file photo

پابندی کا معاملہ: ٹک ٹاک انتظامیہ اور پی ٹی اے حکام کے درمیان مذاکرات شروع
13 اکتوبر 2020 (09:18) 2020-10-13

اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک کی انتظامیہ کے درمیان پابندی اور غیر اخلاقی مواد بارے میں تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ٹک ٹاک حکام اور چیئرمین پی ٹی اے کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات ورچوئل تھی۔ اس اہم میٹنگ میں غیر اخلاقی مواد کو پاکستانی قوانین کے مطابق روکنے سے متعلق بات چیت کی گئی۔ ٹک ٹاک انتظامیہ کا موقف تھا کہ انہوں نے مقامی قوانین کے مطابق ممنوعہ مواد روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں۔

 یاد رہے کہ کچھ روز قبل پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ یہ فیصلہ معاشرے کے مختلف طبقوں کی جانب سے شکایات پر لیا گیا تھا۔ شہریوں نے شکایت کی تھی کہ ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی اور غیر مہذب مواد کی موجودگی ہے۔ پی ٹی اے حکام نے ٹک ٹاک کی طرف سے رابطے کی تصدیق کرے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایپ انتظامیہ اپنے غیر قانونی مواد کی روک تھام کا نظام بہتر کر لے تو پی ٹی اے اسے بحال کر سکتی ہے۔ 

ادھر ٹک ٹاک کمپنی کے ترجمان نے نیوز ویب سائٹ کو جواب دیتے ہوئے بتایا کہ انتظامیہ ٹک ٹاک سروس کی تمام مارکیٹس میں مقامی قوانین کی پابندی کے لیے پرعزم ہے ۔ ہم پی ٹی اے سے مسلسل رابطے میں رہے ہیں اور اب بھی ان کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ کسی ایسے نتیجے پر پہنچ جائیں گے جس کی وجہ سے ہم ملک کی تخلیقی اور متحرک کمیونٹی کی خدمت جاری رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ٹک ٹاک انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ایپلی کیشن میں ایک محفوظ اور مثبت ماحول کو قائم رکھنا کمپنی کی اولین ترجیح ہے۔ ہمارے پاس ایک متحرک نظام موجود ہے جس کے تحت یقینی بنایا جاتا ہے کہ یہ پلیٹ فارم صارفین کے لیے محفوظ اورخوش گوار رہے اور اس میں ایسا آسان طریقہ کار بھی شامل ہے جس کے تحت ہمارے قواعد کی خلاف ورزی پر مبنی مواد کو رپورٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اردو میں کمیونٹی گائیڈ لائنز بھی موجود ہیں۔

ادھر ٹک ٹاک کو وی پی این پر بند کروانے کے لیے بھی عدالت میں درخواست دائر کی جا چکی ہے۔ 9 اکتوبر سے اس ویڈیو شیئرنگ ایپ کی بندش کے بعد اسے وی پی این پر چلانے کی خبریں ہیں۔ خیال رہے کہ وی پی این کے ذریعے ناصرف عام صارفین متنازع اور ملک میں پابندی کے شکار انٹرنیٹ مواد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں بلکہ ایسے سافٹ ویئرز کو کاروباری ادارے اور خصوصی طور پر بینک بھی استعمال کرتے ہیں۔ لاہور کے شہری کی جانب سے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کی گئی ہے کہ ٹک ٹاک کو وی پی این پر بھی بند کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ درخواست میں ٹک ٹاک کو فحاشی پھیلانے والی ایپ قرار دے کر کہا گیا ہے کہ ٹک ٹاک پر مشہوری کے لیے لڑکے اور لڑکیاں فحش ویڈیوز بناکر انہیں دوسری ایپس پر بھی شیئر کر رہے ہیں۔

 درخواست میں لاہور میں ہی ٹک ٹاکر دوست کی جانب سے گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی لڑکی کے واقعے کو بھی بیان کیا گیا اور عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ مذکورہ ایپ کے ذریعے فحش مواد کو پھیلایا جا رہا ہے۔ درخواست میں عدالت کو بتایا گیا کہ پی ٹی اے کی جانب سے ٹک ٹاک پر پابندی لگائے جانے کے بعد لوگوں نے اسے وی پی این کے ذریعے چلانا شروع کیا ہے اور عدالت سافٹ ویئرز کے ذریعے بھی مذکورہ ایپ کو بند کرنے کے احکامات جاری کرے۔


ای پیپر