دھرنا پلس کا انجام
13 اکتوبر 2019 2019-10-14

کسی سیانے نے دوسرے سیانے سے پوچھا مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ پلس لاک ڈائون پلس دھرنے کا انجام کیا ہوگا؟ اس نے سرد آہ بھری بولا۔ ’’آغاز تو اچھا ہے انجام خدا جانے‘‘ لیکن دھرنا پلس ٹاک آف دی ٹائون بن گیا ہے۔ ہر دوسرا وزیر مولانا کا اچھے برے الفاظ میں ذکر کر رہا ہے۔ سرکاری ترجمانوں کا تو یہ پسندیدہ موضوع بن گیا ہے۔ انہیں ٹاسک دیا گیا ہے کہ 27 اکتوبر تک روزانہ صبح اٹھتے ہی 100 بار مولانا کا ذکر کرو، شاید اسی طرح دھرنا ناکام ہوجائے یا 15 لاکھ طلبہ میں سے دس پندرہ طلبہ ہی اسلام آباد کا رخ کریں۔ ترغیب تحریص اور دھمکیوں کا لا متناہی سلسلہ جاری ہے۔ پنجاب میں ق لیگ سے مستعار لیے ہوئے وزیر نے کہا جیسا دھرنا ہوگا ویسی تیاری کریں گے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ بہت آگے بڑھ گئے کہا کہ کسی کو صوبے سے نکلنے نہیں دوں گا۔ اپنے باہر نہیں نکل سکتے تو دہشتگرد اندر کیسے آجاتے ہیں۔

لوگوں نے کہا مولانا دھرنے سے پہلے ہی حکومت کو خوفزدہ کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ وزیر داخلہ کے بیانات، لیگل نوٹس اور عدالتوں سے رجوع مولانا کی کامیابی ہے۔ پی ٹی آئی خود دھرنا اسپیشلسٹ مگر دھرنا پلس سے خوفزدہ، اسلام آباد ہائیکوٹ نے اپنے سابقہ فیصلوں میں دھرنے پر پابندی نہیں لگائی۔ واضح طور پر کہا کہ احتجاج جمہوری حق ہے لیکن اس سے باقی لوگوں کا زندگی گزارنے کا حق متاثر نہیں ہونا چاہے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ لوگوں سے کہے کہ وہ سڑکیں بند نہیں کرسکتے۔ شبلی فراز اپنے والد محترم کی طرح دانش مند یا دانشور نہ سہی گفتگو اچھی کرلیتے ہیں۔ ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ مولانا کا دھرنا ملک کو پیچھے لے جانے کی کوشش ہے۔ پوچھا آپ کا دھرنا ؟ وہ کیا ہوا؟ بولے وہ تاریخی ٹرننگ پوائنٹ تھا کہنے والوں نے کہا تاریخ مسخ ہوئی۔ ٹرننگ یوٹرن پر ختم ،گزشتہ بارہ تیرہ مہینوں میں ایک بھی پوائنٹ حاصل نہ کرسکے۔ گڈ گورننس میں دو چار پوائنٹ لے لیتے تو شاید مولانا کو دھرنے کی جرأت نہ ہوتی۔ بھانت بھانت کی بولیاں، ہر وزیر مشیر اپنی اوقات سے بڑھ کر دھمکیاں دینے میں مصروف، مولانا گھر سے نہیں نکل پائیں گے۔ نکل کر دکھائیں، جو کہا ہے کر کے دکھائوں گا۔ وزیر داخلہ نے فوج کے آپشن کا بھی ذکر کردیا۔ 126 دن بعد فوج نے مداخلت کی تھی۔ وزیر داخلہ ابتدا ہی سے فوج بلا رہے ہیں۔ راستے بند کیے دیتے ہو دیوانوں کے، ڈھیر لگ جائیں گے رستوں میں گریبانوں کے ’’دھمکیاں مناسب نہیں، احتجاج مولانا کا حق اقدامات، آپ کا اختیار، ’’واقعی آپ اگر ہیں سچے، شور کیوں اتنا مچا رکھا ہے‘‘۔ ایک حسابی کتابی دانشور نے اخراجات کا تخمینہ لگا کر معیشت میں اپنی مہارت کا ثبوت دیا ان کا کہنا تھا کہ ڈیڑھ لاکھ گاڑیاں اسلام آباد آئیں گی۔ پیٹرول کا خرچ 75 کروڑ، کھانے پینے کا روزانہ کا خرچہ 75 کروڑ، ڈیڑھ ارب کہاں سے آئیں گے۔ 126 دنوں کے دھرنے میں کہاںسے آئے تھے۔ اللہ بڑا بادشاہ ہے رزق وہی دیتا ہے، جس کے ذریعہ دے دے اس کی مرضی اور قدرت، گلشن کا کاروبار چلنے دیں، گلوں میں رنگ بھرنے اور باد نو بہار چلی تو کئی پرندے گلشن کی رونق بڑھانے ادھر کا رخ کرینگے، مولانا فارغ کہاں بیٹھے ہیں۔ اے پی سی اور رہبر کمیٹی تک وہ مقتدی اور اپوزیشن جماعتیں امام بنی ہوئی تھیں، دھرنے کی تاریخ کا اعلان کرتے ہی وہ امام اور اپوزیشن جماعتیں مقتدی بن گئیں، دھرنے کی نوبت آگئی تو اخراجات کا انتظام بھی ہوجائے گا۔ دینی مدارس کے طلبہ نے اسلام آباد کے بیوٹی پارلرز نہیں جانا، دو وقت کے کھانے پر اکتفا کرنا ہے۔ دس پندرہ لاکھ دینی مدارس کے طلبہ زمینی دریائی یا آسمانی و پہاڑی راستوں سے کسی طرح سے اسلام آباد پہنچنے میں کامیاب ہو بھی گئے تو اتنے خطرناک ثابت نہیں ہوں گے۔ اس وقت سے ڈرا جائے جب 13 کروڑ غریب جن کے لیے گھریلو استعمال کی اشیا کی خریداری مشکل ہوگئی ہے۔ بھوک اور فاقوں سے تنگ آ کر دار الحکومت کا رخ کریں گے۔ قیادت نظر بند ہو یا قید کوئی فرق نہیں پڑتا۔ قیادت انتہا پسندوں کے ہاتھ آجاتی ہے۔ بی اور سی ڈی پلان پر عملدرآمد شروع ہوجاتا ہے۔ تاجر، ڈاکٹر اور فیکٹریوں کے مزدور پہلے ہی سڑکوں پر ہیں۔ چلو، چلو اسلام آباد چلو کا نعرہ بلند ہوا تو گنتی مشکل ہوجائے گی۔ اپنے لوگ چھپتے پھریں گے کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ 12 ماہ کے دوران جن کی گردنیں موٹی ہوگئیں گوشت لٹک گیا اپنے انجام کے بارے میں سوچیں کب تک عرش کے سائے ہیں پناہ لیے رہیں گے۔ موٹی گردن پر یاد آیا کہ سب سے خطرناک دھمکی تو اپنے شیخ رشید نے دی ہے۔ مولانا اسلام آباد مت آئیں ڈینگی کاٹ لے گا۔ بات دیر سے سمجھ میں آئی کہ حکومت وفاقی دار الحکومت سے ڈینگی کا خاتمہ کیوں نہیں کر رہی، بھائی لوگوں کو 27 اکتوبر کا انتظار ہے۔ دھرنا دینے والے آئیں تو شیخ رشید پہلے مولانا فضل الرحمان اور بعد ازاں 15 لاکھ دھرنیوں پر ڈینگی چھوڑ دیں، سنا ہے اسلام آباد میں اسپتال کے بستر کم اور ڈینگی کے مریض زیادہ ہیں۔ شیخ صاحب کا درآمد کردہ مچھر بڑا خطرناک ہے۔ جسے کاٹتا ہے وہ پانی پانی کر پانی پانی ہوجاتا ہے۔ ڈینگی لشکر شاہراہ دستور پر پہنچ گیا تو پولیس کو لاٹھی چارج، آنسو گیس یا فائرنگ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ سارے دھرنیوں کو شیخ رشید کے ڈینگی خاک میں ملا دیں گے۔ خس کم جہاں پاک، ڈینگی زندہ باد، مولانا کو بھی شیخ صاحب کے عزائم کا پتا چل گیا اسی لیے انہوں نے اسلام آباد آمد کا شیڈول تبدیل کردیا اور کہہ دیا کہ احتجاج روکا تو پورے ملک میں پھیلا دیں گے۔ اہم سوال اپوزیشن کا کردار کیا ہوگا؟ اپوزیشن کی ساری جماعتیں احتجاج پر متفق، پی پی دھرنے کی مخالف لیکن دھرنا شروع ہوگیا تو بسم اللہ کر کے بیٹھ جائے گی۔ ن لیگ ہچر مچر کا شکار تھی۔ نواز شریف نے واضح طور پر کہہ دیا کہ ن لیگ مولانا کے ساتھ ہر طرح تعاون کرے گی۔ اسفند یار ولی، اویس نورانی اور دیگر جماعتوں کے رہنمائوں نے شرکت کی یقین دہانی کرا دی۔ سیاسی صف بندی، وجوہات 126 دنوں کے دھرنے کے عین مطابق پھر خوف اور پریشانی کیسی، اس وقت جہاں گئے تھے ان ہی سے اب بھی رابطہ ہوسکتا ہے۔ عوام متحرک ہوگئے تو مزید پریشانی ہوگی۔ لنگر خانوں سے صرف 6 سو افراد کو آلو گوشت کا سالن اور روٹی ملے گی باقی کروڑوں فاقہ کش کہاں جائیں گے؟ سب کا رخ اسلام آباد کی طرف ہوگیا تو کیا ہوگا۔ دھرنا کامیاب ہو یا ناکام، مولانا فضل الرحمان نے اپنی کھوہ سے نکل کر صدا لگانے کی روایت تو ڈالی، پہل تو کی، بارش کا پہلا قطرہ، دور نزدیک کہیں طوفان باد و باراں منتظر، بجلی چمکی تو پہاڑوں کے آس پاس گرے گی، بارش ہوئی تو اب کے ژالہ باری بھی ہوگی، ابھی کے پی کے کی طرف سے بادل اٹھ رہے ہیں، دوسری جانب سے بادل امڈ آئے تو واقعی سونامی کی صورتحال پیدا ہوجائے گی، سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا۔ جب لاد چلے گا بنجارہ، ہمارے دور کے ایک ’’بابے‘‘ کا قول ہے اور خوب ہے کہ ’’کسی کے ساتھ جو سلوک کرو گے وہ تمہارے آگے ضرور آئے گا۔ جو دو گے وہ پلٹ کر آئے گا خواہ وہ مان ہو امید ہو وسوسہ ہو یا دھوکہ، آنسو ہو یا مسکان، جفا ہو یا وفا، دوا ہو یا دغا، آسانی ہو یا زحمت، رحم ہو یا ظلم، غم ہو یا خوشی، جیسا کرو گے ویسا بھرو گے یہی قانون قدرت ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا، ’’بابے‘‘ نے زیادہ کچھ نہیں کہا بس ظہیر کاشمیری کا شعر سنا دیا۔

یہ کاروبار چمن اس نے جب سنبھالا ہے

فضا میں لالہ و گل کا لہو اچھالا ہے

شنید ہے کہ دھرنے کی ناکامی کے لیے کسی ’’بابے‘‘ سے بھی رابطہ قائم کیا جا رہا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب


ای پیپر