ججوں کا احتساب۔۔۔!
13 اکتوبر 2018 2018-10-13

عالی مرتبت چیف جسٹس آف پاکستان نے لاہور میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی گولڈن جوبلی کی تقریب سے خطاب اور ایک سماعت کے دوران فرمایا اب ججوں کا بھی احتساب ہو گا۔۔۔ سپریم جوڈیشل کونسل بہت فعال ہو چکی ہے کام نہ کرنے والے ججوں کے خلاف بھی آرٹیکل 209کے تحت کارروائی ہو گی۔۔۔ مقدمات کے جو ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔۔۔ انہیں بروقت نمٹایا نہیں جاتا۔۔۔ عام آدمی کو وقت پر انصاف نہیں ملتا۔۔۔ ایک جج جس پر قومی خزانے سے پچپن ہزار یومیہ کے لحاظ سے رقم خرچ ہوتی ہے۔۔۔ اس لحاظ سے یہ سب سے زیادہ مراعات یافتہ طبقہ ہے۔۔۔ لیکن وہ اپنی ذمہ داریوں سے کماحقہٗ عہدہ برا کیوں نہیں ہوتے۔۔۔ ججوں کو اس کا حساب دینا ہو گا انہیں اپنا طرز عمل درست کرنا پڑے گا۔۔۔ چیف جسٹس کے الفاظ میں لوگ چیخ چیخ کر مر رہے ہیں۔۔۔ لیکن انصاف نہیں ملتا۔۔۔ ججوں کو چھٹی والے دن کی تنخواہ نہیں ملے گی۔۔۔ ہائی کورٹ ماتحت عدالتوں کی نگرانی میں کیوں ناکام ہے۔۔۔ کیا ججوں کو بلا کر وضاحت مانگوں۔۔۔ نا اہل عدلیہ اور وکلاء سائیلین کا استحصال کر رہے ہیں۔۔۔ میں بھی قاضی کی صفات پر پورا نہیں اترتا۔۔۔ از خود نوٹسز حل نہ کر سکا۔۔۔ قوانین تبدیل کرنا ہوں گے۔۔۔ جھوٹ بددیانتی کا نظام کیسے ڈلیور کرے گا۔۔۔محترم المقام چیف جسٹس نے اپنے شعبے کی ناقص کارکردگی کی جانب درست طور پر نشاندہی کی ہے۔۔۔ انہوں نے اس کے تدارک کے لیے موثر اقدامات کے ارادے کا اظہار بھی کیا ہے۔۔۔ اگرچہ عالی مرتبت جناب ثاقب نثار نے ہمارے عدالتی نظام میں پائے جانے والی خرابیوں اور عالی محترم جج حضرات کی مجموعی ناقص کارکردگی کا اس وقت نوٹس لیا ہے جب خود ان کے عہدے کی معیاد کو ساڑھے تین ماہ باقی رہ گئے ہیں۔۔۔ اگر موصوف محترم تین برس قبل جب وہ ملک کی سب سے بڑی اور طاقتور مسند عدل و انصاف پر متمکن ہوئے تھے، اپنے ماتحت عدالتی نظام کے اندر پائی جانے والی نمایاں کمزوریوں کی جانب پوری طرح متوجہ ہوجاتے۔۔۔ ان کے تدارک کی خاطر اقدامات کا آغاز کر دیتے تو شاید اب تک اصلاح احوال کا عمل بہت آگے کی جانب بڑھ چکا ہوتا۔۔۔ چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ سنبھالتے وقت میاں ثاقب نثار کے لیے یہ سب باتیں ہرگز نئی نہیں تھیں۔۔۔ ان کا عمر بھر کا کیریئر اسی میدان میں خدمات سر انجام دیتے ہوئے گزرا ہے۔۔۔ خود ان کا فرمانا ہے میں سات سال کی عمر کا تھا تو بار روم میں آنا جانا شروع ہوا۔۔۔ گویا میں اس کا سب سے پرانا ممبر ہوں۔۔۔ پھر وہ ایک سینئر وکیل کے طور پر نمایاں ہوئے۔۔۔ لاہور ہائی کورٹ کے جج بنے۔۔۔ یہاں سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے بنچ پر رونق افروز ہوئے۔۔۔ لا تعداد مقدمات سنے۔۔۔ اس کے بعد سنیارٹی کے اصول کی بنیاد پر ہماری عدالتی دنیا کے سب سے اونچے مرتبے پر فائز کر دیے گئے۔۔۔ آخر ان سے اعلیٰ عدالتوں اور عالی مرتبت ججوں سمیت ماتحت عدلیہ کا کون سا ایسا پہلو یا ان کی ناقص کارکردگی یا مقدمات کا انبار لگے رہنے کے اسباب اور عام آدمی کو بروقت انصاف نہ مہیا کرنے میں جج حضرات کی جانب سے کیا جانے والا تساہل مخفی تھا۔۔۔ جسے ٹھیک کرنے اور درست راستے پر لانے کا بیڑاوہ بروقت اور فوراً نہیں اٹھا سکتے تھے۔۔۔ اگر روز اوّل سے اس نیک اور ضروری کام کا عزم صمیم باندھ لیتے تو آج تین سال بعد ملکی تاریخ کے سب سے بڑے ریفارمر چیف جسٹس کی حیثیت سے ان کے نام کا ڈنکا بج رہا ہوتا اور انہیں شاید ٹیلی ویژن سکرینوں پر نشر اور اخبارات میں بڑی بڑی سرخیوں والی تقریروں کی ضرورت پیش نہ آتی۔۔۔ اس کے برعکس ریٹائرڈ ججوں ، سینئر وکیلوں اور دانشوروں و تجزیہ نگاروں کی ایک بڑی تعداد ہوتی جو ان کے کارناموں پر خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ذرائع ابلاغ پر چھائی ہوتی۔۔۔ جناب محترم میاں ثاقب نثار نے اپنے تین برسوں کے دوران ریکارڈ تعداد میں سو موٹو نوٹسز لیے ہیں اس میدان میں اپنے پیشرؤں کو بہت پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔۔۔ اب اس اعتراف پر مجبور ہوئے ہیں سو موٹو نوٹسز زیادہ مؤثر ثابت نہیں۔۔۔ آخر کیوں۔۔۔ اس طرز عمل یا معمول سے ہٹ کر عدالتی اپروچ میں کیا خامی پائی جاتی تھی جس کا ابتداء میں جائزہ نہ لیا گیا۔۔۔ اب سورج ڈھلے احساس ہوا ہے۔۔۔ عالی مرتبت چیف جسٹس آف پاکستان کو اس امر کی بھی بنظر غائر جانچ پر کھ کرنی چاہیے کہ آئین کی دفعہ 184/3کا سہارہ لیتے ہوئے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے نام پر پچھلے ڈیڑھ دو برسوں سے انتظامیہ کے کاموں میں جو تقریبا روزانہ کے حساب سے مداخلت ہوتی رہی ہے۔۔۔ اس سے ملک کے اندر کونسا انقلاب رونما ہو گیا ہے ماسوائے اس کے کہ آئین پاکستان نے عدلیہ ، انتظامیہ اور مقننہ کے درمیان تقسیم کار کا جو واضح اور قطعی دائرہ کھینچا ہوا ہے۔۔۔ اور جس کا ہر لحاظ سے پاس و لحاظ ایک آئینی و جمہوری نظم مملکت کی کامیابی کے لیے از بس لازمی ہے وہ لیکر تقریباً مٹ کر رہ گئی۔۔۔ عدلیہ اور انتظامیہ میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔۔۔ انتظامی کوتاہیوں پر اکثر و بیشتر متوجہ رہنے کی وجہ سے اعلیٰ عدالتوں میں مقدمات کے زیادہ بڑے پہاڑ کھڑے ہو گئے۔۔۔ جبکہ انتظامیہ پر خوف طاری ہو گیا۔۔۔ بڑے بڑے افسر اپنے طور پر کوئی اقدام یا initiative لینے کے قابل نہ رہے مبادا سوموٹو نوٹس لے لیا جائے اور انہیں عدالتوں اور میڈیا کے ذریعے عوام دونوں کے سامنے خوار ہونا پڑے۔۔۔ محترم المقام چیف جسٹس کو دورن بینی سے کام لیتے ہوئے اس بات کا جائزہ بھی لینا چاہیے کہ 15 دسمبر 2017ء سے لے کر اب تک جو انہوں نے اچانک مختلف ہسپتالوں کے دورے کیے ہیں۔۔۔ وہاں کی حالت زار کا نوٹس لیا ہے۔۔۔ اس سے ہسپتالوں کے نظام میں کتنی بہتری آئی ہے۔۔۔ ان کے یہ دورے لاچار اور تڑپتے مریضوں کو بروقت اور سستا علاج اور دیگر سہولتیں مہیا کرنے میں کتنی مدد ملی ہے۔۔۔ اگرچہ میڈیا پر ان دوروں کا بہت چرچا رہا۔۔۔ اور خوف پبلسٹی ہوئی۔۔۔ اسی دوران انہوں نے خود کو بابا رحمت کے لقب سے سرفراز فرمایا۔۔۔ اب کہتے ہیں یہ لفظ مذق بن گیا ہے۔۔۔ 

ججوں کے احتساب کی ایک قابل توجہ مثال ابھی تین روز پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر ججو جسٹس شوکت صدیقی کے معاملے میں سامنے آئی ہے۔۔۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنے متفقہ فیصلے میں ان کی برطرفی کا حکم صادر کرتے وقت فرمایا ہے کہ جج شوکت صدیقی نے اعلیٰ عدالتوں کے کاموں میں ایجنسیوں کی مداخلت کے بارے میں جو الزامات عائد کیے وہ ان کا ثبوت فراہم نہ کر سکے۔۔۔ ان سے جو سوال کیے گئے۔۔۔ ان کا جواب نہ دے سکے۔۔۔ 39 صفحات پر مشتمل فیصلے کی جو رپورٹ اخبارات میں شائع ہوئی ہے، ان میں سوالات تو موجود ہیں لیکن جسٹس صدیقی نے جو جواب دیا اس کی تفصیل سامنے نہیں آئی ماسوائے کہ پوچھے جانے پر دو اہلکاروں کے نام انہوں نے بتا دیے۔۔۔ برطرف شدہ جج کا مطالبہ تھا کہ ان کے خلاف مقدمے کی سماعت کھلی عدالت میں کی جائے۔۔۔ میڈیا کو براہ راست رپورٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔۔۔ نیز مقدمے کی سماعت کی خاطر ایسے ججوں پر مشتمل کمیشن تشکیل دیاجائے جن میں ’پی سی او‘ کے تحت حلف لینے والی کوئی ہستی شامل نہ ہو۔۔۔ یہ تینوں مطالبات فطری انصاف کے تقاضوں پر مبنی ہیں۔۔۔ ان میں سے ایک بھی تسلیم نہیں کیا گیا آخر کیوں۔۔۔ اس پر مستزاد یہ کہ کوئی جج اپنے بارے میں مقدمے کا فیصلہ کیسے کر سکتا ہے خواہ سپریم جوڈیشل کونسل کا رکن ہو۔۔۔ جسٹس صدیقی ڈٹ کر اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔۔۔ اپنے الزامات کی صداقت اور اصابت پر یقین رکھتے ہیں اور فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔۔۔ انہوں نے اپنے بیان کردہ اصول کی خاطر پچپن ہزار روپے روزانہ والی نوکری تج کر کے رکھ دی ہے مگر موصوف نے اپنے تئیں ہمارے ریاستی اداروں کے کچھ کرداروں کو بے نقاب کرنے کی جو سعی کی ہے۔۔۔ اس کا کسی ’ان کیمرہ‘ اجلاس میں نہیں بلکہ عدل و انصاف کے تمام تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کھلی عدالت میں جائزہ لیا جانا چاہیے اور جسٹس صدیقی کے الزامات کی ہر پہلو سے آزادانہ جانچ پرکھ ہونی چاہیے۔۔۔ کیونکہ یہ مسئلہ پاکستان میں آئین کی بالادستی، جمہوری قدروں کی فوقیت اور اعلیٰ ترین عدالتوں کے تقدس سے تعلق رکھتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ اس باب میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی اس طرح ہو کہ ہوتا سب کو نظر آئے۔۔۔ کوئی ابہام باقی نہ رہے جن شبہات نے جنم لیا ہے ان کا حقیقی معنوں میں خاتمہ ہو جائے۔۔۔ اس وقت ملک میں جس نوعیت کا عدالتی اور احتسابی ماحول پروان چڑھ چکا ہے، اس کے اندر سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ سینئر جج جسٹس جاوید اقبال کی نگرانی میں کام کرنے والے قومی احتساب بیورو (نیب) کا تازہ ترین شاہکار یہ سامنے آیا ہے کہ تین سابق یونیورسٹی وائس چانسلروں اور دیگر سینئر اساتذہ کو ہتھکڑیاں پہنا کر احتساب بیورو کے حضور پیش کیا گیا ہے۔۔۔ ان کے خلاف ابھی تک کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔۔۔ ریفرنس تیار ہوا ہے نہ فرد جرم عائد ہوئی ہے۔۔۔ مگر قوم کی کئی نسلوں کو علم و تہذیب اور شعور و آگہی کے زیور سے آراستہ کرنے والے اساتذہ کرام کی پوری دنیا کے سامنے تذلیل کر کے رکھ دی گئی ہے۔۔۔ انہوں نے ڈاکٹر عقلمہ ، ڈاکٹر اکرم چودھری اور ڈاکٹر کامران مجاہد کو نہیں۔۔۔ علم تہذیب کو ہتھکڑیاں لگائی ہیں۔۔۔ اگر کسی مہذب ملک میں ایسا واقعہ ہوتا تو اس کے تمام کے تمام شہریوں کے منہ شرم سے ڈوب جاتے۔۔۔ لیکن کیا احتساب بیورو کے بر خود غلط تفتیش کاروں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ پاکستان ایک مہذب ملک نہیں اور اس کی قوم کے افراد شائستہ قدروں اور حقیقی احتساب کے اصولوں سے ناواقف ہیں۔۔۔ یہ اساتذہ نہیں پوری قوم اور اس کے روشن ضمیر کی توہین ہے۔۔۔ چیف جسٹس نے نیب کے اس انتہا درجے کے علم و تہذیب دشمن اقدام کا نوٹس لیا ہے۔۔۔ لازم ہے ایک ڈکٹیٹر کے ہاتھوں انتقامی احتساب کے جذبے سے قائم ہونے والے اس ادارے کا کڑا احتساب کیا جائے جس نے سیاستدانوں پر ہاتھ ڈالتے ڈالتے اساتذہ کرام کے گریبانوں کو بھی جا لیا ہے۔۔۔ یوں ہماری اعلیٰ ترین علمی اور تہذیبی و ثقافتی قدروں کا خون کر کے رکھ دیا ہے۔۔۔ پوری دنیا کے سامنے شرمسار کیا ہے۔ 


ای پیپر