ڈبل گیم
13 اکتوبر 2018 2018-10-13

میں نے دو ہفتے قبل اپنی بلاک لسٹ میں موجود تمام افراد کو ڈرتے ڈرتے ان بلاک کر دیا تھا۔ تمام قید کردہ پرومیتھیسز کو رہا کر دیا تھا۔ جاؤ اور دنیا کو اپنی روشنی سے منور کر دو لیکن ان بلاوں(فیوریز ) کو آزاد کرنے کا اتنا خوف تھا کہ بتایا بھی نہیں۔ یہ وہ ٹائیگرز تھے جو پانچ سال غراتے رہے، حملہ آور ہوتے رہے۔ ہلکی سی بات پر چیڑنے پھاڑنے پر اتر آتے، ان میں اجنبی بھی تھے، دوست بھی تھے، میرے شاگرد بھی تھے، کزنز بھی تھے اور خاندان کے بچے بھی تھے۔ ان سے بچنے کے لیے بلاک کرنا ایک بہترین آپشن تھی۔ اگرچہ بلاک کرنے سے پہلے میں ایک میسج ضرور چھوڑتا۔ ہم نے پاک سیاست سمجھنے کی کوشش آج بھی جاری رکھی ہے۔ ایک دن آپ بھی سمجھ لیں گے۔ عجیب بات یہ ہوئی یہ تمام افراد ان بلاک ہو چکے ہیں لیکن خاموشی طاری ہے۔ ٹائیگرز اپنی حکومت آنے پر مطمئن ہیں اور اب لڑنا نہیں چاھتے یا انتظار میں ہیں۔ تاکہ حکومت بہتر طور پر کام کر سکے یا نہ کر سکے۔ تب ہی یہ لوگ اپنا ردعمل دیں گے۔ اکا دکا ٹائیگرز جواب دیتے ہیں لیکن لہجے میں وہ گھن گرج نہیں۔ معذرت خواہانہ یا دفاعی لہجہ نظر آتا ہے اور حکومت کو وقت دینے کی درخواست کرتے ہیں کہ چالیس پچاس دنوں میں نئی حکومت کو جج نہیں کیا جا سکتا۔ حیرت انگیز طور پر منفی پروپیگنڈے پر احتجاج کرتے ہیں اور اگر کوئی غلط یا جھوٹ پر مبنی خبر یا تجزیہ ہو تو اس پر احتجاج کرتے ہیں۔ یاد رہے پانچ سال تحریک انصاف اپنے مخالفین پر منفی پروپیگنڈہ کرتی رہی یا جھوٹ بولتی رہی۔ ایک دلچسپ بات یہ ہوئی۔ ٹائیگرز آج اپنی حکومت کے حق میں وہی دلیلیں لا رہے جو مسلم لیگ ن کے لوگ دیا کرتے تھے۔ خواہ آئی ایم ایف کا قرض ہو یا خارجی معاملات ہوں۔ تحریک انصاف کے فالوورز کا سب سے بڑا جواب یا دلیل یہ ہے کہ نوازشریف بھی ایسے ہی کرتا تھا۔ اچھا تحریک انصاف کے کچھ ڈائی ہارڈ فالوورز اپنے ہی لیڈر کے اس مسلسل پروپیگنڈے سے اس قدر زیادہ متاثر ہو چکے ہیں کہ انہیں پکا یقین ہے۔ نواز شریف نے اربوں کی کرپشن کی۔ یہاں تک کہ وہ لیے گئے تمام قرضے بھی کھا گیا اور اس کا نتیجہ آج تحریک انصاف کی حکومت کو بھگتنا پڑ رہا ہے اور یہ لوٹی ہوئی دولت واپس آئے گی تو پاکستان کے تمام مسئلے حل ہو جائیں گے اور ان ٹائیگرز کو یقین ہے۔ عمران خان پیٹ پھاڑ کر یہ لوٹی ہوئی دولت نکال لے گا۔ اچھا عمران خان نے بھی کچھ ایسی ہی پکچر بنا دی ہے۔ فرمایا ہے۔ جب تک لوٹی ہوئی دولت واپس نہیں اے گی۔ پاکستان کے مالی اور معاشی حالات ٹھیک نہیں ہوں گے اور اس کے فالوورز اس فارمولے پر یقین کر رہے ہیں۔ گویا پلان یہ ہے۔ کوئی مالیاتی یا معاشی پالیسی دینے کی بجاے کہ جس سے ریاست کی آمدن میں اضافہ ہو۔ حکومت نے اپنے فالوورز کو اس ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ہے جس میں مبینہ طور پر لوٹ کی دولت رکھی ہے اور وہ فراٹے بھرتے جا رہا ہے۔ تحریک انصاف کے فالوورز کو یہ اندھا یقین ہے کہ آی ایم ایف سے اس لیے قرض لیا جا رہا ہے کہ نوازشریف نے ملک کو اندھادھند قرضوں میں جکڑ دیا ہے اور اب حکومت کے پاس ان قرضوں کی قسط یا سود ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے عمران خان اپنے انتخابی جلسوں میں دو باتیں تواتر سے کرتے تھے۔ نواز شریف نے اس ملک کا بچہ بچہ قرض میں جکڑ دیا ہے۔ یہاں تک کہ ابھی جو بچے پیدا نہیں ہوئے۔ وہ بھی مقروض ہو چکے ہیں اور ساتھ ہی وہ یہ فرماتے تھے۔ وہ مر جائیں گے لیکن کبھی قرض نہیں مانگیں گے لیکن اب حکومت میں آ کر فرماتے ہیں۔ حکومت چلانے اور قرض کی قسط ادا کرنے کو ھمارے پاس پیسے نہیں یعنی یہ دریافت انہیں حکومت میں آ کر ہوئی ہے ؟ حکومت میں آنے کی دعویدار ایک سیاسی پارٹی اپنے ملک کے مالی معاملات سے اسقدر لاعلم بھی ہو سکتی ہے ؟ یا گورنر ہاوسز اور وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی اور لائبریری میں تبدیل کرنے یا سائیکل پر وزیراعظم ہاؤس جانے کی طرح یہ قرض نہ لینے کا عہد بھی محض ایک انتخابی سلوگن تھا۔ تحریک انصاف کے کمٹڈ فالوورز اس صورت حال پر بڑا معصومانہ تبصرہ کرتے ہیں۔ کہتے ہیں۔ اگر عمران خان کو بھی قرض لینا پڑ رہا ہے تو اس سے اندازہ کر لیں۔ پاکستان کے مالیاتی حالات کسقدر ابتر ہیں۔ آپ اس سے یہ اندازہ ضرور لگا لیں کہ عمران خان کے فالوورز عمران خان سے کسقدر محبت کرتے ہیں اور ان کی خوش گمانی اور اپنے لیڈر کے ویثرن پر کس قدر اعتماد ہے۔ اسی کا نام سیاسی عصبیت ہے یہ سیاسی عصبیت یہ نہیں پوچھتی 2018/2019 کے بجٹ میں ڈیٹ سروسنگ یعنی قرضوں کی واپسی کے لیے جو سولا کھرب رکھے گئے تھے۔ وہ کہاں گئے۔ یہ سیاسی عصبیت یہ بھی نہیں پوچھتی۔ پاکستان پر نوازشریف حکومت نے کتنا قرض چڑھایا اور کتنی قسط جانی ہے۔ یہ سیاسی عصبیت یہ بھی نہیں پوچھتی۔ اگر نواز شریف سارا بجٹ اور قرض لوٹ کر باہر لے گیا تو ن لیگ حکومت میں ڈالر نیچے کیسے رہا۔ پٹرول ، گیس ، سی این جی اور عام اشیاء کی کم قیمتوں میں استحکام کیسے رہا۔ سٹاک مارکیٹ انڈیکس اٹھارا ہزار سے 53ہزار کیسے ہوا۔ معاشی گروتھ ریٹ اڑھائی فیصد سے بڑھ کر ساڑھے پانچ فیصد کیسے ہوا۔ میگا پراجیکٹس کیسے لگے بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کیسے ختم ہوئی۔ غیر ملکی کرنسی ذخائر 24ارب ڈالر کیسے ہوئے ۔ اسٹیٹ بینک تو یہ کہتا ہے۔ 2013 میں قرضہ 60 ارب ڈالر تھا جو 2018 میں 90 ارب ڈالر ہو گیا یقین کریں۔ ٹائیگرز اور تحریک انصاف کے فالوورز ان تمام باتوں کے جواب میں کہیں گے۔ یہ سب جھوٹ ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اگر ملک اتنی ہی ترقی کر رہا تھا تو پھر اب حالات اتنے خراب کیوں ہیں۔ یقین کریں۔ کئی بار مجھے یہ بھی پڑھنے کو ملا۔ کہاں ہیں موٹر ویز ؟ کہاں ہیں بجلی کے کارخانے ؟ کہاں ہے گیس ؟ اب آپ بتائیں اس ذہنی کیفیت میں مبتلا انسانوں کا آپ کیا کر سکتے ہیں؟ سوائے ہنس کر یہ کہنے کے کہ گیس آپ کے معدے میں ہے اور آپ کے دماغ کو متاثر کر رہی ہے۔ اچھا کچھ ایسے جینوئن لوگ بھی ہیں جن کو اب اندازہ ہو رہا ہے کہ انہیں سبز باغ دکھائے گئے تھے۔ وہ یا تو خاموش ہیں یا ابھی انتظار کر رہے ہیں لیکن کچھ تسلیم بھی کر رہے ہیں کہ گڑ بڑ ہو گئی ہے۔ دیکھیں پیسے کی ضرورت ہے لیکن جس طرح یہ بتایا جا رہا ہے کہ قرضوں پر سود ادا کرنا ہے۔ تنخواہوں کے پیسے نہیں اور مرنے والی صورت حال ہو گئی ہے۔ یہ بات مناسب نہیں آخر وہ پیسے کہاں گئے جو تنخواہوں اور سود کی قسط ادا کرنے کے لیے 2018/2019 کے بجٹ میں رکھے گئے تھے۔ جولائی 2018 میں زرمبادلہ کے 16 ارب ڈالر آج کے دن 8 ارب ڈالر رہ گئے ہیں تو ان چالیس دنوں میں یہ 8 ارب ڈالر کہاں خرچ ہوئے۔ کتنی قسط اتاری بجٹ خسارہ یا تجارتی خسارہ یا کرنٹ خسارہ میں خرچ ہو گئے ؟ اسحاق ڈار کہتا ہے۔ ادارہ بجٹ سے بہت زیادہ پیسے مانگتا تھا جو ہم نے نہیں دیے۔ اسی لیے ہم قابل گردن زدنی ٹھہرے۔ اسحاق ڈار جھوٹ بولتا ہو گا۔ آپ سچ بتائیں۔ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ جنگی معاشیات سے گزر رہے ہیں۔ امریکہ نے امداد بند کر رکھی ہے۔ کوئی دوست ملک مدد کر نہیں رہا۔ آئی ایم ایف کڑی شرائط لگا رہا ہے۔ پاک کرنسی کی قدر گر رہی ہے۔ قوم کو اعتماد میں لیں۔ قوم قربانی دے گی۔ انہیں بتائیں ہم نے قومی مفاد میں جو پالیسیاں اپنا رکھی ہیں۔ ان کی وجہ سے مالی اور معاشی مشکلات پیش آ رہی ہیں لیکن قوم کو یہ قسطوں اور لوٹ کی دولت کے چکر میں نہ ڈالیں۔ اس سے آپ خود کل کو قابو آ جائیں گے۔ خزانہ کسی اور وجہ سے خالی ہو گا اور ذمہ داری آپ پر ڈال دی جاے گی کہ آپ ناکام ہو گئے۔ مخصوص اینکرز اور کالم نگاروں اور دفاعی تجزیہ نگاروں نے ابھی سے آپ کی مالی و معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا ڈھنڈورہ پیٹنا شروع کر دیا ہے۔ یہ روایتی و تاریخی ڈبل گیم ہے۔ آپ کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتے ہیں اور ناکامی آپ پر ڈال دیتے ہیں۔ مشتری ہشیار باش۔ یہاں معاملہ آپ کا یا ہمارا یا آپ کے یا ن لیگ کے فالوورز کے اطمینان یا بے اطمینانی کا نہیں۔ پروپیگنڈہ وار کا نہیں۔ پالیسیوں اور ذمہ داریوں کا ہے۔ ناکامیوں اور کامیابیوں کا ہے۔


ای پیپر