مقبوضہ کشمیر ، ہا نگ کا نگ اور متمد ن دنیا
13 اکتوبر 2019 2019-10-14

اِ ن دنو ں دنیا میں جا ری ہا نگ کا نگ کے احتجا ج اور مقبو ضہ کشمیر کے احتجا ج کی عمر کم و بیش ایک جتنی ہے۔ دونوںمیں فر ق یہ ہے کہ ہا نگ کا نگ میں قا نو ن نا فذ کر نے وا لے ادارے انتہا ئی دفا عی پو ز یشن اختیا ر کیئے ہوئے ہیں۔ وہ ہر ممکن کو شش کر تے ہیں کہ مظا ہر ین پہ کسی قسم کے ہلکے پھلکے ہتھیا ر کا استعما ل بھی نہ کریں۔اِس کے بر عکس مقبو ضہ کشمیر میںقا بض بھا رتی فو ج گھر وں تک میں گھسنے سے گر یز نہ کر تے ہو ئے معصو م شہر یو ں کو تشد د کا نشا نہ بنا تی ہے۔وہ شہر یو ں کو قتل کر نے سے نہیں چو کتی۔ کشمیری خو ا تین کی عصمت دری کر نا بھا رتی فو ج اور پو لیس کا رو زا نہ کا معمو ل بن چکا ہے۔ مگر آ ج کی متمدن، خصو صی طو ر پر مغر بی دنیا کا ذرا ردِ عمل تو ملا حظہ فر ما یئے کہ ہا نگ کا نگ کی نر م و نا زک سی صو رتِ حا ل پہ مجسم احتجا ج بنی کھڑی ہے۔ اس کے بر عکس مقبو ضہ وا دی کی جا نب سے یو ں آ نکھیں بند کی ہو ئی اور کا ن لپیٹے ہو ئے ہیں، جیسے و ہا ں کے با سیو ں کا انسانیت سے کو ئی وا سطہ ہی نہ ہو۔ دنیا کے اِ س غیر منصفا نہ ردِ عمل کو بھا نپتے ہو ئے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کی کال پر آزاد کشمیر بھر سے قافلے مظفر آباد پہنچ گئے اور چکوٹھی سے لائن آف کنٹرول عبور کرنے کے لیے مارچ شروع کردیا۔اِس نئی صو رتِ حا ل کے تنا ظر میں پاکستا ن کے وز یرِ اعظم عمران خان نے پچھلے دنو ں اپنے ایک بیا ن میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں دو ماہ سے جاری کرفیو پر آزاد کشمیر کے شہریوں کے غم و غصہ کو سمجھتا ہوں لیکن مقبوضہ کشمیر کے عوام کی حمایت یا انسانی امداد کے لیے لائن آف کنٹرول پار کرنا بھارتی بیانیے سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی بیانیہ یہ ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی کی آڑ میں دہشت گردی کرارہا ہے، کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کو بہانہ بنا کر بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم بڑھا اورلائن آف کنٹرول کے پار حملہ کرسکتا ہے۔ بہر کیف جے کے ایل ایف کی کا ل پر مارچ کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے نفاذ اور انسانیت سوز مظالم پر عالمی برادری کی توجہ مبذول کروانا ہے۔ آزادی مارچ میں بزرگ، خواتین اور ہزاروں کی تعداد میں نوجوان شریک ہیں۔ مارچ کے شرکاء کو لائن آف کنٹرول کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حکمت عملی ترتیب دے دی ہے۔ کمشنر مظفر آباد ڈویژن نے کہا ہے کہ مارچ کرنے والے شہریوں پر بھارتی فوج کی فائرنگ اور گولہ باری کا خدشہ ہے جس سے شہریوں کا شدید جانی نقصان ہوسکتا ہے۔ لائن آف کنٹرول کے قریب عوامی اجتماع قیمتی جانوں کے ضیاع کا موجب بن سکتا ہے۔ جلوس کے شرکاء سے اپیل ہے کہ ایل او سی کے قریب اجتماع سے پرہیز کریں۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ بھارت سفارت کاری اور نارمل حالات کے بارے اپنے بھاشن اپنے پاس رکھے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں پاکستان نے بھارتی وزارت خارجہ کے وزیراعظم عمران خان کے کشمیر کے حوالے سے بیانات پر ردعمل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی بیانات مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کی عکاسی کرتے ہیں۔ بھارتی جبر سے متاثر کشمیریوں کے لیے آواز اٹھانا ہماری عالمی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ بھارت اپنے انتہا پسندانہ نظریات اور بالا دستی کے خواب کی وجہ سے سچ کا سامنا کرنے سے گریزاں ہے اور اپنے بالا دستی پر مبنی طرزِ عمل کے برعکس خود کو ایک نارمل ریاست ثابت کرنا چاہتا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں آ ج ستر روز کے بعد بھی زندگی مفلوج ہے۔ مسلسل کرفیو سے غذائی بحران سنگین ہو چکا ہے اور ابھی تک حالات بہتر ہونے کے فوری امکانات کے اشارے نہیں مل رہے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے ایسا کوئی عندیہ نہیں ملا جس سے عیاں ہو کہ وہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھا رہا ہے اور نہ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کی جانب سے کوئی ایسی کوشش سامنے آئی ہے جس کے تحت وہ بھارت پر اس سلسلے میں بھرپور دبائو ڈال رہے ہوں۔ وہاں صورتحال میں کب بہتری آتی ہے ابھی اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ مقبوضہ کشمیر میں روزبروز بھارتی مظالم میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔ اب بھارتی سرکار نے حریت پسند کشمیری رہنمائوں کی جائیدادوں کو ضبط کرنا شروع کردیا ہے۔ نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں قید جموں و کشمیر فریڈم پارٹی کے چیئرمین شبیر احمد شاہ کا سری گر میں گھر ضبط کرلیا گیا ہے۔ بھارتی حکومت کو اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ اس نے مقبوضہ کشمیر کے بارے میں جو اقدامات کیے ہیں اقوام متحدہ سمیت مسلم دنیا اور پاکستان اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ زیادہ سے زیادہ بات بیانات اور مذمت تک آکر دم توڑ جائے گی اور کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ برما کے مسلمانوں پر ظلم کے جو پہاڑ توڑے گئے اور برمی فوج ان کا قتل عام کرتی رہی آخر کسی نے اس کا کیا بگاڑ لیا۔ حتیٰ کہ برما کوئی بڑی قوت بھی نہیں۔ اس کے پاس نہ تو ایٹمی ہتھیار ہیں اور نہ وہ تجارتی دنیا میں کوئی بڑا مقام رکھتا ہے۔ اس سب کے باوجود مسلم دنیا خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی۔ بھارت جانتا ہے کہ وہ ایک بڑی فوجی اور ایٹمی قوت ہے اور مسلم دنیا کے اس سے گہرے تجارتی مفادات وابستہ ہیں بلکہ روز بروز ان میں اضافہ ہورہا ہے۔ اگر مسلم دنیا کو کشمیریوں کی زبوں حالی اور بے بسی کا احساس ہوتا تو وہ سب سے پہلے بھارت کا اقتصادی بائیکاٹ کرتے اور اس پر دبائو بڑھاتے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھائے اور وہاں کے لوگوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کا حق دے۔ مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے آزاد کشمیر کے شہریوں میں غم و غصے کا پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔ ان کا مقبوضہ کشمیر کے شہریوں سے صرف جذباتی ہی نہیں بلکہ خونی رشتہ بھی ہے لہٰذا مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر آزاد کشمیر کے شہریوں کا کرب میں مبتلا ہونا اچنبھے کی بات نہیں۔ بھارت آزاد کشمیر پر حملے کے لیے بہانے ڈھونڈ رہا ہے۔ پاکستانی حکومت کو بھارتی سازش کا بخوبی فہم ہے لہٰذا وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت پر سفارتی ذائع سے دبائو ڈال رہا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بھارت آزاد کشمیر پر حملے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے۔ کوئی جذباتی اقدام بھارت کو اپنے مذموم عزائم پورا کرنے کا موقع فراہم کرسکتا ہے۔ یہ بات بھی بالکل درست ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان جنگ چھڑ گئی تو پھر اسے کوئی بھی کنٹرول نہیں کرسکے گا اوراگر کسی نے ایٹمی ہتھیار چلانے کی غلطی کرلی تو پھر اس خطے میں جو تباہی پھیلے گی اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ایک فرضی منظر نامے کے مطابق ایٹمی جنگ کی صورت میں 12 کروڑ سے زائد افراد ہلاک ہوجائیں گے۔ صرف یہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک بھی اس سے متاثر ہوں گے۔ وزیراعظم پاکستان بھی بار بار اس خوفناک منظرنامے کا ذکر کرکے اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں کی توجہ اس جانب مبذول کرارہے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے پُر امن حل کے لیے اپنا کرادا ادا کریں۔ اقوام متحدہ کی مسئلہ کشمیر کے بارے میں روایتی لاپروائی اور بے حسی کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اگر اس نے اپنا یہ رویہ برقرار رکھا تو اس خطے میں چھڑنے والی کسی بھی جنگ کی ذمہ داری جہاں بھارت پر عائد ہوگی وہاں اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ گو امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ تعلقات نے بھی اپنی رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق بحال کرکے انسانی بحران کے فوری خاتمے پر زور دیا ہے اور بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی ذرائع کو مکمل طور پر بحال کرکے، محاصرہ اور کرفیو اٹھائے اور تمام گرفتار لوگوں کو رہا کرے۔ تا ہم اب دیکھنا یہ ہے کہ بھارتی حکومت عالمی دبائو کو کس قدر خاطر میں لاتے ہوئے کب مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھاتی ہے۔ حکو متِ پا کستا ن اس خدشے کا اظہار کر چکی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھتے ہی کشمیریوں کی بڑی تعداد احتجاج کے لیے باہر آجائے گی ایسی صورت میں بھارتی فوج ظلم و ستم کا بازار گرم کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر کشمیریوں کا قتل عام کرسکتی ہے۔

تو قا رئین کرام ، یہ ہیں وہ حا لا ت جن کی رو شی میں آ ج کی دنیا کو یہ فیصلہ کر نا ہو گا کہ بین الا قوا می امن کو خطر ہ ہا نگ کا نگ کی خرا ب صو رتِ حا ل سے ہے ، یا مقبو ضہ کشمیر میں انسا نیت کے قتلِ عا م سے۔


ای پیپر