بہت فرق ہے۔۔۔
13 اکتوبر 2019 2019-10-14

بارہ اکتوبر کا دن بھی سال کے باقی دنوں کی مانند ہوتا ہے ۔ ماہ و سال کی گردشوں کے طے شدہ نظام الاوقات کے مطابق طلوع اور غروب کے عمل سے گزر کر فنا کی گھاٹ گزر جاتا ہے ۔ لیکن وطن عزیز کے افق پر اترا یہ دن کیوں ناسور بن کر ٹھہر گیا ہے ۔ ایسے کہ گزرنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ آج پیچھے مڑ کر دیکھا تو دو عشرے گزر گئے۔ لیکن وہ منحوس گھڑی، وہ دل آزار لمحہ کلنک کے ٹیکے کی مانند قوم کی پیشانی پر ثبت ہے ۔ جہد عظیم اور طویل قربانیوں کے باوجود، اس عہد یرغمال کا تاوان، اہل وطن کے خون سے ادا کیا۔ لیکن وہ نحوست ٹلنے کا نام نہیں لیتی۔ پھر ماضی نشتر بن کر کچوکے لگاتا ہے ۔ ابھی بہت تاوان دینا باقی ہے ۔ ابھی سچی حقیقی جمہوریت کی دیوی کے درشن کیلئے دان دینا پڑے گا۔ کیونکہ ایسے ان گنت بے مہر روز و شب گزرے ہیں اس حرماں نصیب قوم کے لیے ابتلا کی کٹھن صدیوں سے کم نہیں۔ وہ نومبر 1958 ہی کے دوسرے ہفتے کا آغاز تھا جب جمہوری پاکستان پر پہلا شب خون مارا گیا۔ ابھی کامل تین سال بھی نہ گزرے تھے پاکستان کو ایک عبوری آئین ملے ہوئے۔ ابھی تو پاکستان کو حقیقی معنوں میں برطانوی سامراج کے تحریر کردہ قانون غلامی سے نجات حاصل کیے چند سال ہی گزرے تھے۔ برطانوی ملٹری اکیڈمیوں سے اپنی نو آبادیوں میں سانس لیتی مخلوق کو غلام بناے کے گر سیکھے ہوے کمانڈر نے اپنی قوم پر غلامی مسلط کردی۔ وجہ نامعلوم۔ تاریخ خاموش۔ پھر وہ سیاہ بخت دن جب اسی کمانڈر نے جو فیلڈ مارشل کا لبادہ آوڑھ چکا تھا۔ اس نے قائد اعظم کی بہن کو ’’صاف و شفاف‘‘ الیکشن میں شکست سے دو چار کیا۔ ابھی تو اس دھاندلی کا حساب باقی ہے ۔ قوم کے اجتماعی ضمیر پر اس شکست کا قرض باقی ہے ۔ سولہ دسمبر کو کوئی کیسے بھولے۔ بھولنے کی اداکاری بھی کرے تو وہ شکست نہیں بھولتی۔ نہ بھولی جاسکتی ہے ابھی وہ زخم مند مل نہیں ہوا تھا کہ ایک اور وار ہوا۔ پانچ جولائی کو کیا ہوا۔ کونسا کرپشن کا الزام تھا۔ کیا دشمن سے جنگ ہورہی تھی۔ کونسا سکینڈل بے نقاب ہوا تھا۔ لیکن مارشل لا نافذ ہوا۔اس جرم کے الزام سے بچنے کیلئے مجرم نے مدعی کو مٹا دینے کی ٹھان لی۔ اور بھٹو کو پھانسی دے ڈالی۔ اور دس سال نکال گیا۔ سیاستدان قربانیاں دیتے رہے۔ شمع جمہوریت کے پروانے نثار ہوتے رہے۔ دس سال بعد ضیاالحق مٹ گیا۔ ہمیشہ کیلئے۔ سیاستدانوں سے بھی فاش غلطی ہوئی۔ وہ طاقت ور، اقتدار بانٹنے والی قوتوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنے رہے۔ حالانکہ اقتدار تو وہ عوام سے چھینا ہوا تھا۔ ان دس برسوں میں سیاستدانوں کو حکومتیں تو ملیں، وہ بھی لولی لنگڑی۔ لیکن اقتدار نہ ملا۔ تاہم قدرتی عمل کے تحت جمہوریت مضبوطی کی جانب گامزن تھی۔ جو عوام دشمن قوتوں کو گوارا نہ تھی۔ لہٰذا عوام دشمن متحد ہوئے اور بارہ اکتوبر کی شام نام نہاد ہائی جیکنگ کے بہانے عوامی مینڈیٹ کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ حالانکہ منتخب عوامی وزیر اعظم نے اپنا آئینی اختیار ہی تو استعمال کیاتھا۔ لیکن وارداتیئے آئین کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھتے ہیں۔ بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کی اس آئین شکن واردات کے بعد آج تک عوام اور مٹھی بھر اقتدار پرستوں کے درمیان کشمکش جاری ہے ۔ اس وقت کے قابض حکمران پرویز مشرف نے کبھی چیف ایگزیکٹو کا لبادہ اوڑھا۔ کبھی وردی کے اوپر شیروانی پہنی۔ کبھی اقتدار کی نچلی سطح ہر منتقلی کا جھانسہ دیا۔ کبھی مسلم لیگ ق کے پردے کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی۔ کبھی پیٹریاٹ کا دکھاوا دیا۔ کبھی ججوں کو قید کیا۔ کبھی میڈیا کا گلا گھونٹا۔ لیکن وہ آخر کار ہار گیا۔ اور مکے دکھانے کا خوگر، کمر درد کے بہانے فرار ہوگیا۔ اقبالی مجرم ابھی تک مفرور ہے ۔ یقین ہے کہ مفرور ہی رہے گا۔ بارہ اکتوبر کو پردہ ز نگاری میں پوشیدہ معشوق کی مانند مسلم لیگ ق سہارا بنی۔ اور فراہمی انصاف کے نام پر فرائین کی جماعت اور اقتدار پرستوں کا آپس میں گٹھ جوڑ ہے ۔ لیکن کل اور آج میں فرق ہے ۔ بیس سال پہلے سیاسی جماعتوں کو سنبھلنے اور متحد ہونے میں تین سال لگے تھے۔ لیکن دو عشروں بعد بنی نئی حکومت کو بنے صرف چودہ ماہ ہوئے ہیں۔ لیکن تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوچکی ہیں۔ اور دارلحکومت کی سڑکوں پر آزادی مارچ کی چاپ توانا ہوتی چلی جارہی ہے ۔ گزرے کل میں نوازشریف شاید کسی کمزور لمحے میں سودا بازی کر کے پر تعیش جلاوطنی کیلئے تیار ہوگیا تھا۔ لیکن آج وہ برطانیہ سے گرفتاری دینے کیلئے واپس آتا ہے ۔ اکیلا نہیں بیٹی کے ہمراہ۔ آج آئے روز بریکنگ نیوز آتی ہے ڈیل ہوچکی۔ رقم کی مالیت طے ہونے کی انفارمیشن بھی شیئر ہوتی ہے ۔ جلاوطنی کی مدت بھی سر گوشیاں میں لیک ہوتی ہے ۔ مقام جلاوطنی بھی بتا دیا جاتا ہے ۔ تجزے تبصرے، اختلاف کی خبریں بھی مرچ مصالحے لگا کر سنای جاتی ہیں۔ لیکن پھر کیا ہوتا ہے ؟ چار ماہ سے پابند سلاسل نواز شریف پیشی پر آکر عدالت کے روسٹرم پر کھڑا ہوکر تشریح کر ڈالتا ہے کہ اصل کشمکش ہے کیا۔ لڑائی ہے کیا؟ ایک شعر میں ڈیل کی خبروں پر خط تنسیخ پھر دیتا ہے ۔ اب ڈیل کے خواہشمند کیا کرینگے۔ معلوم نہیں۔ بیس سال گزرنے کے بعد جو کل صرف وزیر اعظم تھا۔ وہ لیڈر بنا اور آج وہ ووٹ کی حرمت کا استعارہ بن چکا۔ ان بیس سالوں میں جمہوریت کمزور ہوئی لیکن سوشل میڈیا کو دیکھیں تو دلیل کے ساتھ بات کرنے والے مردو زن کی فوج ظفر موج تیار ہوچکی۔ جو کی بورڈ ز کے ذریعے عوامی حقوق۔ آزادی اظہار اور جمہوریت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ بارہ اکتوبر کی واردات کا قرض ابھی باقی ہے ۔ لیکن پھر بھی کل اور آج میں بہت فرق ہے ۔ آج، کل سے بہتر ہے ۔ مشکلات کے باوجود۔


ای پیپر