ہوش مندی سے چلیں
13 اکتوبر 2020 (12:02) 2020-10-13

حکومت نے ایک بار پھر بھرپور بدنامی کمانے کے بعد مسلم لیگ ن کی قیادت پر قائم کیا گیا غداری کا مقدمہ واپس لے لیا ہے۔ مگرنواز شریف پر مقدمہ قائم رہے گا۔ اس مقدمے کو ختم کرنے کا فیصلہ کہاں ہوا، کس نے کیا اور کیوں ہوا۔ اتنے اہم مقدمے کا اندراج سی سی پی او کے علم میں لا کر کیا گیا تھا یا نہیں، مقدمہ اس لیے تو نہیں بنایا گیا تھا کہ مسلم لیگ کی کہانی تمام کر دی جائے۔ نواز شریف کے پہلی بار وزیر اعظم بننے کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ ان کے مطابق 1990 میں وزارت عظمیٰ کا اصل امیدوار تو غلام مصطفی جتوئی تھا، اس کام کے لیے اسے ضیا الحق نے چنا تھا مگر ان کی موت کے بعد ایسا نہ ہو سکا۔ الیکشن ہوئے، نواز شریف کے پاس اسلامی جمہوری اتحاد کا کنٹرول تھا۔ پنجاب کے کامیاب ایم این ایز نے متفقہ طور پر کہہ دیا نواز شریف کے سوا کوئی اور قبول نہیں۔ جب بے نظیر بھٹو کو اقتدار سے نکالا گیا تو انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی برطرفی کا حکم نامہ جی ایچ کیو میں تیار ہوا۔ بے نظیرکے مخالف اسلامی جمہوری اتحاد کو کامیاب کرانے کے لیے رقم تقسیم کی۔ نواز شریف وزیر اعظم بنے تو آٹھویں ترمیم ختم کرنے کا اعلان کرنا ان کو مہنگا پڑا۔ جن لوگوں نے اسلامی جمہوری اتحاد بنایا تھا انہوں نے پہلے جتوئی، مولانا سمیع الحق پھر جماعت اسلامی کو نواز شریف سے جدا کیا۔ ایم این ایز کی بڑی تعداد بلکہ بے نظیر نے اپنی جماعت کے استعفے بھی ایوان صدر میں جمع کرا دیئے۔ نواز شریف نے اسمبلی توڑنے سے ایک رات پہلے خطاب کیا جس میں پیغام تھا ”استعفیٰ دوں گا نہ اسمبلیاں توڑوں گا“ اگلے روز اسمبلیاں برخاست تھیں۔ یہ تھی وہ توڑ جوڑ کی سیاست۔ عدالت عظمیٰ نے نواز کی حکومت بحال کر دی مگر چپقلش ختم نہ ہو سکی۔ آرمی چیف عبدالوحید کاکڑ نے بحران ختم کرنے کے لیے فارمولا پیش کیا۔ یہ فارمولا 1973 کے دستور کے خلاف تھا مگر اس سے بحران ختم ہو گیا۔ اس سے ملتا جلتا کردار گورنر جنرل غلام محمد کے زمانے میں ایوب خان نے ادا کیا تھا۔ آخری کمانڈر انچیف جنرل گل حسن نے صدر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے عہدے ذوالفقار علی بھٹو کو پلیٹ میں رکھ کر پیش کیے تھے۔ نواز شریف تو تین بار 

اس سازش کا شکار ہوا ہے۔ آج اس کو غداری کے الزام کا سامنا ہے۔ وزیر اعظم نے لائرزفورم سے خطاب کرتے ہوئے ایسے ایسے شگوفے چھوڑے کہ ایک بار تو یہ یقین نہ آیا کہ پاکستان کے وزیر اعظم بول رہے ہیں یا کوئی اور۔ موجودہ سیاسی بحران میں تو ایسے لگا کہ کرکٹ میچ کے فیصلہ کن آخری اوور میں باولر کی ہر گیند کو باؤنڈری کے اوپر سے پھینکا جا رہا ہو۔ شکست کی ذمہ داری باولر پر تھی۔ اب ہمارے کپتان گواہی لا رہے ہیں کہ آئی ایس آئی سے پوچھو کہ میں کیسی زندگی گزار رہا ہوں۔ میں جمہوریت ہوں۔ لندن میں بیٹھا نواز شریف یہ کر رہا ہے، وہ کر رہا ہے۔ نواز شریف نے یہی کہا کہ ملک میں کبھی ایک نظام ہوتا کبھی دوسرا کبھی تیسرا۔ پاکستان کا آئین ہے لیکن آئین کے مطابق عدلیہ، پارلیمنٹ اور دوسرے اداروں کو نہیں چلنے دیا جاتا۔ ان کے مطابق آئین کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کی جاتی ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ ہم غلام بن کے نہیں رہ سکتے اگر ایسا ہوتا رہا ہے تو آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔ ہم پاکستان کو باوقار ملک بنائیں گے۔ اسکا وہی راستہ ہے جو میں نے اے پی سی میں دیا۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ آج ملک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکا ہے۔ آج تک ملکی مسائل کی اصل جڑ کی تشخیص تک نہیں ہوئی یا اس پر کوئی بات نہیں کرتا۔ نواز شریف کو تیسری بار وزیر اعظم کے عہدے سے جس طرح ہٹایا گیا تھا۔ اب وہ منکشف ہو رہا ہے۔ ارشد ملک سے بشیر میمن تک ایک جیسی کہانی ہے۔ پہلے نواز شریف اکیلا تھا، اب نہیں ہے۔ ان کی شہریت اور شناختی کارڈ کرنے اور لندن سے واپس لانے کی باتیں ہو رہی ہیں، ابھی تک ایک نوٹس کی تعمیل لندن سے نہ کرانے والی حکومت نواز شریف کو کیسے لائے گی۔ پاکستان کا سیاسی محاذ گرم ہو چکا۔ اپوزیشن بھر پور وار کی تیاری کرنے جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں ہر طرف سے اپوزیشن کی یلغار ہو گی۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا، ڈاکوؤں کے اتحاد نے فیٹف بلز پر بلیک میل کیا، فوج کیخلاف جو یہ زبان استعمال کر رہے ہیں وہ بھارتی ایجنڈا ہی ہے۔ اپوزیشن کو پیغام دینا چاہتا ہوں، آپ نے جو کرنا ہے کر لیں، چاہے جتنے مرضی جلسے کر لیں، قانون توڑا تو جیل میں جائیں گے۔ میں آج پیسہ بنانا شروع کر دوں تو سب سے پہلے آئی ایس آئی کو پتا چلے گا کیونکہ پاکستانی خفیہ ادارہ دنیا کی ٹاپ کی ایجنسی ہے، وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں کھل کر پاکستان میں اداروں کے کردار پر روشنی ڈالی ہے۔ آئی ایس آئی کا ماضی کامیابیوں سے عبارت ہے۔ اس کا کام ملک کی سالمیت اور پاکستان دشمنوں پر نظر رکھنا ہے، اس کا کام یہ نہیں جو وزیر اعظم صاحب نے بیان کیا ہے۔ اصغر خان کیس میں بھی اس بارے میں فیصلہ ہو چکا ہے۔ نواز شریف کی بات غور سے سنو، وہ غدار نہیں نہ عمران خان غدار ہے۔ ولی خان غدار تھا نہ جماعت اسلامی غدار ہے۔ یہ فتویٰ سازی ایوب دور میں عروج پر تھی۔ جماعت اسلامی نے سہروردی کی جمہوری تحریک کو آگے بڑھایا تو پہلے اس کے جلسے پر گولیاں چلیں پھر جماعت کو خلاف قانون قرار دیا ان کے لیڈروں پر غداری کے مقدمے بنے۔ آج اصل شکایت یہ ہے کہ الیکشن میں اداروں کے کردار کی بات ہو رہی ہے۔ اس پر غور کرنا چاہیے۔ 16 اکتوبر سے اپوزیشن کے بڑے جلسے شروع ہو رہے ہیں۔ عمران خان کو پی ڈی ایم کے سربراہ سے بات کرنا پڑے گی۔


ای پیپر