لنگر خانے اور آزمائے ہوئے بازو
13 اکتوبر 2019 2019-10-14

جو کوئی بھی اپنی کسی تنظیم ( سیاسی جماعت ) سے منسلک ہے اس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہا ہے چاہے اس میں ہزار خامیاں ہی کیوں نہ ہوں یہ رجحان مجموعی طور سے معاشرے کے حق میں نہیں کیونکہ اس سے اصلاح کا پہلو دھندلا جاتا ہے پھر آہستہ آہستہ خرابیوں کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

ان دنوں پاکستان تحریک انصاف پر اس کے مخالفین طرح طرح کے الزامات عائد کر رہے ہیں صرف وہی نہیں ان کے ہمنوا لکھاری، دانشور اور ہمدرد بھی اسے آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ابھی وہ سوا سال میں ہتھیلی پر سرسوں جمانے میں کامیاب نہیں ہو سکی مگر وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر آرام سے بیٹھی بھی نہیں کچھ نہ کچھ میسر قومی خزانے سے عوام کے لیے کر بھی رہی ہے۔ اگرچہ فی الوقت اسے عوامی منصوبوں کی تکمیل کے لیے لوگوں پر ٹیکسوں کو لگانا پڑ رہا ہے۔ جس سے اونٹ کے منہ میں زیرہ برابر عوام کو فائدہ پہنچ رہا ہے مگر امید ہے کہ اگلے چھ آٹھ ماہ میں فلاحی پروگراموں کا آغاز ہو جائے گا اس تھیوری کو حزب اختلاف یکسر نظر انداز کرتی ہے اس کا اور اس کے غمگساروں کا کہنا ہے کہ نہیں جی یہ حکومت مکمل طور سے نا کام ہو چکی ہے لہٰذا اقتدار ان کے حوالے کیا جائے۔ عمران خان تو اس قابل ہی نہیں کہ عنان حکومت سنبھال سکے انہیں تو کھیلوں کے لیے مختص ہونا چاہیے تھا بالخصوص کرکٹ کے لیے۔ اب ذرا انکے ادوار پر نگاہ دوڑائی جائے تو سر شرم سے جھک جاتا ہے کہ جن میں لوگوں کے ووٹوں کی بُری طرح سے تذلیل کی گئی اور ان کو غیر اہم قرار دیا گیا اس کے مقابل مافیاز کو ترجیح دی گئی۔ انہیں مضبوط بنایا گیا اس کا فائدہ انہیں اب ہو بھی رہا ہے کہ آج وہ حکومت کی پالیسیوں کو نا کام بنانے کے لیے اپنی تئیں پوری کوشش کر رہے ہیں۔ حکومت عوام کے لیے سہولتی اقدامات کرنا چاہتی ہے تو وہ اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دیتے ہیں۔ مطالبات کی ایک طویل فہرست اس کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں۔ جسے من و عن تسلیم نہیں کیا جاتا تو ہڑتال پر اُتر آتے ہیں۔ اگر کسی آمر کی حکومت ہوتی پھر بھی یہ لوگ ایسا ہی کرتے نہیں ۔ یہ کہتے کہ وہ اپنا پروگرام بتائیں ہم اس پر فوری عمل در آمد کریں گے۔

آج پی ٹی آئی کی حکومت ہے تو اسے آگے بڑھنے نہیں دیا جا رہا قدم قدم پر اسے روکا جا رہا ہے۔ مگر وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے اور صحیح معنوں میں جمہوری طرز عمل اختیار کر رہی ہے۔ اب بھی مگر سیاسی مخالفین خوش نہیں اور اودھم مچائے ہوئے ہیں۔ اب اگر اس نے لنگر خانے بنانے کا اعلان کیا ہے تو اس کو ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے۔

انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایسا قدم عارضی بھی ہوتا ہے اور مستقل بھی۔ عارضی اس طرح کہ جب ملک میں غریب غرباء کو اپنا پیٹ بھرنے کے لیے در در کی ٹھو کریں کھانا پڑ رہی ہوں انہیں معاشرہ یہ نہ پوچھ رہا ہو کہ تم بھو کے ہو یا نہیں ایسے میں ریاست کی طرف سے کیا گیا کوئی انتظام کیسے غلط ہو سکتا ہے۔ اب یہ سوال کہ روز گار فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے تو یہ بالکل ٹھیک ہے۔ اپنے شہریوں کو قیام و طعام مہیا کرنا اس کی ہی ذمہ داری ہے۔ مگر جب تک وہ اس کا کوئی بندوبست نہیں کرتی تو کیا لوگ اس کے انتظار میں بھوکے رہیں۔ نہیں ہر گز نہیں لہٰذا تنقید جائز نہیں۔ جلدی میں ملیں فیکٹریاں اور کارخانے قائم کرنا ممکن ہی نہیں۔ ابھی تو پہلے والے بھی پوری طرح سے متحرک نہیں کیونکہ انہیں بھی اس حکومت سے شکایات ہیں یا پھر انہیں چند مسائل در پیش ہیں جنہیں حکومت حل کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے مگر اس عمل کا بھی تمسخر اڑایا جا رہا ہے اور حکومت کو ان کی بندش کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے ۔ جبکہ ان کی بندش ماضی میں ہونا شروع ہوئی تھی۔مزدوروں کے بعض مطالبات کی وجہ سے بھی اور توانائی کے بحران کی بناء پر بھی مگر عمران خان کے کھاتے میں پچھلی تمام خرابیوں کو ڈالا جا رہا ہے اور شور مچایا جا رہا ہے کہ انہیں کیا پتا کہ حکمرانی کیسے کی جاتی ہے ان میں سے کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ آپ لوگ کہاں سے حکمرانی کا ڈھنگ سیکھ کر آئے تھے اور ایسی حکمرانی جس میں منی لانڈرنگ بھی ہوتی ہو اور بیرون و اندرون ملک جائیدادیں بھی عوامی خزانے سے بنائی جاتی ہوں۔ کچھ تو خیال کرنا چاہیے کہ ایک ایسا حاکم جو پہلی بار بھٹو مرحوم کے بعد اس دھرتی کی محبت میں مارا مارا پھر رہا ہے اسے بام عروج تک پہنچانا چاہتا ہے بلا شبہ اس سے غلطیاں بھی ہو رہی ہیں مگر ایسی غلطی وہ نہیں کر رہا جس سے قومی خزانے کو براہ راست نقصان پہنچتا ہو۔ چلیں اگر کوئی نقصان پہنچا بھی ہے تو وہ اس کا ازالہ بھی کر رہا ہے ۔ ملکوں سے بھاری رقوم مانگ رہا ہے اسے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ قوم کو بھکاری بنا دیا ہے ایسا ہر گز نہیں ہماری معیشت ڈوب چکی تھی اگر چند ممالک مدد و تعاون نہ کرتے تو صورت حال افریقی ممالک جیسی ہو جاتی مگر عمران خان کی کوششوں سے حالات بہتری کی طرف چل نکلے اب مزید بہتر ہوں گے کیونکہ چین کے ساتھ تجارت و صنعت کے معاہدات ہو رہے ہیں ۔ سی پیک کا از سر جائزہ لیا گیا ہے جس میں ملکی مفاد کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ مختلف شعبوں میں اسے ہر نوع کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ مثال کے طور سے ہائوسنگ سیکٹر میں مکمل تحفظ فراہم کیا جاے گا ۔ کسی قسم کی کوئی معمولی رکاوٹ بھی ہوئی تو اسے دور کیا جائے گا اب اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب دولاکھ گھروں کی تعمیر کا آغاز ہو گا تو روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور کم لاگت میں بے گھر والوں کو گھر بھی دستیاب ہوں گے یہ تو دیگ میں سے ایک دانہ ہے آگے چل کر دیکھیں گے کہ ایک دیوہیکل تعمیر و ترقی کا میدان سج چکا ہے۔ بس یہی وجہ ہے کہ حزب اختلاف کسی نہ کسی طرح عمران خان کی حکومت سے چھٹکارا چاہتی ہے اس مقصد کے لیے مولانا فضل الرحمن کو آگے کیا ہوا ہے اور وہ حکمت عملیاں ترتیب دے رہے ہیں۔ وہ پر امید بھی ہیں کہ ان کا لشکر حکمرانوں کے ایوانوں میں تھر تھلی مچا دے گا اس کے بعد عمران خان از خود استعفیٰ دے کر وزیر اعظم ہائوس سے رخصت ہو جائیں گے اور اس طرح ان کے اتحادی بر سر اقتدار آ جائیں گے مگر ان کے اتحادیوں کا کہنا ہے ہ وہ ایسا نہیں سوچتے وہ حکومت نہیں گرانا چاہتے لہٰذا اس مارچ سے وہ خود کو الگ تھلک بھی ظاہر کر رہے ہیں۔ یعنی خود کو منقسم بتا رہے ہیں کہ ساتھ ہیں بھی اور نہیں بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ پوری طرح مارچ کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں مگر کیا وہ دوبارہ اقتدار میں آ جائیں گے بالکل نہیں انہیں طویل انتظار کرنا ہو گا۔ رہی یہ بات کہ عمران خان کی حکومت سے نجات پا کر وہ احتساب کی چٹکی سے محفوظ ہو جائیں گے تو یہ بھی ممکن نہیں کیونکہ ریاست اس میں دلچسپی رکھتی ہے یہ رُکے گا نہیں آ گے بڑھے گا !

بہر حال کاواں تے آکھیاں ڈھگے نہیں مردے۔ کوئوں کے کہنے سے بیل نہیں مرتے حزب اختلاف جتنا چاہتے زور لگائے عمران خان اپنی جگہ موجود ہوں گے کیونکہ انہوں نے خود کو اس دھرتی کے لیے وقف کر دیا ہے۔ لہٰذا ان میں ’’ہوشیاریاں‘‘ بالکل نہیں ہاں ان کے ساتھیوں میں ( چند ایک ) ہوں گی مگر وہ بھی حساب کتاب کی زد میں آ سکتے ہیں۔ لہٰذا وطن عزیز ترقی کرے گا اور حالات کے بھنور سے یوں نکلے گا جیسے مکھن میں سے بال لہٰذا عوام کو سنجیدہ فہمی کا مظاہرہ کرنا چاہیے ماضی کے حکمرانوں سے امیدیں وابستہ نہیں کرنی چاہیں کہ یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں۔


ای پیپر