یہ وہ سحرتونہیں
13 اکتوبر 2020 (11:58) 2020-10-13

ہم توسمجھ رہے تھے کہ شائدکچھ معاشی اورسیاسی مجبوریاں ایسی ہیں کہ جس کی وجہ سے نئے پاکستان میں دوسال سے بدقسمت،مجبور،لاچاراوربے زبان،، عوام،، نامی مخلوق کانا صرف خون پرخون چوساجارہاہے بلکہ ان کے تن بدن سے گوشت بھی نوچاجارہاہے۔ویسے دوسال سے مہنگائی کے پہاڑتلے دبے اور غربت، بیروزگاری، بھوک و افلاس کے انگاروں پرجلنے والے ان بدقسمت انسانوں کے تن بدن پرتواب گوشت نام کی کوئی چیزباقی رہی نہیں ہے کیونکہ ان غریبوں کے لاغروکمزورجسموں پرگوشت پوست کی جوہلکی سی آمیزش تھی وہ بھی کپتان کی اس لاجواب اوربے مثال حکمرانی کی برکت سے غائب ہوگئی ہے۔اب جسم کے نام پرغریبوں کی صرف خشک ہڈیاں اورڈھانچے ہی رہ گئے ہیں۔مگریہ ظالم ان ہڈیوں اور ڈھانچوں کو چوسنے سے بھی باز نہیں آ رہے۔  غریبوں کی ہڈیوں سے ہڈیاں بنانے یاٹکرانے کے اس حکومتی عمل جسے ہم کوئی معاشی، سیاسی یا حکومت کی اور کوئی مجبوری سمجھ رہے تھے کپتان نے اسے اپنی پارٹی کامنشورقراردے دیاہے۔ میرے کپتان فرمارہے ہیں کہ حکومت دوسال سے جوکچھ کررہی ہے وہ ان کی پارٹی تحریک انصاف کامنشورہے۔ہم نے توتحریک کاجومنشورپڑھاتھااس میں توعوام کاخون پینے اورہڈیاں چوسنے کاذکرنہیں تھا۔اس منشورکے اندرتوانصاف عام،احتساب سرعام اوراقتدارمیں عوام جیسے حدسے زیادہ میٹھے،پیارے اورخوش کن الفاظ درج تھے۔یہ کیا۔۔؟آپ دوسالہ تاریخ اٹھاکردیکھیں۔پی ٹی آئی حکومت کی تمام فائلیں ٹٹولیں۔آپ کوکہیں انصاف عام اوراحتساب سرعام نظرنہیں آئے گا۔کپتان کے نادان کھلاڑیوں یااناڑیوں کی جانب سے آج ملک کے اندرسرعام احتساب کاجوڈھنڈوراپیٹاجارہاہے انتہائی معذرت کے ساتھ اسے سرعام انتقام کانام تودیاجاسکتاہے پرسرعام احتساب کانہیں۔کیونکہ سرعام احتساب کی لاٹھی اتنی ظالم ہوتی ہے کہ وہ پھراپنے اورپرائے کونہیں دیکھتی۔جوبھی چور ہوتا ہے، لٹیرا اور ڈاکو۔ سرعام احتساب کی لاٹھی پھراس کے سروبدن پرپڑتی ہے مگر ان دو سال میں احتساب کی زدمیں آنے والے چہرے گواہ ہیں کہ پی ٹی آئی کی یہ سرعام احتساب والی لاٹھی سیاسی مخالفین کے علاوہ کسی پرزوروطاقت سے آج تک نہیں پڑی۔،،آمدن سے زائداثاثے،،اس ایک نکتے پرنہ جانے مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی سمیت سیاسی مخالف صفوں میں شامل کن کن شخصیات کواندرنہیں ڈالا گیا۔۔؟ اپوزیشن لیڈرشہبازشریف آج بھی بیٹے سمیت سرعام احتساب کی ہواکھارہے ہیں مگروہ لوگ جنہیں ہم نہیں۔ہمارے یہ وزیراعظم صاحب ماضی میں چوراورڈاکوسے ہٹ کر دوسراکوئی نام نہیں دیتے تھے آج بھی فرشتے بن کراقتدارکے مزے لوٹ رہے ہیں۔خیر۔اقتدارکے مزے ہمارے کپتان لوٹیں یاچپڑاسی بننے کی اہلیت نہ رکھنے والے وزیراورمشیر۔اس سے ہماراکوئی تعلق ہے اورنہ ہی کوئی لینادینا۔کپتان ویسے بھی اس وقت جنگل کے بادشاہ ہیں اوریہ جنگل کے بادشاہ کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ کس کووزیربنائیں اورکس کوچپڑاسی۔لیکن اتناضرورکہتے ہیں کہ دوسال سے اس ملک کے اندرچپڑاسیوں اورمنشیوں نہیں غریب عوام کے ساتھ جوکچھ ہورہاہے اب کانہیں پتہ لیکن 2018کے الیکشن سے پہلے تک یہ کپتان کامنشورتھااورنہ ہی تحریک انصاف کا۔پی ٹی آئی کامنشورتوانصاف کوعام کرکے غریب عوام کواقتدارمیں شامل کرناتھا۔پی ٹی آئی کامنشورتوغریبوں کے منہ سے نوالہ چھیننے والوں کے ہاتھ اورزبانیں کاٹ کران کے حقوق کاتحفظ کرناتھا۔پی ٹی آئی کامنشورغریبوں کوبے گھراورایک ایک وقت کی روٹی کے لئے اس طرح محتاج بناناہرگزنہیں تھا۔کپتان تو22سال تک چوکوں،چوراہوں،گلی اورمحلوں میں چیخ چیخ کرکہتے رہے کہ جب ملک میں ہماری حکومت آئے گی توپھراس ملک کاکوئی غریب بھوکانہیں سوئے گا۔کوئی غریب علاج نہ ہونے کے باعث وقت سے پہلے نہیں مرے گا۔بقول وزیراعظم عمران خان ان کی حکومت اگردوسال سے پی ٹی آئی منشورپرچل رہی ہے توپھردوسال سے اس ملک کے اندربھوک وافلاس کے سائے چارسو کیوں پھیل رہے ہیں۔۔؟ حکومت اگرتحریک انصاف کے منشورپرچل رہی ہے توپھرروزانہ سیکڑوں اورہزاروں غریب علاج معالجے کی سکت اورطاقت نہ رکھنے کی وجہ سے تڑپ تڑپ کرجان کیوں دے رہے ہیں۔۔؟حکومت دوسال سے ملک کے اندرجوکچھ کررہی ہے یہ واقعی اگرپی ٹی آئی کامنشورہے توپھرسرکاری محکموں کے 

ہزاروں اورلاکھوں ملازمین اپنے حقوق کے لئے دربدراورسراپااحتجاج کیوں ہیں۔۔؟کپتان کویوٹرن لینے کے ساتھ بھولنے کی بھی عادت ہے شایدکہ وہ بھول رہے ہوں لیکن انتہائی معذرت کے ساتھ دوسال سے حکومت جس ڈگرپرچل رہی ہے یہ نئے پاکستان کاکوئی منشورتوہوسکتاہے لیکن پی ٹی آئی کانہیں۔جب سے ملک میں کپتان کی حکومت آئی ہے۔ اس وقت سے غریبوں کاجیناحرام ہونا شروع ہوگیاہے۔ہم سمجھ رہے تھے کہ اقتدارمیں آکرعمران خان کہیں چوروں،لوٹوں اورلٹیروں کاجیناحرام کریں گے لیکن یہاں تومعاملہ ہی الٹ نکلا۔ چور،ڈاکو،لوٹے اورلٹیرے آج بھی اس ملک کے اندرعیاشیوں پرعیاشیاں کررہے ہیں لیکن میرے کپتان نے غریب کے لئے سانس لینابھی مشکل سے مشکل تر بنا دیا ہے۔ جو غریب نواز اور زرداری کے دور میں کلو کا بوجھ بھی نہیں اٹھا سکتے تھے  کپتان نے ان غریبوں پریکدم منوں کے حساب سے بوجھ کی بوریوں پربوریاں لاددی ہیں۔کپتان کے پرفریب نعروں،دعوؤں،وعدوں اورپرجوش تقریروں پرآج بھی کچھ نادان اچھل اچھل کر ناصرف کودتے ہیں بلکہ بیگانے شادی میں عبداللہ دیوانے کی طرح ناچتے بھی ہیں لیکن حق اورسچ صرف یہ ہے کہ کپتان کی دوسالہ حکمرانی نے غریبوں کی پیٹھ دیوارکے ساتھ لگادی ہے۔پہلے پھربھی غریب کسی طریقے سے سسک سسک کرجی رہے تھے لیکن کپتان نے غریبوں کے جینے کے لئے اس ملک میں اب چھوڑاہی کچھ نہیں۔جس دال روٹی کے چندنوالوں پرغریب آہیں بھرتے اورسسکیاں لیتے تھے اس دال اورروٹی کومیرے کپتان نے اقتدارمیں آنے کے ساتھ ہی ایسے پرلگادیئے ہیں کہ اب دال روٹی کاحصول بھی غریبوں کے لئے ممکن نہیں رہا ہے۔ جو کپتان کل تک کنٹینرز پر کھڑے ہوکر غریبوں کونئی زندگی دینے کے خواب اورسپنے دکھایاکرتے تھے اس کپتان نے حکمران بن کر انہی غریبوں سے جینے کاحق بھی چھین لیا ہے۔ مہنگائی، غربت، بیروزگاری، بھوک وافلاس کوعام کر کے غریبوں کاجیناحرام کرنااگرپی ٹی آئی اور کپتان کامنشورہے توپھرایسے منشور اور دستور کو غریبوں کااس شعرکے ساتھ……

یہ داغ داغ اجالایہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں 

 دوربہت دورسے سلام۔


ای پیپر