نہ ایسے پلٹے گی تیری قسمت۔۔۔
13 اکتوبر 2018 2018-10-13

قومی معیشت زلزلوں کی زد میں ہے۔ اچانک ڈالر کا سرپر غرور مزید آسمانوں کو چھونے لگا۔ حسب توقع فرماتے ہیں۔ مہنگائی ہمارا قصور نہیں، معیشت بحالی کے لیے سخت فیصلے کیے۔ وزیراطلاعات کی صفائیاں! دھرنوں کی گھن گرج ، ایمپائر کی انگلی پر نظریں جمانا آسان اور آسودہ تھا (ملکی معیشت کو خساروں میں ڈالنے میں طویل دھرنوں کا بھی پورا پورا حصہ ہے۔) جب عملاً اس کرسی پر آن بیٹھے اور ایمپائر انگلی ہلانے کی بجائے ریڈ کارڈ تھامے بیٹھا ہو( ہرسویلین حکومت کے لیے) تو کہانی کا پیرا یہ بدل جاتا ہے۔ اب ڈالر روپے، آٹے دال کا بھاؤ پتہ چل گیا۔ اسد عمر، آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لگارڈے سے ملاقات کرتے دکھائے گئے ہیں۔ ان سے مصافحے کی بدن بولی ہانکے پکارے بہت کچھ کہہ رہی ہے۔ آگئے ہو؟ لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا۔ اتنی بڑھکیں کیوں ماری تھیں؟۔بس جی نہ پوچھیں!کوئی راستہ نکالیں، ہم تو پھنس گئے ہیں!پھر خوش ہوکر کرسٹین نے کہا۔ ’ہم پاکستان کے ساتھ اشتراک کے تسلسل کے لیے چشم براہ ہیں‘۔ اب ذراپلٹ کر قوم کا حال پوچھ لیں، گیس بجلی کی قیمت بڑھانے پر مہنگائی کے طوفان کا سامنا ہے۔ پہلا حملہ ہی غریب مزدور کی روٹی (تندورکی گیس) پر ہے۔ ٹرانسپورٹ بھی (سی این جی بنا پر) تمام اشیائے صرف اور بس ویگنیں استعمال کرنے والے طبقے ہی پر بجلی گرائے گی ۔ اس کے باوجود اسد عمر تسلی دے رہے ہیں کہ بوجھ صرف مال داروں پر ڈالا جائے گا۔ یہ وہی پرانا، بہت ہی پرانا مشروب ، نئی بوتل میں ہے۔ ورلڈ بینک نے (یہ بوجھ عوام پر منتقل کرنے پر ) تھپکی دی۔ شاباش دیتے ہوئے اسے بھی ناکافی قرار دیا ۔یعنی ڈومور۔ آپ میزائل ، ڈرون ڈومور سے نکلے تو گیس بجلی بم گرائے جانے لگے۔ ملک میں افراتفری کا ایک طوفان اٹھا ہوا ہے۔ عوام کو زیروزبر کردو۔ سیاست دانوں، اپوزیشن کو اپنی اپنی ڈال دو۔ مقدموں، نیب ، احتساب عدالتوں کے کوڑے برس رہے ہیں۔ جب لوگوں کے گھروں کے بجٹ درہم برہم ہورہے ہیں، اپوزیشن اپنی افتاد سے نمٹ رہی ہے۔ عوام کے حق، یا حکمرانوں کی کارکردگی پر متوجہ ہونے، متحد ومتفق ہونے، تنقید کی فرصت بھی نہیں پارہی۔ وفاقی وزیر علی زیدی نے فرمایا : قوم مشکلات پر صبر کرے آگے بہت اچھا وقت ہے۔ یہی تسلی وزیراعظم نے بھی دی۔ تاہم یہ نہیں بتایا ، کس کا اچھا وقت آنے والا ہے؟ امراء کا ۔؟ آپ کے تو سبھی وقت اچھے ہوتے ہیں ۔سو عوام ہی صبر کے گھونٹ پئیں ۔ معیشت کی بحالی کے وعدوں پر امید بہار رکھیں۔ عوام کا مقدر تو سدا یہی رہا۔ ننگے پنڈے ننگے پیر،تے سرتے چھت اسماناں دی۔ خوشحالی دے سپنے ویکھن فٹ پاتھاں تے سوندے لوگ۔ اتنا بڑا معاشی بحران بہرصورت کوئی ننگ شگون نہیں۔ عالمی دجالی منصوبہ سازوں کے ہاں پوری مسلم دنیا کے لیے کچھ طے شدہ امور ہیں۔ پاکستان کچھ مختلف نہیں۔ ایٹمی طاقت اور تزویراتی حیثیت ، عوام کے مذہبی لگاؤ کی بناپر احتیاط طلب ضرور ہے۔ شام، عراق، افغانستان والا فارمولا کارگر نہیں۔ سو کرپشن اور اصلاحات کے نام پر وہ گردوغبار اٹھایا جارہا ہے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے۔ ملکی استحکام کو درہم برہم کرنے میں ایک طرف انتقامی جنگ وجدل کا جواربھاٹا اٹھارہا ہے اور دوسری جانب معیشت کے قدموں تلے کی زمین کھینچی جارہی ہے۔ سارا بوجھ عوام پر منتقل کرنے سے جو افراتفری ہوگی اسی میں خلائی مخلوق، نجات دہندہ بن کر اترسکتی ہے۔ یہی مرضی میرے صیاد کی ہے۔ کے دوران بیروز گاری کے مارے پی ایچ ڈی حضرات نے مظاہرہ کیا۔ وہ وزیراعظم سے ملاقات کے خواہاں تھے۔ لیکن وہ تو ہیلی کاپٹر پر اڑ گئے۔ زمینی مخلوق دیکھتی ہاتھ ملتی رہ گئی !

مسلم ممالک میں مشرف فارمولا عالمی طاقتوں کو زیادہ راس آتا ہے۔ ایک فرد سے معاملہ کرنا آسان رہتا ہے۔ اشرف غنی نما فدوی ہو یا السیسی نما گماشتہ یا مشرف کی طرح ڈھیر ہو جانے والا۔ اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ 22سال کے انتظار کے بعد انصافیوں کو حکومت ملی۔ کم ازکم معیشت کے سدھار کے کچھ فوری فارمولے تو تیار کررکھے ہوتے۔ نہ ایسے پلٹے گی تیری قسمت نہ یوں نیا آسمان بنے گا۔ ادھاربادل، ادھار سورج، کہیں کا چندا، کہیں کے تارے!ہمارے ہاں کس مپرسی کے عالم میں ہرجائی امریکہ کی جگہ چین کے ساتھ روس کا نام بھی لیا جاتا ہے۔ کاسۂ گدائی ہی ہمارے شعور میں سرسراتا ہے۔ ڈالر نہ سہی روبل سہی۔ حالانکہ روس کی مسلمان دشمنی نہ صرف بشارالاسد کے ساتھ مل کر شام کی تباہی و بربادی کی صورت عیاں ہے بلکہ اب بھارت کو مہلک میزائل پروگرام S-400 فراہم کرکے پاکستان کو شدید دفاعی خطرات سے دوچار کررہا ہے۔ یہ اینٹی میزائل پروگرام ہماری میزائل قوت کو ناکارہ بنانے کا سامان ہے۔ اسی پرشیر ہوکربھارت ہم پر گرج برس رہا ہے۔ کفرملت واحدہ ہے۔ امریکہ دوستی کے کڑوے زہریلے پھلوں کا ذائقہ ہم نے چکھا۔ ادھر سعودی عرب کو بھی امریکہ دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر اب طوطا چشمی سے گھیر اور گھرک رہا ہے۔ ایک سوراخ سے کتنی بار ڈسے جائیں گے؟ بڑی عالمی طاقتیں، تقسیم کارکی بنیاد پر مسلم ممالک کو کھوکھلا کرنے کے ایجنڈے پر ہم نواہیں۔ سبھی باری باری گاجر، ڈنڈے کا کھیل کھیلتے ہیں۔ ہمارے مسائل کا حل خودانحصاری، باہم اتفاق واتحاد، قانون کی حکمرانی اور اپنی جڑبنیاد۔ ایمان باللہ، خوف آخرت کی طرف پلٹنے میں ہے۔ تاہم مشرقی وزراء، ایم کیوایم کی باقیات، سیکولر مزاج حکمرانوں، منتقم شعلہ زبان ، آتش دہاں نفوس ناطقہ ان خوابوں کو چکنا چور کئے دیتے ہیں۔ زمینی حقائق نہایت تلخ ہیں۔ قیادتوں کو دیکھئے تو گھمبیر مسائل کا سامنا کرنے کے لیے جس تدبر، تحمل ، دور اندیشی، معاملہ فہمی ، تجربہ کاری حقیقی صلاحیت معتبر ہونے کی ضرورت ہے وہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ ایسے میں لاہورہائی کورٹ میں ایک صاحب نے درخواست جمع کروادی کہ ارکان اسمبلی کو اسلامی قوانین وتاریخ پاکستان سے آگاہی کے لیے نصاب مقرر کیا جائے، اس پر نہ صرف درخواست مسترد کردی گئی بلکہ خبر یہ بھی لگی کہ درخواست گزار کو 30ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔ گویا اب آگاہی کی تمنا بھی جرم ہوگئی؟ اسی دوران ذہنی صحت کا عالمی دن بھی آیا۔ آج کی دنیا ذہنی صحت کے حوالے سے ابتری کی انتہاؤں کو چھورہی ہے۔ دور کیا جانا عالمی چوہدری ، ٹرمپ کو دیکھ لیجئے۔ قیاس کن راگلستان من بہار مرا!مغرب سمیت دنیا بھر کے ترقی یافتہ ترین، صنعتی ممالک میں بھی انسان تشویش ناک حدتک ذہنی امراض کا لقمہ تر ہے۔ محدود دائرے میں کارکردگی روبوٹ کی طرح دکھانے والا انسان، ذاتی زندگی میں حددرجہ تنہا، تشنہ، کھوکھلا، بے جہت ہے۔ ڈیپریشن ، اضطراب ، ڈہنی دباؤ ، ہیجانی کیفیات ، خودکشی کے رحجانات اور اس سے نکلنے کے چکر میں منشیات کی دلدل میں پھنسا بیٹھا ہے۔ پیسہ ، تعشیات مادیت، مادہ پرستی کے جان گسل مقابلوں نے انسان کو دیوانہ بنارکھا ہے۔ جنہیں دنیا کی رہنمائی کا دعویٰ ہے ان کا پورا تصور زندگی، تہذیب دیوانگی کی علامات لیے ہوئے ہے۔ انسانی فطرت کی نفی نے انہیں پاگل کررکھا ہے۔ ان کی تہذیب پر کتے، بلے، بندر غالب ہیں۔ گود میں، پہلو میں انسان، اولاد، رفیق کی جگہ جانور۔ جنس بدلنے کے لیے بے پناہ وسائل کھپا کر تکلیف اٹھا کر آپریشن درآپریشن کروانے والی بہت بڑی تعداد۔ جزوقتی طورپر کتے، بندرکے ملبوس اور لپٹے پہن کر رہنا ،انہی کی طرح ، انہی کی خوراک کھانا اور اسے باعث راحت قرار دینا۔ برہنگی کو نارمل سمجھنا۔ خواتین کی تصاویر دنیا بھر کے میڈیا پر اول جلول حلیوں میں (لباس شروع ہی شانوں سے نیچے ہو) دیوانگی ہی کی علامات ہیں۔ سب۔ پورے لباس میں ملبوس مہذب شائستہ مسلمان عورت کو دیکھ کر پتنگے لگ جانا۔ کف آلود ہوجانا، بھنوئیں اوپر چڑھ جانا، دم گھٹ جانا۔ سب ماؤف ذہنی صحت کا اظہاریہ ہیں۔ اپنے بوڑھے والدین اولڈ ہومز میں پھینک کر زندگی کی خوشیاں تلاش کرنا۔ نکاح ختم کرکے حیوانی درجے میں رنگ برنگے جوڑ آزماتے زندگی گلادینا۔ بچے ولدیت سے محروم۔ ماں کی مامتا، ننھیال ، دودھیال کے تمام رشتوں کی گرمائش اور شفقت سے محروم رکھ کر ترقی کے راگ الاپنا۔ کالی سکرینوں پر فحش کاریوں،رقص وموسیقی کی دیوانگی کو ترقی کا عنوان دینا۔ واقعی دنیا پاگل ہوچکی ہے۔ ہردن ذہنی صحت کا دن ہوتو کم ہے۔ جدیدیت کے عنوان سے دنیا تہذیبی اعتبار سے تباہی کے تاریک غاروں میں جاگھسی ہے۔ فطرت سے فرار، خالق کا انکار، روح انسانی کی پیاس اسے مارے ڈال رہی ہے۔ علاج ہمارے پاس تھا۔ مگر ہم خود۔؟ شادباد اے مرگ عیسیٰ آپ ہی بیمار ہے ! دنیا پر چہار جانب سے عذابوں کے لامنتہا کوڑے برس رہے ہیں۔ کورچشمی اسے صرف سائنسی نگاہ سے دیکھ کر جھٹک دیتی ہے۔ حقائق کا سامنا کرنا نہیں چاہتی۔ اپنے ہاتھوں کا بویا کاٹ رہے ہیں۔ اسے اندھا دھند صنعتی پھیلاؤ اور عدم احتیاط کی بنا پر گلوبل وارمنگ کا نام دے لیں۔ یا گناہوں کے بھڑ بھڑاتے شعلوں کی تپش کہنا چاہیں۔ بڑی طاقتیں اس کی لپیٹ میں ہیں۔ بغداد پر ایک دن میں 600کروز میزائل (2003ء) برسانے والے اور یہی سب قبل ازیں ومابعد افغانستان، شام پر آزمانے والے اب پے درپے ناگہانی شدید ترین طوفانوں کی لپیٹ میں ہیں۔ یکے بعد دیگرے۔ پوری آبادیاں انخلا پر مجبور۔ لاکھوں دربدر۔ ذہنی صحت مزید دباؤ کا شکار۔ معیشت پر بے پناہ بوجھ۔ اسے مکافات عمل بھی کہتے ہیں۔ ہرجگہ اپنے ہاتھوں کا بویا کاٹ رہے ہیں۔ 

یہ دنیا امن کا گہوارہ ہوتی

اگر رہبر بڑا شیطان نہ ہوتا 


ای پیپر