امریکہ افغانستان سے انخلا کے لئے کوشاں
13 اکتوبر 2020 (11:48) 2020-10-13

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ٹویٹر پر اعلان کیا تھا کہ وہ ”لامتناہی جنگوں“ کے خاتمے کے وعدے کو پورا کرنے کے لئے کرسمس سے قبل افغانستان سے تمام امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگرچہ یہ اقدام عام امریکی کے لئے خوش آئند ہے، لیکن مشن کو نامکمل چھوڑنا کبھی قابل تعریف اقدام نہیں رہا۔ در حقیقت، اس طرح کا عمل مسائل کو برقرار رکھنے اور دہشت گرد تنظیموں و غیر ریاستی کارکنوں کے پنپنے کے مقام کے قیام کو یقینی بناتا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ امریکی قومی سلامتی کے سابق مشیر ایچ آر میک ماسٹر، جو اب ہوور انسٹی ٹیوشن میں ایک سینئر فیلو ہے، معاملات کو صرف اپنے نقطہ نظر سے دیکھتا ہے اور دیگر عوامل دیکھنے میں ناکام رہتا ہے کہ اس کی پالیسی کا ردعمل کیا آ سکتا ہے۔ بہت سارے معاملات میں ایسا رد عمل آنے کے باوجود اس کے فیصلوں میں ایک مطابقت پائی جاتی ہے، جو سیاسی منصوبہ بندی تو ہو سکتی ہے اسٹریٹجک پلان نہیں۔

عراق اور افغانستان دونوں کے حالات امریکہ کی خواہش کا شکار ہیں۔ نائن الیون حملوں کے بعد، امریکہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خود ساختہ بہانے کے تحت عراق چلا گیا۔ یہ سوچ کر کہ وہ سارے نظام کو تبدیل اور جمہوریت قائم کر سکتا ہے۔ یہ عزائم اور خواب تو تھے لیکن کوئی قابل عمل منصوبہ نہیں۔ امریکہ نے فوج اور پولیس کا خاتمہ کر کے شورش کو راہ دی، جس کی وجہ سے تشدد کا ماحول پیدا ہوا۔ اس افراتفری نے عراقی نظام میں ایران کی سہولت کاری کی۔ تاہم، کچھ سال کے انتشار کے بعد، امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کو احساس ہوگیا کہ عراق کو ایک جامع منصوبے کی ضرورت ہے۔ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کی سربراہی میں، امریکہ نے 2007 میں ”سرج“ کا آغاز کیا۔ اس منصوبے کے تحت غیر ریاستی کرداروں کے خلاف کریک ڈاؤن اور عراق مستحکم ہوا۔

2008 میں، ایک نئے امریکی صدر کا انتخاب ہوا۔ باراک اوباما کا سارا بیانیہ عراق جنگ کی مخالفت کی بنیاد پر تھا۔ اس بیانیے کو انتخابی منشور کی حیثیت حاصل تھی۔ اس حقیقت کے باوجود کہ سرج آپریشن کامیابی کے ساتھ جاری تھا، اوباما نے کہا کہ امریکی عوام فوجیوں کے تابوت دیکھ دیکھ کر تھک چکے ہیں لہٰذا اس آپریشن کو ختم کیا جاتا ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ قبل از وقت اور افراتفری سے دستبرداری سے انتہا پسندی میں اضافہ ہوا۔ امریکی انخلا کے بعد، اس کے عراقی حلیفوں سے کیے گئے وعدے فوری طور پر فراموش کر دیئے گئے، جس نے سفاک وزیر اعظم نوری المالکی کو انتقام لینے کا موقع فراہم کیا۔ امریکہ کی طرف سے دھوکہ دہی کی وجہ سے القاعدہ سے وابستہ گروہوں کی بحالی ہوئی جو بالآخر داعش کے سامنے آنے کا باعث بنی۔ اسی وجہ سے ایران کو بھی اپنے قدم جمانے کا موقع ملا۔

افغانستان بھی اسی جلد بازی کا شکار ہوا۔ 1980 کی دہائی میں، افغانستان سوویت اور امریکیوں کے مابین مقابلے کا میدان تھا۔ امریکہ نے خفیہ طور پر مجاہدین کو اسلحہ اور تربیت دی۔ تاہم جب سوویت یونین شکست کے بعد افغانستان سے نکل گیا تو امریکہ نے اس ملک کو خانہ جنگی کا شکار ہونے کے لئے چھوڑ دیا، جس کے بعد 1996 میں طالبان افغان اقتدار پر قابض ہو گئے۔ 9/11 کے دو ماہ بعد ہی، امریکی افواج کے ذریعہ طالبان کو اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا۔

یہ آپریشن ٹھیک چل رہا تھا لیکن 2003 میں امریکہ عراق کی طرف مائل ہو گیا۔ اسی سال یکم مئی کو، سیکرٹری دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ نے افغانستان میں ”بڑی لڑائی“ کے خاتمے کا اعلان کیا۔ امریکہ نے اپنی افواج کی تعداد میں تیزی سے کمی کی مگر بش کی صدارتی مدت کے اختتام کے ساتھ ہی اسے احساس ہوا کہ افغانستان میں مزید فوجیوں کی ضرورت ہے۔ 2011 میں اوباما کے دور اقتدار میں افغانستان میں تشدد میں مزید اضافہ ہوا۔ ٹرمپ، اوباما کی طرح، اب انخلا کا انتخابی وعدہ پورا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ طالبان سے مذاکرات کر رہے ہیں، لیکن وہ اپنی شرائط تسلیم کیے جانے تک جنگ سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ افغان عوام اور سکیورٹی فورسز آج دہشت گردی کے اصل اہداف ہیں اور افغان حکومت اب بھی اپنی سلامتی برقرار نہیں رکھ سکتی۔ دوری طرف امریکہ نے اپنی غلطیوں سے سبق حاصل نہیں کیا اور وہ اب بھی اسٹریٹجک نرگسیت کا شکار ہے۔

اس طرح کی سوچ کے ساتھ امریکہ کس طرح کسی اتحاد کا قیام اور اتحادیوں کی وفاداری حاصل کر سکتا ہے؟ جب امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ اس طرح کے معاملات کرتا ہے، جو اس کے خودساختہ نقطہ نظر کے مطابق ہوں، تو وہ اپنے دوستوں سے وفاداری کی توقع کیسے کر سکتا ہے؟ جب ہر صدر عوامی خواہشات کے زیر اثر پالیسی کو تبدیل اور اتحادیوں سے ماضی کے وعدوں کو فراموش کرے گا تو کوئی ان اتحادیوں کو مورد الزام کیسے ٹھہرا سکتا ہے؟

امریکہ دنیا کی سپر پاور ہے لیکن بڑی طاقت کے ساتھ بڑی ذمہ داری آتی ہے، اور یہ ذمہ داری نا صرف امریکی ٹیکس دہندگان بلکہ پوری دنیا کی طرف سے بھی ہے، کیونکہ امریکی پالیسی بین الاقوامی سطح پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جس طرح امریکہ نے منتقم مزاج المالکی کے ہاتھوں ”عراق کے بیٹوں“ کو ذبح ہونے کے لئے چھوڑا تھا، آج واشنگٹن نازک افغان حکومت کو تنہا ہی طالبان سے نمٹنے کے لئے چھوڑ رہا ہے۔ یہ اقدام کچھ امریکی ووٹروں کو خوش کر سکتا ہے لیکن عجلت میں لیا گیا فیصلہ امریکہ کے لئے مسائل کھڑے کرے گا۔

(بشکریہ: عرب نیوز11-10-20، ترجمہ: میاں اشفاق)


ای پیپر