” وائے ڈی اے سے مکالمہ“
13 اکتوبر 2019 2019-10-13

ایک مرتبہ پھر ہسپتالوں میں ہڑتال ہو رہی ہے، پڑھے لکھے باشعور مسیحا صبح صبح ہسپتال کی پرچی بنانے کا عمل روک دیتے ہیں، اوپی ڈیز سے آپریشن تھیٹرتک بند کر دیتے ہیں جس سے ہزاروں اور لاکھوں غریبوں کو شدید ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کیا یہ نوجوان ڈاکٹر پاگل ہیں، جنونی ہیں یا انڈیا سے آئے ہوئے ہیں جو پاکستانیوں کی جان لینا چاہتے ہیں۔ یہ سوال مختلف جگہو ں پر پوچھے جا رہے ہیں ، انہی سوالوں کے ساتھ’ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن‘ سے ایک مکالمہ پیش خدمت ہے جس میں پہلا سوال ہی یہ ہے کہ آپ یہ سب کیوں کر رہے ہیں، کیا آپ پاگل ہو گئے ہیں تو اس کا جواب ہے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ عمل نہیں محض ردعمل ہے، میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز المعروف ایم ٹی آئی ایکٹ کا، ایک کالا قانون، جسے پنجاب حکومت لاگو کرنا چاہتی ہے، آپ عمل سے پہلے ردعمل بارے سوال کر رہے ہیں ۔

اچھا، اچھا، پہلے یہی پوچھ لیتا ہوں کہ ایم ٹی آئی کالاقانون کیوں ہے، یہ تو وہ تبدیلی ہے جو پی ٹی آئی کی حکومت لانا چاہتی ہے، یہ قانون خیبرپختونخوا میں پہلے سے موجود ہے ، پولیس اور بلدیاتی نظام کے ساتھ ان تین بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے جس پر پختونوں کی اکثریت نے ماضی کی روایات کے برعکس پرانی حکمران جماعت کو دوبارہ مینڈیٹ دیا ۔۔ اس کا جواب ہے کہ اگر یہ اتنا ہی اچھا قانون ہے تو پھر خیبرپختونخوا کے ہسپتالوں میں پنجاب سے بڑھ کر احتجاج کیوں ہے، پختونوں کی بڑی تعداد علاج کروانے کے لئے پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کا رخ کیوں کرتی ہے،خیبرپختونخوا میں صحت کے شعبے میں تاریخ کا بدترین برین ڈرین کیوں ہو رہا ہے۔خیبرپختونخوا میں صحت کے شعبے میں اصلاحات محض پروپیگنڈہ ہیں ورنہ صحافیوں سے پوچھیں، جنہیں چوٹ لگ جائے تو سیدو شریف کے ہسپتال میں انہیں اپنے لئے پٹی اور مرہم تک نہیں ملتی، یہی وجہ ہے کہ پختونوں کے بچوں کو بلڈ کینسر جیسا مرض ہوجائے تو انہیں مفت علاج کے لئے پشاور اور ایبٹ آباد کے ہسپتالوں سے لاہور آنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

نہیں، نہیں، میرا خیال ہے کہ آپ اپنی نوکریوں کے لئے احتجاج کر رہے ہیں، اب آپ کو کام کرنا پڑے گا جب ایک بورڈ آف گورنرز آپ کے سر پر ہو گا اور آپ کو نوکریوں کے لالے پڑے ہوں گے۔ ۔ ہاہاہا، یہ پروپیگنڈہ سو فیصد سچ نہیں کہ جب سرکاری ہسپتالوں کے بیڈوں پرکی ’ آکوپینسی‘ تین سو فیصد ہوتی ہے تو ان کا علاج ڈاکٹر ہی کر رہے ہوتے ہیں ان کے علاج کے لئے پی ٹی آئی کے ایم این اے اور ایم پی اے نہیں آتے اور ڈاکٹروں کی نوکریوں کی زیادہ پروا نہ کریں کہ اگر انہیں یہاں نوکریوں ، تنخواہ اور عزت نفس کا تحفظ نہیں دیں گے تووہ بیرون ملک چلے جائیں گے یا اپنے پرائیویٹ کلینک بنا لیں گے مگر سوچیں کہ سرکاری ہسپتال کیسے چلیں گے۔ پی ٹی آئی سرکار بڑے ہسپتالوں میں کنٹریکٹ کا نظام لانا چاہتی ہے اور اگر یہ اتنا ہی اچھا نظام ہے اور اس میں کارکردگی واقعی بہتر ہوجاتی ہے تو اسے پہلے بیوروکریسی، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ میں لاگو کر دیاجائے۔ کنٹریکٹ کا نظام شہباز شریف نے بھی بیس، بائیس برس پہلے دیا تھا مگر دس، پندرہ برس بعد اندازہ ہوا کہ سروس سٹرکچر ختم ہونے کے بعد نہ ہسپتالوں میں رجسٹرار اور سینئر رجسٹراررہے اور نہ ہی میڈیکل کالجوں میں ریٹائر ہونے الے پروفیسروں کی جگہ پر لوگ آ سکے، میڈیکل کے شعبے میں سینئرز کابدترین اور تباہ کن بحران پیدا ہو گیا۔

آپ احتجاج کیوں کر رہے ہیں، آپ کی دعاو¿ں بلکہ محنت سے صحت کی وزیراب ایک ڈاکٹر ہیںاوراگر یہ ایسا ہی بدترین اور تباہ کن کام ہے تو پھر تمام تنظیمیں آپ کے ساتھ کیوں نہیں، پی ایم اے کہاں ہے ۔۔ دیکھیں، کنفیوژ نہ ہوں، ہمارے ساتھ صحت کے شعبے کی تمام تنظیمیں ہیں اور پی ایم اے کی دو اقسام ہیں، کچھ اضلاع میں پی ایم اے کا باقاعدہ الیکشن ہوتا ہے جیسے فیصل آباد، گجرات اور ملتان وغیرہ ، وہ سب ہمارے ساتھ ہیں مگر لاہور سمیت کچھ باڈیز میں محض نامزدگیاں ہوتی ہیں ، جنہیں عام ڈاکٹر کے ایشوز سے زیادہ میڈم منسٹر سے تعلقات اہم لگتے ہیں تو وہ ہمارے ساتھ نہیں ہیں، ویسے میڈم ہیلتھ منسٹر بھی اس نظام کے خلاف احتجاج کرتی رہی ہیں مگر اس وقت ان کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ جناب عمران خان کے کزن سے بغاوت کرتی ہیں تو وزارت سے جاتی ہیں جوان کے عمر بھر کے خواب کی تعبیر کے طور پر ملی ہے، ہم جانتے ہیں کہ میڈم منسٹر مجبور ہیں۔ یہ درست ہے کہ ینگ ڈاکٹروں کی بھاری اکثریت نے پی ٹی آئی کوووٹ دئیے مگرپی ٹی آئی نے ہمارے خواب چکنا چور کر دئیے۔ ہم نے آرڈیننس آنے کے بعد کئی کئی روز تک کئی کئی گھنٹے مذاکرات کئے، اپنی تجاویز دیں مگرو ہ سب ردی کی ٹوکری میں پھینک دی گئیں۔ آپ خود بتائیں کہ بورڈز آف گورنرز میں پی ٹی آئی کے پیارے ہوں گے جوطب کی اہلیت اور انتظامی تجربہ بھی نہیں رکھتے ہوں گے تو کیا یہ سرکاری ہسپتالوں میں عطائیت کی حکومت نہیں ہو گی، کیا یہ باہر کے لوگ عارضی اقتدار میں اربوں روپوں کی ادویات کے ٹھیکوں میں کمیشن نہیں بنائیں گے، کیا یہ لوگ ہسپتالوں میں ہر قسم کا علاج خسارہ پورا کرنے کے نام پر مہنگا نہیں کریں گے، کیا پی ٹی آئی کے پیاروں کی سربراہی میں صرف ان کے کاسہ لیس ہی ملازمت نہیں کر سکیں گے؟

مگر حکومت غریبوں کے لئے صحت کارڈ لا رہی ہے جو اگرچہ سابق حکومت کا ہی منصوبہ ہے مگر بہرحال غریبوں کو سوا سات لاکھ روپے تک کا علاج مفت ملے گا ۔۔ آپ اس نظام کی تفصیلات دیکھیں کہ یہ کچھ بااثر افراد کی ہیلتھ انشورنس کمپنیاں چلانے کا نظام ہے ورنہ پاکستان کی آبادی میں نصف کو بھی غریب سمجھ لیا جائے ، اس میں ایک کروڑ کو بھی ہیلتھ کارڈ دے دیا جائے تو باقی دس کروڑ علاج کہاں سے کروائیں گے۔ پی ٹی آئی حکومت بورڈ آف گورنرز کو علاج معالجے کے نرخ طے کرنے کے اختیارات دے رہی ہے،ایم ٹی آئی آنے کے بعد علاج اتنا مہنگا ہوجائے گا کہ آپ پندرہ بیس ہزار والے کی بات کرتے ہیں، یہاں پچاس ، ساٹھ اور ستر ہزار ماہانہ کمانے والاکسی بڑے مرض کا علاج اورآپریشن نہیں کروا سکے گا ۔ صحت کارڈ محض ڈھکوسلا ہیں ، ان پر شرائط اتنی زیادہ ہیں کہ اسے ایمرجنسی میں بھی استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ سرکاری علاج مہنگا ہونے کے بعدپرائیویٹ خود بخود مہنگا ہوجائے گااور یوں عام پاکستانی کے پاس یہی چارہ ہو گا کہ وہ اپنا گھر یا گردہ بیچ کر اپنے بچے کے ہیپاٹائٹس کا علاج کروا لے۔

کیا آپ نہیں چاہتے کہ ہر ہسپتال شوکت خانم کینسر ہسپتال بن جائے جو ایک سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال ہے ۔۔ یہ آپ بتائیے کہ اگر آپ ایسا چاہتے ہیں تو اس کے برابر بجٹ دے دیجئے، شوکت خانم کا بجٹ زکوٰة اور صدقات سے بیس ارب سالانہ تک پہنچ رہا ہے جبکہ لاہور کے اس سے چار گنا بڑے سرکاری ہسپتال کا بجٹ اس سے ایک چوتھائی سے بھی کم ہے یعنی سرکاری ہسپتال کو ایسے میں چلانا ایک معجزہ ہے جب آپ نے گزشتہ برس اس کا بھی پچیس فیصد جاری ہی نہ کیا ہو اور یوں بھی کیا آپ چاہتے ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں میںشوکت خانم کی طرح کا نظام ہو کہ وہ صرف ان مریضوں کو داخل کریں جن کی صحت یابی یقینی ہو اور باقی سب کو انکار کر کے موت کے انتظارکے لئے گھر بھیج دیا جائے، اب تو شوکت خانم کے ریفیوژل والے سرکاری ہسپتالوں میں آجاتے ہیں اس کے بعد کہاں جائیں گے؟

اچھا، اچھا، ٹھیک ہے مگر احتجاج کرتے ہوئے او پی ڈیز، آپریشن تھیٹر بند کرنے کی کیابدمعاشی ہے، یہ تو مت کریں ۔۔ چلیں آپ کی مان لیتے ہیں، نہیں کرتے، آپ بتائیں کہ ہم کیا کریں کہ حکومت صحت کے نظام میں اس کے سٹیک ہولڈرز کی بات سنے اور اربوں کھربوں روپوں کے سرکاری ہسپتال اپنے پیاروں اور فنانسروں کے حوالے نہ کرے۔ یقین کریں کہ اگر ہم غلط ہوتے تو ہر ڈاکٹر، ہر نرس اور ہر پیرامیڈکس ہمارے ساتھ نہ ہوتا، ہم اداروں کو بچانے نکلے ہیں،آپ ہڑتال نہیں چاہتے تو مہذب ممالک کی طرح سول سوسائٹی اور بااثر گروپس اپناکردارادا کریں۔ یوں بھی ہم ایک ہفتہ ہسپتال بند کر لیں گے یا ایک مہینہ مگر آپ یقین کریں کہ اگر یہ نظام آ گیا تو پھر غریبوں کے لئے سرکاری ہسپتالوں کے دروازے ہمیشہ کے لئے بند ہوجائیںگے تو کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم اس ایم ٹی آئی ایکٹ کے کینسر کا علاج کرتے ہوئے احتجاج اورہڑتال کے نشترکا درد برداشت کر لیں ورنہ حکمران تو اپنے گھر چلے جائیں گے مگرایم ٹی آئی کا کینسر صحت کے شعبے کی ہڈیاں تک نچوڑ لے گا، خدانخواستہ، اس کی جان لے لے گا۔


ای پیپر