”غدار کون “؟
13 اکتوبر 2020 2020-10-13

قارئین، وطن عزیز کو بنے ہوئے پون صدی گزرچکی ہے، ہمارے سے بعد میں آنکھ کھولنے والے، ستاروں پہ کمند ڈالنے کے بجائے، تسخیر کائنات کا عزم لیے، چاند کی چاردیواری بناکر اپنے نام کرانا چاہتے ہیں، اور اب تو مریخ پہ بھی پانی نکل آیا ہے، گو وہ کھارا بہت ہے، لیکن وہ کھیتی باڑی کرکے فصلیں اُگانے کے کام آسکتا ہے۔ 

تاہم اسے پینے کے لیے استعمال کرنے کے لیے سیاستدان سرجوڑے بیٹھے ہیں، کاروباری اصحاب نے تو وہاں زمین بیچنی بھی شروع کردی ہے، حتیٰ کہ دنیا بھر میں چاند پہ جانے کے خواہش مند حضرات نے اپنی ٹکٹیں بھی بک کرانا شروع کردی ہیں اور ایک زندہ دل نے تو منگیتر کی بھی سیر کرنے کیلئے ٹکٹ بک کرادی ہے۔ ہمارے پڑوسی ملک نے بھی اس ضمن میں ہرممکن کوشش کرنی شروع کردی ہیں، روس سے مل کر اپنا خلا نوردجو غالباً خاتون تھی، اور ایک مرد خلاباز کو بھیج چکے ہیں ان کے چار مزید خلاباز ابھی زیرتربیت ہیں، میں یہ نہیں چاہتا ، کہ مقروض پاکستانی حکومت اس پہ سرمایہ کاری کرے، کیونکہ اسلام بے منافع وبے فائدہ، ضیائع وقت کا حامی نہیں، مگر وہ دوررس منصوبہ بندی کی حمایت کرتا، اور اس کی ترغیب دیتا ہے، یہ طویل المدت کاوش بے فائدہ ہے پاکستان نژاد ،دوبئی میں مقیم نمیرہ ناسا کے زیرتربیت خلا نورد بننے کے لیے تیار ہے، اور تن آسان پاکستانی مردوں کو پیچھے چھوڑ دے گی اسی لیے تو حضرت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ 

اے وائے تن آسانی ناپید ہے وہ راہی

وحشت نہ سمجھ اس کو اے مردک میدانی

قارئین کرام میں نے جیسے کہ شروع میں عرض کی تھی، کہ پاکستان کو بنے ہوئے پون صدی ہوگئی ہے، ہمارے ہم عمر بیرونی ممالک تسخیر کائنات کے لیے کوشاں ہیں، اور ہم جب بھی مارشل لاءنہیں ہوتا، سارے سیاستدان ایک دوسرے پہ غداری کا الزام بڑی بیدردی اور لمحوں میں جڑدیتے ہیں، جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہے، ہرجماعت کا سیاستدان اور کارکن دوسرے سیاستدان کو غدار کہتا ہے، مگر اس دفعہ تو یہ کسب حکمرانی کمال کو پہنچ گیا، کہ ہم نے دیکھا، کہ حکومت وقت نے ، ایک وزیراعظم ثلثہ کے خلاف باقاعدہ غداری کا پرچہ درج کرانے کا اعلان کردیا ہے، کہ انہوں نے یہ کیوں کہا، کہ فوج انتخابات میں براہ راست ملوث ہوتی ہے، تاہم اس حوالے سے اگر میں کلمہ حق، کہوں تو شاید یہ بے جانہ ہوگا کہ مرحوم صدر جنرل محمد ایوب خان سے جنرل مشرف تک نہ صرف براہ راست ملوث رہے ، بلکہ ملک پہ بھی خلاف آئین اور خلاف حلف بھارت کے حصے یا مقبوضہ کشمیر کے پاکستان پہ عملی طورپر کئی دہائیاں قبضہ کئے رکھا، اور پھر اپنی مرضی کی سیاسی جماعتیں بناکر اپنی مرضی کے سیاستدان حتیٰ کہ ایک سابق وزیراعظم کو بھی اس میں شامل کرکے آمریت مسلط کیے رکھی۔ ضیاءالحق ، یحییٰ خان، مشرف ، ایوب خان، پہ غداری کا مقدمہ کیوں ممکن نہیں، اور کیوں ایسی بات نہیں کی جاتی؟ کیا وہ سیاست میں ملوث نہیں ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کہ شیخ مجیب الرحمن نے انتخابات جیت کر جب اپنی حکومت قائم کرنے کی مکمل تیاری بھی کرلی تھی ، تو اقتدار اس کو کیوں شیخ مجیب الرحمن کو منتقل نہیں کیا تھا، اگر وہ غدار تھا، تو انتخابات سے پہلے اس پہ فرد جرم عائد کرائی جاتی اور ان کے مقابل سیاسی جماعتیں خصوصاً پیپلزپارٹی کے بانی چونکہ وہ نامور وکیل بھی تھے، انہوں نے غداری کے حوالے سے اس کا کچا چٹھاکیوں نہیں کھول دیا تھا، کہ وہ ملک دشمن ، سرکش، نمک حرام ہے ذوالفقار علی بھٹو نے، شیخ مجیب الرحمن کو کہہ دیا تھا، کہ ادھر ،یعنی مشرقی پاکستان میں تم، اور ادھر یعنی مغربی پاکستان میں ہم (وزیراعظم) ہوں گے، اور انہوں نے سرعام اورعلانیہ کہا تھا، کہ اگر یہاں مغربی پاکستان سے کوئی بھی ممبر اسمبلی یا کوئی سیاستدان وہاں مشرقی پاکستان گیا، تو میں اس کی ٹانگیں تڑوا دوں گا، اور لوگوں کو پتہ تھا کہ وہ اس وقت ایسا کرسکتے ہیں، کیونکہ جنرل یحییٰ خان، اس کے ساتھ ہیں، اور یہ بھی ایک حقیقت ہے، کہ میاں نواز شریف کو بھی فوج ہی لائی تھی، اگر نواز شریف کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہوتا ہے، تو انصاف کے دور میں انصاف کا تقاضہ ہے، کہ ان کے سہولت کاروں کے خلاف خصوصاً وہ جو ان کو اقتدار میں لے کر آئے، ان کے خلاف بھی شفاف تحقیقات کراکر ان کے بھی مقدمہ درج کرائیں ۔جنرل جاوید ناصر، جنرل خالد لطیف مغل اور مرحوم جنرل حمید میرے انتہائی قریبی دوستوں میں سے ہیں، باقی جنرلوں سے بھی میں نے پوچھ رکھا ہے کہ انتخابات کی حقیقت کیا ہے!


ای پیپر