دوسری لہر سے بچاؤ ممکن ہے؟اس سوال کا جواب طبی ماہرین کچھ یوں دیتے ہیں کہ کورونا کے نئے کیسز کی تعداد میں کمی کو دیکھتے ہوئے خود کو محفوظ سمجھنے کے غلط احساس میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ وبا کا خاتمہ ابھی بہت دور کی بات ہے اس لیے احتیاطی تدابیر پر پہلے کی طرح عملدرآمد ضروری ہے۔

 چند ممالک کے علاوہ دنیا بھر میں اس بیماری کا پھیلاؤ جاری ہے۔ خاص طور پر اس وائرس نے ایسے ممالک میں زیادہ تباہی مچائی ہے جہاں صحت کا نظام اچھا نہیں ہے، جہاں لوگ گنجان آباد علاقوں میں بستے ہیں اور جہاں ملکی رہنماؤں نے معیشت کو صحت پر ترجیح دی اور اس وبا پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات لاگو کرنے سے انکار  کیا۔

عالمی ادارہ صحت کے طبی ماہرین کہتے ہیں کہ کورونا وائرس کی پہلی لہر کی طرح دوسری لہر کو روکنا  بھی ہمارے بس میں نہیں ہو گا۔ لیکن اب ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ اس کے پھیلاؤ کی رفتار کم کیسے کی جا سکتی ہے۔ ایسا تبھی ممکن ہے جب ہر فرد ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، اجتماعات کے انعقاد اور ان میں شرکت سے گریز کیا جائے اور سماجی فاصلے نیز انفرادی طور پر اپنی حفاظت کے لیے تمام احتیاطی تدابیر پہلے کی طرح برقرار رکھی جائیں۔

پاکستان میں کورونا کے پھیلاؤ میں بظاہر نمایاں کمی آنے کے بعد حکومت نے سماجی و کاروباری سرگرمیوں اور سیاحت پر پابندی اٹھا لی ہے۔ اسی طرح تعلیمی سرگرمیاں بھی اس ماہ شروع ہو رہی ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پابندیاں اٹھائے جانے کا عمومی مطلب یہ لیا جاتا ہے جیسے اب کورونا سے کوئی خطرہ نہیں رہا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ سماجی پابندیوں کے بغیر یہ خطرہ پہلے سے کئی گنا زیادہ بڑھ گیا ہے اور ایسے میں سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنے اور انفرادی طور پر خود کو وائرس سے پاک رکھنے کے اقدامات نہ کرنے کے نتیجے میں اس وبا کو دوبارہ پھیلنے سے روکنا ممکن نہیں ہو گا۔

پاکستان میں سیاحت پر پابندی اٹھائے جانے کے نتیجے میں گزشتہ دنوں کاغان، ناران میں کورونا وائرس کے بہت سے نئے کیسز سامنے آئے تھے جو کورونا کے خلاف ایس او پیز پر عمل نہ کرنے کا نتیجہ تھا۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تعلیمی سرگرمیاں بحال کیے جانے کے بعد ایس او پیز پر عملدرآمد میں ناکامی بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا باعث ہو سکتی ہے۔

واضع رہے کہ رواں برس جنوری کے دوران چین میں کورونا وائرس کے آغاز سے پہلی موت ہونے کے صرف 10 ماہ بعد ہی عالمی سطح پر اس وائرس سے 10 لاکھ مصدقہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ یہ وائرس اب بھی پوری دنیا میں پھیل رہا ہے اور 188 ملکوں میں تاحال تین کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ مصدقہ متاثرین موجود ہیں۔ابتدائی طور پر اس پر قابو پانے میں بظاہر کامیابی ہوئی لیکن اب دنیا کے کئی ممالک اور خطوں میں وائرس دوبارہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔عالمی ادارہ صحت نے متنبہ کیا ہے کہ کارآمد ویکسین کے وسیع استعمال سے قبل اموات کی مجموعی تعداد 20 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔دنیا کے کئی علاقوں میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین گذشتہ کچھ مہینوں میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ جیسے ایشیا میں انڈیا کے اعداد و شمار کے مطابق متاثرین اور اموات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔انڈیا کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق متاثرین کی تعداد 60 لاکھ ہو گئی ہے۔ یہ امریکہ کے بعد دنیا میں کورونا متاثرین کی سب سے بڑی تعداد ہے۔عالمی وبا انڈیا میں دنیا کے کسی بھی حصے کے مقابلے زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ستمبر کے دوران ملک میں اوسطاً روزانہ تقریباً 90 ہزار نئے متاثرین کی تصدیق کی گئی۔انڈیا میں نئے متاثرین میں اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے کہ جب حکومت نے وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عائد پابندیوں کو معیشت کی بحالی کے لیے ختم کر دیا۔لیکن نئے متاثرین کی تصدیق میں اضافہ بڑھتی ہوئی ٹیسٹنگ کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ تاہم انڈیا میں اس کی آبادی کے اعتبار سے اموات کی شرح نسبتاً کم ہے۔

٭٭٭


ای پیپر