سعودیہ جمال خاشق جی کے قتل میں ملوث ہوا تو سبق سکھائیں گے‘ امریکی صدر
13 اکتوبر 2018 (23:10) 2018-10-13

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار قرار پایا تو امریکا عرب ملک کو سخت سزا دے گا۔

گزشتہ روز برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر واقع کے تصدیق ہوگئی تو مجھے برا لگے گا اور غصہ بھی آئے گا لیکن ساتھ ہی انہوں نے فوجی معاہدوں کے خاتمے کو یکسر مسترد کیا۔اگر صحافی کا قتل سچ ثابت ہوا تو یہ انتہائی ہولناک اور قابل نفرت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملے کی تہہ تک جانا چاہتے ہیں اور اس کی انتہائی سخت سزا دی جائےگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سزا کے دیگر طریقے موجود ہیں جن میں فوجی معاہدے کو معطل کرنا بھی شامل ہے، اور یہی روس اور چین چاہتے ہیں۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ 'میں اس قسم کا حکم جاری نہیں کرنا چاہتا۔گزشتہ روز اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آنٹونیو گوٹیرس نے بتایا تھا کہ 'اس قسم کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے اور انہوں نے بین الاقوامی کمیونٹی کو ایسے واقعات پر رد عمل دینے پر زور دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک مرتبہ یہ واضح ہوجائے کہ صحافی کےساتھ کیا ہوا تھا حکومتوں کو اس معاملے میں خود بہتر انداز میں فیصلے لینے چاہیے کہ آیا رواں ماہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کرنی چاہیے یا نہیں۔

واضح رہے کہ ورلڈ بینک کے سربراہ جم کم نے پہلے ہی مذکورہ کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ورجن کے سربراہ سر ریچرڈ برسن کا کہنا تھا کہ وہ خود کو سعودی عرب کے 2 سیاحتی منصوبوں کے ڈائریکٹر کے عہدے سے علیحدہ کررہے ہیں،واقعہ کے حوالے سے آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ موجود ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ کسی اور ترکی عہدیدار نے بھی مذکورہ ویڈیو دیکھیں یا یہ ریکارڈنگ سنی ہیں۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں ایک سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ ریکارڈنگ سے صحافی پر تشدد اور بعد ازاں انہیں قتل کرنے کی تصدیق ہوتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 'ریکارڈنگ میں عربی زبان بولنے والوں کی آوازیں سنی جاسکتی ہیں،ریکارڈنگ میں صحافی سے تحقیقات، تشدد اور قتل سے متعلق آوازیں سنی جاسکتی ہیں۔یاد رہے کہ ترک میڈیا پہلے ہی جمال خاشقجی کے سعودی قونصل خانے میں داخل ہونے کی ویڈیو نشر کر چکا ہے۔اس کے علاوہ ایک علیحدہ ویڈیو میں سعودی انٹیلی جنس افسران کو ترکی میں داخل ہوتے اور جاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ترک میڈیا نے دعوی کیا کہ سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے صحافی کے لاپتہ کرنے میں 15 افراد پر مشتمل ٹیم کی نشاندہی کرلی گئی ہے۔


ای پیپر