کشمیری محنت کشوں کی حالت زار
13 اکتوبر 2019 2019-10-14

بھارتی مقبوضہ کشمیر میں 70 لاکھ بچوں، بوڑھوں، خواتین اور نوجوانوں کی جبری قید کو 67 دن گزر گئے ہیں۔ 5 اگست 2019ء کو نافذ کی جانے والی پابندیاں، کرفیو، لاک ڈاؤن اور دیگر جابرانہ اقدامات نے لاکھوں کشمیریوں کو گھروں میں قید کیا ہوا ہے۔ کاروبار بند ہیں۔ وادی میں ادویات، خوراک اور دیگر اشیائے ضرورت کی شدید قلت ہے۔ ریاستی طاقت کا بہیمانہ استعمال ، گرفتاریاں، چھاپے، جبر اور تشدد معمول بن چکا ہے۔ مودی حکومت نے وادی کشمیر کو عملاً کھلی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ بھارتی قابض افواج کی بڑی تعداد میں موجودگی نے وادی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے۔ بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں کشمیری لوگوں کے جمہوری، سیاسی، معاشی اور بنیادی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارتی افواج وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں۔ اب تک ہزاروں افراد گرفتار ہو چکے ہیں جن میں وکلاء، سیاسی و سماجی کارکن، ٹریڈ یونین رہنما، صحافی اور نوجوان شامل ہیں۔ اس بار تو 9 سے 10 سال تک کے بچوں کو گرفتار کر کے بد ترین تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

بھارت کی فاشسٹ حکومت اجتماعی سزا ارو قید کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے کام، کاروبار کرنے اور آزادی کے ساتھ نقل و حرکت کے حق کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری ہے۔ کاروباری سرگرمیاں بند ہونے سے لاکھوں محنت کش فاقوں کا شکار ہیں۔ چھابڑی والے پھیرے لگا کر مختلف اشیاء بیچنے والے، دیہاڑی دار مزدور، الیکٹریشن، پلمبر، میکینکس اور دیگر محنت کش روزگار سے محروم ہو چکے ہیں۔ روزانہ روزی کما کر اپنے خاندانوں کا پیٹ بھرنے والے خالی ہاتھ اپنے گھروں پر قید ہیں۔ بھارتی حکومت کی ظالمانہ اور جابرانہ پالیسیوں نے لاکھوں خاندانوں کو فاقوں کی صورت حال سے دو چار کر دیا ہے۔ کشمیر میں بد ترین انسانی المیہ جنم لے رہا ہے مگر نہ تو عالمی ضمیر گہری نیند سے بیدار ہو رہا ہے اور نہ ہی عالمی طاقتوں کے کانوں تک بھوک سے بلکتے کشمیری بچوں کی آوازیں پہنچ رہی ہیں۔ بچے اگر دودھ کو ترس رہے ہیں تو مریض ادویات کے انتظار میں دم توڑ رہے ہیں۔ بھارتی مظالم ، بربریت اور وحشت تمام حدود پھلانگ چکی ہے۔

دو ماہ سے فارغ بیٹھے محنت کشوں کی جیبیں خالی ہو چکی ہیں۔ ان کے پاس دودھ، چاول اور دیگر اشیائے ضروریہ خریدنے کے پیسے نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محنت کش اور ان کے خاندان فاقوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کو غربت ، فاقوں اور قبضے کا سامنا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وادی میں رہنے والے 70 لاکھ سے زائد کشمیری بدترین صورت حال سے دو چار ہیں مگر بیروزگار ہونے والے محنت کش اور ان کے خاندان سب سے بری صورت حال سے دو چار ہیں۔

کشمیر کی معیشت کے تین بڑے شعبے سیاحت، ہنیڈی کرافٹس اور زراعت ہیں اور اس وقت تینوں بدترین بحران سے دو چار ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنیاں بند ہو چکی ہیں۔ ٹیلی کام، انٹرنیٹ اور موبائل فون کی سروسز کی مسلسل بندش کے باعث آئی ٹی کی کمپنیوں کے لیے مقبوضہ وادی میں کام کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ اسی وجہ سے سری نگر میں قائم کئی کال سنٹرز بھی بند ہو گئے ہیں۔ اب تک مختلف شعبوں سے لاکھوں محنت کش بے روزگار ہو چکے ہیں۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اب تک 2 ماہ میں کشمیر کی معیشت کو ایک ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ مسلسل کرفیو اور لاک ڈاؤن نے وادی کشمیر کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

سیاحت کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ہزاروں ہوٹل اور ریستورنٹس بند ہو چکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں محنت کش بے روزگار ہو گئے ہیں۔ 5 اگست کو جب بھارتی قابض حکومت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کا اعلان کر کے کرفیو نافذ کیا تو اس وقت سیاحتی سیزن عروج پر تھا۔ اکتوبر تک ہوٹل بک ہو چکے تھے مگر پھر بھارتی حکومت نے سیاحوں کو کشمیر چھوڑنے پر مجبور کیا اور یوں یہ شعبہ بحران سے دو چار ہو گیا۔

اس طرح قالین بانی اور ہینڈی کرافٹس کے کاروبار کا براہ راست انحصار سیاحوں کی آمد سے جڑا ہے۔ سیاحوں کے نکل جانے کے بعد ہزاروں شالین اور قالین بنانے والے محنت کش بیروزگار ہو چکے ہیں۔ سیب وادی کشمیر کی معیشت کے لیے خون کی حیثیت رکھتا ہے ۔ جو اہمیت انسانی جسم میں خون کی ہے وہی اہمیت کشمیری معیشت میں سیب کو حاصل ہے۔ 33لاکھ افراد جو کہ وادی کی آبادی کا نصف ہیں ان کا دارومدار سیب، اخروٹ اور دیگر پھلوں اور میوہ جات پر ہے۔ اس وقت وادی میں سیب کی فصل تیار ہے مگر مسلسل کرفیو اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے سیب درختوں پر لٹکے سڑ رہے ہیں۔ سیب چننے، پیک کرنے اور انہیں انڈیا کے مختلف علاقوں تک پہنچانے کیلیے محنت کشوں کی ضرورت ہے جو کہ اپنے گھروں میں محصور کر دیئے گئے ہیں۔ اگر پابندیاں ختم نہ ہوئین اور فصل خراب ہو گئی تو اس کے کشمیر کی معیشت اور آمدن پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

مقبوضہ وادی کشمیر کا شمار سیب پیدا کرنے والے دنیا کے بڑے علاقوں میں ہوتا ہے۔ موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند ہونے کی وجہ سے کشمیری تاجروں اور کسانوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ بھارت میں سیب کی مجموعی پیداوار کا 66 فیصد سیب وادی کشمیر میں پیدا ہوتا ہے۔ 2016-17ء میں سیب کی ایکسپورٹ سے 9.3 ملین ڈالرز حاصل ہوئے تھے۔ 33 لاکھ افراد کا روزگار اور معیشت کا بڑا حصہ سیب کی پیداوار پر انحصار کرتے ہیں مگر یہ فصل اس وقت گل سڑ رہی ہے اور اس شعبے سے وابستہ محنت کش بیروزگاری کا شکار ہیں۔ وادی کی معیشت مسلسل کرفیو اور فوجی لاک ڈاؤن کی وجہ سے بدترین حالات کا شکار ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مودی سرکار جان بوجھ کر کشمیر کی معیشت کو تباہ کر کے کشمیری عوام کو اجتماعی سزا دے رہی ہے۔ معیشت کی تباہی کے غریب محنت کش عوام کی زندگیوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

اس وقت کشمیری محنت کشوں کو طبقاتی یکجہتی اور جڑت کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور بھارت کی ٹریڈ یونین تحریک اور مزدور تنظیموں کو کشمیری محنت کشوں کے حقوق کی آواز بلند کرنی چاہیے۔ پابندیوں اور کرفیو کا خاتمہ ہونا چاہیے اور نقل و حرکت پر عائد پابندیاں ختم ہونی چاہئیں۔ بھارتی غاصبانہ قبضے اور ظلم و جبر کے خلاف بھی آواز بلند ہونی چاہیے۔


ای پیپر