file photo

موٹروے ریپ کیس: مرکزی ملزم عابد ملہی کے دورانِ تفتیش اہم انکشافات
13 اکتوبر 2020 (11:28) 2020-10-13

لاہور: موٹروے ریپ کے مرکزی ملزم عابد ملہی نے دوران تفتیش اہم انکشافات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ کس طرح پولیس سے بچتا رہا اور اتنا عرصہ کہاں غائب رہا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم عابد ملہی نے پولیس کو دوران تفتیش بتایا کہ وہ ایک ماہ تک پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے مختلف شہروں میں بھی گھومتا پھرتا رہا۔ ملزم نے واردات کی پوری کہانی پولیس کو بتائی اور کہا کہ میں 9 ستمبر کو دیگر ملزمان بالا مستری اور شفقت کے ہمراہ واردات کی نیت سے کورول گاؤں سے نکلا تھا۔ تاہم بالا مستری واپس چلا گیا جبکہ میں اور شفقت آگے چلے گئے۔

ملزم عابد ملہی نے کہا کہ موٹروے پر پہنچے تو وہاں ایک گاڑی کھڑی تھی جس کے انڈیکیٹر جل رہے تھے، وہاں جا کر دیکھا تو اس میں ایک خاتون اپنے بچوں کیساتھ موجود تھی۔ خاتون کو باہر نکلنے کا کہا لیکن اس نے انکار کیا جس پر ہم نے گاڑی کا شیشہ توڑ کر اسے باہر نکالا اور اسے موٹروے سے نیچے جانے کو کہا، انکار پر اس کے بچوں کو نیچے لے گئے، وہ خاتون اپنے بچوں کو بچانے آئی تو اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنا دیا۔

خیال رہے کہ موٹروے ریپ کیس کے مرکزی ملزم کو گزشتہ رات گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس نے عابد ملہی کو فیصل آباد سے گرفتار کرکے لاہور منتقل کیا۔ معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے بیان میں اس گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ عابد ملہی کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور انشاء اللہ قانون کے مطابق سزا ملے گی۔

بعد ازاں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز گل کا کہنا تھا کہ ملزم کو فیصل آباد سے گرفتار کیا گیا ہے اور پولیس تمام معلومات میڈیا کے ساتھ شیئر کرے گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کیس کو خود مانیٹر کر رہے تھے جبکہ آئی جی ، سی سی پی او لاہور اور پولیس اہلکار دن رات کام کر رہے تھے۔ اب جلد ملزم کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ یہ افسوسناک واقعہ 9 ستمبر کو پیش آیا تھا۔ متاثرہ خاتون اپنے رشتہ داروں سے ملنے گوجرانوالہ سے لاہور آئی تھی لیکن رات کو واپسی پر اس کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا۔ اس وقت اس کے بچے بھی اس کیساتھ موجود تھے۔ خاتون نے مدد کیلئے انتظامیہ کو فون کئے لیکن کوئی نہ آیا۔ اسی اثنا میں دو ملزمان نے گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالا اور تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ اس کے بعد وہ سڑک کے گرد لگی جالی کو کاٹ کر قریبی جھاڑیوں میں لے گئے اور پھر خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا۔

خاتون کو جب ملزمان سڑک پر تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے، سڑک سے گزرنے والے ایک مسافر نے واقعہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن وہ ڈر کے مارے خاتون کی مدد کو نہ آ سکا تاہم اس نے ساری روداد پولیس کو ٹیلی فون پر سنائی اور فوری طور پر اس کی مدد کا کہا۔ فون کال چلتے ہی ڈولفن فورس کے جوان موقع پر پہنچے لیکن اس وقت تک دونوں ملزمان وہاں سے فرار ہو چکے تھے۔ پولیس اہلکاروں نے واقعہ کی حکام کو اطلاع دی اور طبی امداد طلب کی گئی۔ خاتون کی حالت خراب ہونے پر اسے ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔


ای پیپر