تعلیمی بورڈ ساہیوال کی ترقی میں ڈاکٹر فدا حسین کا کردار
13 اکتوبر 2020 (11:39) 2020-10-13

یہ محبت بھی بہت عجیب چیز ہے۔ اس کے ہونے کا قطعاً ہی پتہ نہیں چلتا۔ بس اس کا رنگ اور خوشبو بہت جلد دل، دماغ اور روح میں سما جاتی ہے اور بندہ اپنے محبوب کا ہو کر رہ جاتا ہے پھر جس چیز سے روح کا رشتہ استوار ہو جاتا ہے وہ چیز ہمیشہ قرب کی متمنی ہو جاتی ہے۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا معاملہ ہی در آیا کہ شہر ساہیوال مجھے محبوب ہو گیا۔ اس محبت کی تین وجوہات میری سمجھ میں آئی ہیں یعنی ادبی، تعلیمی اور روحانی…… میں جب بھی ساہیوال جاتا ہوں تو یہ تینوں جہتیں میرے تن بدن میں عود آتی ہیں اور مجھے سرمستی کی سی کیفیت محسوس ہونے لگتی ہے اور میرے لمس میں محبت اور عشق کا رچاؤ رچ بس جاتا ہے۔ عملی و ادبی حوالے سے منیر نیازی، مجید امجد، گوہر ہوشیار پوری، حاجی بشیر احمد بشیر،مراتب اختر، ناصر شہزاد، سید ریاض حسین زیدی، محمد عباس نجمی، عباس تابش، ڈاکٹر محمد افتخار شفیع اور ڈاکٹر نسیم عباس احمر میرے ادبی ذوق میں رس گھولتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ تعلیمی حوالے سے میرے تعلیمی کیریئر میں ایم اے اردو، اسلامیات اور ایجوکیشن کے امتحانی سنٹر میرے چاروں طرف پھول کھلاتے نظر آتے ہیں۔ روحانی حوالے سے پیر سید منظور احمد شاہ کی دینی و مذہبی خدمات ایک مستند حوالہ لیے میری روح کو سرشار کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ساہیوال ڈویژن بنتے ہی بہت سے انتظامی ڈھانچے ساہیوال منتقل ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی ضلع ساہیوال، پاکپتن اور اوکاڑا کے بچوں کی سہولت کے لیے بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن بھی ساہیوال شہر میں بنیاد نو کی حیثیت اختیار کر گیا۔ ظاہر سی بات ہے کہ کسی بھی منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لئے مکمل ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں منصوبہ پہلے اور اس کا ڈھانچہ برسوں بعد بنتا ہے۔ بھلا ہو گورنمنٹ کالج ساہیوال کا جس نے اپنی بلڈنگ کا کچھ تعلیمی بورڈ کو دے کر اس کی بنیاد میں اہم کردار ادا کیا۔ بورڈ نے 2012ء میں سپلیمنٹری امتحان لے کر اپنی بنیادی کا اعلان کر دیا اور تونسہ سے پروفیسر غلام اکبر قیصرانی نے بطور کنٹرولر امتحانات کے اپنی خدمات سپرد کر دیں۔ قیصرانی صاحب کے بعد جناب طاہر حسین 

جعفری نے بطور کنٹرولر امتحانات تین سال اپنی انتظامی صلاحیتوں کے بل بوتے پر بورڈ ہذا کو چلنے کے قابل کر دیا۔ مگر بورڈ کو ابھی کسی تجربہ کار اور دور اندیش منتظم کی ضرورت تھی جو بورڈ کو اس کے پاؤں پر مکمل طور پر کھڑا کرے اور کم سے کم وقت میں بورڈ کی پوزیشن کو مضبوط کر دے۔ اللہ نے جب کسی کام میں برکت ڈالنا ہوتی ہے تو سبب بھی پیدا کر دیتا ہے اور کسی نیک بخت آدمی کو اس راہ پر ڈال دیتا ہے۔ حافظ ڈاکٹر فدا حسین ملتان کے تعلیمی و ثانوی بورڈ میں اپنی گراں قدر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ آپ بطور اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات اسسٹنٹ کنٹرول سیکریسی، اسسٹنٹ کنٹرولر فناس، اسسٹنٹ کنٹرولر ڈسپلن کے عہدوں پر اپنی خدمات سر انجام دینے کے بعد ڈپٹی کنٹرولر کے عہدے پر ترقی پا گئے۔ آپ ڈپٹی سیکرٹری فنانس کے عہدے پر کام کرنے کے ساتھ تعلیمی بورڈ ملتان کے دیگر شعبہ جات میں اپنی جدید فکر کے ساتھ کام کر رہے تھے کہ آپ کی ترقی گریڈ انیس میں ہو گئی۔ ابھی آپ کی ترقی ہوئی تھی کہ ساہیوال کے تعلیمی و ثانوی بورڈ کے لیے کنٹرولر امتحانات کی اسامی کے لیے امیدوار کے طور پر سامنے آ گئے۔ آپ کے سابق تجربہ، جدید فکر و سوچ اور دیانت داری کو بھاپتے ہوئے پینل نے آپ کو ساہیوال تعلیمی و ثانوی بورڈ کے لیے کنٹرولر امتحانات تعینات کر دیا۔ آپ نے چارج سنبھالتے ہی اپنی دور اندیشی اور جدید طرز فکر میں تعلیمی بورڈ میں گراں قدر تبدیلیاں اور جدی طرز کے اضافے کیے۔ آپ نے امتحانی نظام کو جدید سہولیات سے مزین کر کے نقل سازی کے رجحان کو بالکل ختم کر دیا۔ آپ نے سب سے پہلے صاف، شفاف اور ایماندار امتحانی عملے کی تعیناتی کو یقینی بنایا۔ آپ نے بینک سے امتحانی سنٹر تک پرچہ جات کی ترسیل میں شفافیت کے معیار کو چار چاند لگا دیئے۔ آپ نے بینک سے سنٹر تک پرچہ جات کے لے ڈیجیٹل سسٹم کو متعارف کرا کر غلط پرچہ کی ترسیل کو بالکل صفر کر دیا۔ اس کے سسٹم کے ذریعے غلط پرچے کا کھلنا، یا متعلقہ پرچے کے علاوہ کسی اور مضمون کے پرچے کا کھل جانا بالکل ختم ہو گیا۔ اس کے علاوہ آپ نے پوزیشن ہولڈر بچوں کے حل شدہ کاپیوں کے معیار کو جانچنے اور اس میں شفافیت پیدا کرنے کے لے ٹاپ 40، ٹاپ 20، ٹاپ 10 اور ٹاپ 3 کا سسٹم متعارف کرا کے پرچہ جات کی جانچ پڑتال میں نہایت شفافیت اور ایمانداری کے معیار کو بلند کر دیا۔ اپنے حل شدہ کاپیوں کی جانچ پڑتال کے لیے تجربہ کار اساتذہ کا انتخاب کر کے مارکنگ سنٹر کے لیے بہترین سپروائزر کا انتخاب کر کے جانچ پڑتال کے عمل کو بہتر کیا اس کے ساتھ ساتھ آپ نے سوالیہ پرچہ کے بنانے میں تجربہ کار اساتذہ کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا۔ اس کے علاوہ آپ نے شعبہ فنانس میں اپنے اعلیٰ تجربے سے بہتری پیدا کی۔آپ نے چیک سسٹم کو کم و بیش ختم کر کے امتحانی عملہ جات، مارکنگ کی رقم اور دیگر پے منٹس کو متعلقہ لوگوں کے بینک اکاؤنٹس میں بھیجنے کا کام اعلیٰ بنیادوں پر کیا۔ اس سسٹم کے ذریعے بورڈ ہذا کا کام کرائے احباب کی پے منٹ میں آسانی پیدا ہوئی اور شعبہ فنانس میں بہتری کے ساتھ ساتھ ان کی قوت کار میں بہتری آئی۔ اس سسٹم کے ذریعے بورڈ ہذا کا آڈٹ اور حساب کتاب بہت آسان ہوا اور مالی کرپشن کی عدم حوصلہ افزائی ہوئی۔ اس سسٹم سے بورڈ کا بجٹ خسارے کے بجائے بہتری کی جانب گامزن ہوا۔ بلاشبہ اس سسٹم کا سہرا حافظ ڈاکٹر فدا حسین کے سر جاتا ہے۔ آپ شخصی اور اخلاقی حوالے سے خوبصورت انسان ہیں۔آپ حافظ قرآن ہیں۔ آپ نے اسلامیات کے مضمون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ آپ انتہائی سادہ طبیعت کے انسان اور منکسر المزاج شخص ہیں۔ آپ غرور، تکبر اور کروفر سے پاک شخصیت کے مالک ہیں۔ آپ ملک و قوم اور ادارے کی خدمت کا اپنی اولین برتری سمجھتے ہیں۔ تعلیمی خدمت آپ کا اولین شیوہ ہے۔ آپ نے اپنی اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں سے چار چاند لگا دیئے ہیں۔ دعائے دل ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و سلامتی کے ساتھ ملک و قوم اور تعلیمی بورڈز کی خدمت کی مزید توفیق دے اور آپ کی سوچ، فکر اور علم کو مزید پرواز دے اور آپ کا سایہ وجود اس ملک اور دھرتی پہ سلامت رکھے۔ آپ نے اپنی شخصی کوششوں سے ثابت کر دیا ہے کہ ذرا سے نم سے سنگلاح اور پتھریلی زمینوں کو زرخیز اور فائدہ مند ثابت ہو جاتی ہیں۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔


ای پیپر