کُجھ ساہنوں مرن دا شوق وی سی!
13 اکتوبر 2020 2020-10-13

عارف نواز کو ہٹاکر مجھے جب آئی جی پنجاب تعینات کیا جانے لگا، اُس وقت میرا ضمیر چند لمحوں کے لیے جاگا ہوا تھا، تب میں نے سوچا جس طرح عارف نواز کو بغیر کسی جائز وجہ کے ہٹایا جارہا ہے، کہیں یہ نہ ہو وزیراعظم اپنی طبیعت بلکہ اپنی فطرت کے مطابق چند دنوں یا چند مہینوں کے بعد مجھے بھی بغیر کسی وجہ سے ہٹا دیں لہٰذا اتنے کم عرصے کے لیے آئی جی بننے کا کوئی فائدہ نہیں، ....پھر میں نے سوچا آئی جی پنجاب بننے کا ایک فائدہ مجھے ضرور ہوسکتا ہے اِس سے شاید مجھے اپنی اُن ”غائبانہ صلاحیتوں“ کے بارے میں معلوم ہوجائے جن کی بنیاد پر وزیراعظم نے مجھے آئی جی پنجاب بنانے کا فیصلہ کیا ہے، حالانکہ میں جانتا تھایہ بالکل اُ سی طرح کا فیصلہ ثابت ہوگا جس طرح کا فیصلہ اِس ملک کی اصلی قوتوں نے خان صاحب کو وزیراعظم بناکر کیا تھا، بہرحال کسی بھی پولیس افسر کا آئی جی پنجاب بننا ایک خواب ہوتا ہے، ذوالفقار چیمہ سے کوئی پوچھے حکمرانوں کی اخیر کاسہ لیسی کے بعد کسی کے آئی جی پنجاب بننے کا خواب پورا نہ ہو اُس بے چارے پر کیا گزرتی ہے؟۔عارف نواز کے بعد میری لاٹری نکل آئی، بچپن میں، میں اکثر لاٹریاں نکالا کرتا تھا، بدقسمتی سے میری کبھی کوئی لاٹری نہیں نکلی تھی، میں اِس محرومی پر اکثر منہ لٹکاکر بیٹھ جاتا، میرا منہ اتنا لٹک گیا پھر واپس ہی نہیں گیا، خیر بچپن میں میری کوئی لاٹری نہ نکلنے کا صلہ مجھے سی ایس ایس میں کامیابی کی صورت میں مِل گیا، یہ اصل میں خالصتاً میری محنت کا صلہ تھا جسے میں نے کبھی قدرت کی طرف سے ایک انعام نہیں سمجھا، چنانچہ مجھے نہیں یاد پڑتا اے ایس پی سے لے کر آئی جی تک کسی مظلوم کی مدد کرنے کی مجھے توفیق ہوئی ہو، مظلوم خود بھی میرے پاس نہیں آتے تھے، اُنہیں شاید معلوم تھا یہ وہ در نہیں جس سے کبھی کسی کو خیر پڑی ہو، میں نے عام لوگوں پر اپنے دروازے ہمیشہ بند رکھے جس کا مجھے کبھی کوئی نقصان نہیں ہوا میں نے سوچا زندگی بھر عام لوگوں کے لیے اپنے دفتر اور دل کے دروازے میں نے ہمیشہ بند رکھے اور اِس کا مجھے کوئی نقصان نہیں ہوا تو خاص لوگوں کے لیے اپنے دروازے بند کرنے کا بھی شایدکوئی نقصان نہ ہو، سو آئی جی بننے کے بعد میں نے خاص لوگوں پر بھی اپنے دروازے بند کردیئے، جس کا نقصان بالآخر عہدے سے محرومی کی صورت میں مجھے اُٹھانا پڑا۔ اب میں سوچتاہوں کاش عام لوگوں کے لیے تھوڑے بہت دروازے میں نے کھلے رکھے ہوتے کسی کی دعا مجھے لگ جاتی، شاید اِس سے میرا عہدہ یا عزت تھوڑی بچ جاتی، عزت میرے پاس پہلے ہی بہت کم تھی وہ بھی حکمرانوں نے چھین لی، مجھے اللہ نے زندگی میں عزت بنانے کے بے شمار مواقع فراہم کیے، پر میں نے ہمیشہ یہی سوچا اللہ کون ہوتا ہے میری عزت بنانے والا، یہ کام میں خود کروں گا، میں نے زندگی بھر اِس کے لیے بہت کوشش کی پر کامیاب نہ ہوسکا، اب میں پچھتاتا ہوں اور یہ سوچتا ہوں اللہ نے مجھے عزت بنانے کے جومواقع فراہم کئے تھے کاش اُن میں سے کسی ایک سے میں نے فائدہ اُٹھا لیا ہوتا تو عمر شیخ کی صورت میں جو عذاب مجھ پر نازل ہوا اُس سے نہ صرف میں خود بچ جاتا لاہور بھی بچ جاتا، آئی جی پنجاب بن کر میں نے بہت محنت کی، چارج لینے کے پہلے ہی روز میں نے ”کافی“ کے دس بارہ کپ پئے.... ٹیبل پر پڑی سب فائلوں کو غور سے پڑھا اور وہیں پڑی رہنے دیں، اُس سے اگلے روز میں نے اُس سے بھی زیادہ محنت کی، میں نے سوچا میں نے زندگی میں کبھی کوئی گروپ نہیں بنایا، چنانچہ میرا کوئی ماتحت مجھے اچھے الفاظ سے یاد نہیں کرتا، اب میں آئی جی پنجاب بن گیا ہوں، میری ریٹائرمنٹ میں عرصہ بھی تھوڑا ہی رہ گیا ہے، مجھے ایک گروپ بنانا چاہیے جو نہ صرف میری آئی جی شپ کے دوران میرے ”گن“ گاتا رہے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی طبلے بجاتا رہے، بڑی محنت سے میں نے ایک گروپ بنایا، اِس سے بھی زیادہ محنت میں نے یہ کی اِس گروپ میں زیادہ تر وہی افسران شامل کیے جو تقریباً ہر آنے والے آئی جی کے گروپ میں شامل ہوتے ہیں، میں نے اپنے گروپ کو ”خصوصی ٹاسک“ دیا کہ روزانہ بنفس نفیس میرے پاس حاضر ہوکر مختلف پولیس افسران کی غیبت وغیرہ کرنی ہے، میرے گروپ کے ایک افسر نے انکشاف کیا کہ سریہ کام”خصوصی ٹاسک“ کے زمرے میں نہیں آتا، یہ تو ہمارا معمول کا کام ہے، اگر آپ نے ہمیں کوئی ”خصوصی ٹاسک“ دینا ہی ہے تو یہ دیں کہ جتنی خوشامد ہم پہلے آئی جی کی کرتے تھے، آپ کی اُس سے زیادہ کریں، میں اپنے گروپ کے اِس افسر کی اِس دانشمندی پر حیران رہ گیا، میں نے اُس سے کہا بہت جلد تمہیں آرپی او تعینات کردیا جائے گا، جو کہ بعد میں، میں نے کر بھی دیا، .... آئی جی پنجاب بننے کے بعد میری محنتوں کا یہ عالم تھا میں صبح نو بجے میٹنگ شروع کرتا رات نو بجے ختم کرتا تھا، لوگوں کو پتہ ہی نہیں میری اِن میٹنگوں کا محکمے کو کتنا فائدہ ہوا، سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا جو افسران غلط ملط انگریزی بولتے تھے، میری انگریزی سُن سُن کر اُن کی انگریزی درست ہوگئی، ویسے تو ہمارا معاشرہ بہت کم ظرف ہے کسی کا کوئی کارنامہ یاد نہیں رکھتا، لیکن معاشرے نے میرے جانے کے بعدمیرا کوئی کارنامہ یا درکھنا ہو وہ کارنامہ میں خود معاشرے کو بتا دیتا ہوں کہ میں نے اپنے کئی ماتحت افسران کی انگریزی درست کی تھی، .... تاریخ نے بھی بطور آئی جی پنجاب میری کوئی خدمت لکھنی ہو بے شک یہی لکھ دے ....آئی جی بننے سے پہلے وزیراعظم سے میری ملاقات ہوئی میں اِس عہدے کے لیے اپنی کوئی خصوصیت یا اہلیت اُنہیں نہیں بتا سکا، وہ صرف میری ”انگریزی“ سے متاثر ہوگئے، وہ مجھ سے کہنے لگے”شعیب تم تو بڑے اہل افسر ہو“، میں نے دل ہی دل میں سوچا اگر وزیراعظم نے واقعی مجھے اہل افسر سمجھ لیا پھر میری پوسٹنگ بطور آئی جی پنجاب نہیں کی ہوتی، میرے دل میں خیال آیا اُن سے کہہ دُوں”سر میں اتنا بھی اہل نہیں ہوں، آپ مجھے ایک موقع دیں“ ،.... اُن کی مہربانی اُنہوں نے مجھے ایک موقع دیا، اور میری بھی مہربانی میں نے خود کو نااہل ثابت کرکے وزیراعظم کو شکایت کا موقع نہیں دیا، شاید یہ اِ سی بات کا صلہ ہے آئی جی پنجاب کے عہدے سے ہٹانے کے بعد مجھے اُس طرح او ایس ڈی نہیں کیا گیا جس طرح مجھ سے پہلے آئی جی کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز کو ہٹانے کے بعد کیا گیا تھا، انگریزی بولنے کا مجھے بچپن سے ہی بڑا شوق تھا، میرے بچپن کا یہ واحد شوق ہے جو بتانے کے لائق ہے، ایک بار میں نے ایک سب انسپکٹر سے انگریزی بولی وہ سمجھا میں ”فارسی“ بول رہا ہوں، وہ حیرانی سے میری طرف دیکھنے لگا، میں نے ڈانٹتے ہوئے اُس سے کہا ”میری انگریزی کا قائل تو ملک کا وزیراعظم ہوگیا تھا، تم کون ہوتے ہو میری انگریزی نہ سمجھنے والے ؟ ،بہرحال میں نے اُس سب انسپکٹر کے اِس ”سنگین جرم“ کی اُسے کوئی سزا نہیں دی، میں نے اُسے معاف کردیا، چنانچہ وہ میرے لیے دعائیں کرتا ہوا چلا گیا، اُس کے بعد میں مطمئن ہوگیا کہ آئندہ مجھ پر جب بھی کوئی بُرا وقت آیا اُس سب انسپکٹر کی دعائیں مجھے بچا لیں گی، سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی صورت میں آنے والے عذاب پر بھی میں یہی سوچتا رہ گیا کہ اُس سب انسپکٹر کی دعائیں مجھے بچا لیں گی، افسوس ایسا نہیں ہوا، مجھے لگتا ہے اُس نے مجھے جعلی دعائیں دی تھیں، ”جعلی دوائیں“ دینے والوں کا بطور آئی جی میں علاج کرسکتا ہوں پر ”جعلی دعائیں“ دینے والوں کا میں کیا علاج کرتا؟ جب مجھے آئی جی پنجاب کے عہدے سے ہٹایا جارہا تھا، مجھے یقین ہوگیا زندگی بھر تھوڑی بہت جو دعائیں کسی غلط فہمی کے نتیجے میں مجھے اگر کسی نے دی بھی تھیں سب جعلی تھیں۔ (جاری ہے)


ای پیپر