نجات دہندہ؟
13 اکتوبر 2018 2018-10-13

ملک میں افراتفری پھیل رہی ہے۔ ڈالر اپنی تاریخ میں اتنا مہنگا کبھی نہیں ہوا جتنا چند روز قبل ہو گیا۔ منی بجٹ میں حکومت نے نئے ٹیکس لگا کرمہنگائی کو اتنا جان لیوا کر دیا کہ عوام الناس کی چیخیں نکل گئیں۔ حکومت سے نہ تو محکمے کنٹرول ہو رہے ہیں نہ ہی اپنے وزیر۔ بیورو کریسی نے حکومت کا حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ گورنر ہاؤس اور ایوان صدر عوام کے لیے کھولنے کا حکومتی ڈرامہ فلاپ، عوام کو بھلا اس سے کیا حاصل؟ انہیں مسائل کا حل چاہیے۔ سستی بجلی، سستی گیس اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی ارزانی جو نئی حکومت انہیں سر دست فراہم کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔ کشکول توڑنے کا دعویٰ کرنے والی حکومت بالآخر آئی ایم ایف کے پاس پہنچ گئی وغیرہ جیسی افواہوں کے ہنگامہ میں چند روز قبل اسٹاک مارکیٹ کرپشن ہونے کی خبریں نشریاتی اداروں کے ذریعے جنگل کی آگ کی طرح ملک میں پھیلا دی گئیں اور اس کے بعد بغلیں بجاتا اسٹیٹس کو برقرار رکھنے وپر اصرار کرنے والا مخصوص ٹولہ حکومت پر چڑھ دوڑا، غصے کی وجوہات اور تھیں، نکالا کسی اور بات پر، بالکل پرانے پنجابی محاور ے کی مثال ’’روندی یاراں نوں، ناں لے کے بھراواں دے‘‘ جس کے بعد یہ ’’اطلاعیں‘‘ اشاعتی اور نشریاتی اداروں کی جانب سے تواتر کے ساتھ پھیلائی جانے لگیں کہ حکومت ناکامی کے مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور 50 لاکھ سستا گھر سکیم سمیت خود انحصاری کے تمام تر دعوے ریت کا گھر ثابت ہو رہے ہیں۔۔۔ ان ’’اطلاعات‘‘ کے ہنگامے میں کسی ’’دانائے راز‘‘ کسی عاقل کسی فہیم ، کسی صاحب الرائے نے یہ جاننے کی کوشش ہی نہ کی کہ پاکستان سمیت پورے ایشیا اور یورپ کے معاشی اور اقتصادی معاملات براہ راست وال سٹریٹ سے منسلک ہیں اور جب وال سٹریٹ کی سٹاک مارکیٹ کریش ہوتی ہے تو اس کا اثر فوری طور پر یورپ اور ایشیا کے بازار حصص پر پڑتا ہے جس کے بعد وہاں بھی وہی صورت حال دکھائی دینے لگتی ہے جو دنیا بھر کی اکانومی کنٹرول کرنے والے ادارے کی ہوتی ہے مگر اس عالمی اقتصادی ادارے کے حالات کا جائزہ لیے بغیر سارا الزام نئی حکومت پر ڈال کر ’’مہربان‘‘ شور مچانے لگے کہ حکومت سے کچھ سنبھالا نہیں جا رہا اور وہ معاشیات اور اقتصادیات سمیت تیزی سے ہر معاملے میں ناکام ہوتی جا رہی ہے۔۔۔ جبکہ عالمی معاشیات پر نگاہ رکھنے والے جانتے ہیں وال سٹریٹ جو گزشتہ آٹھ ماہ سے خسارے میں تھی چند روز قبل اسے بد ترین صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد دنیا بھر کی اقتصادی منڈیوں میں شدید خسارے کا رجحان دیکھنے میں آیا، جو بدستور جاری ہے، جس میں ہمارے میڈیا کا زیادہ زور حکومت کی مالیاتی پالیسیوں پر دیا جا رہا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ مندی کی صور تحال نئی حکومت کی پیدا کردہ ہے، اس کا عالمی اقتصادی مندی سے کوئی تعلق نہیں۔ انہی افواہوں کی گرما گرمی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج بھی جاری ہے جس میں خود نون لیگ کے نمائندے دکھائی نہیں دیتے، گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے سامنے رچایا جانے والا احتجاج کا کھیل اسی لیے اپنا رنگ جمانے میں ناکام رہا اور اس سے سوائے منتشر اپوزیشن کے کمزور حربوں کے کچھ برآمد نہ ہوا۔ 
ادھر میاں نواز شریف اور مریم بی بی اس تمام سیناریو میں کہیں دکھائی نہیں دیتے، حتیٰ کہ بارہ اکتوبر کا دن جسے نون لیگ یوم سیاہ کے نام سے منایا کرتی تھی، وہ دن بھی سیاہی کا اعلان کیے بغیر آہستگی سے گزر گیا، کسی لیگی رہنما ، کسی نمائندے ، کسی بڑے لیڈر کا بیان تو کیا، ٹویٹ بھی دیکھنے کو نہ ملا، حالانکہ پوری نون لیگ اس دن کو ماتمی دن کے طور پر منانے کا اہتمام کیا کرتی تھی اور پرویز مشرف کے ساتھ خفیہ این آر او کو اپنی جلا وطنی اور مظلومیت کے پردے میں چھپانے پر زور دیا کرتی تھی۔ مگر اس دفعہ یوم سیاہ منانے کی ضرورت شاید اس لیے محسوس نہ کی گئی کہ میاں نواز شریف کی نا اہلی کے فیصلے کے بعد اک مسلسل یوم سیاہ ہے ، جو شریف خاندان پر طاری ہے اور جس کی مدت اور میعاد کا کسی کو فی الحال اندازہ نہیں ہو رہا، حالات اس سیاسی جماعت کے لیے گھمبیر سے گھمبیر تر ہوتے جا رہے ہیں، جس کا سارا الزام وہ عمران خان کی ذات پر دیتے ہیں ۔ خدائی مخلوق کو بھی اس ضمن میں اب معافی دی جا چکی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ نامۂ اعمال جسے گزری تین دہائیوں میں نون لیگ نے اپنے ہاتھوں سے لکھا، اسے پڑھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جا رہی اور کوئی بھی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ جو بویا تھا وہی ان نامہربان گھڑیوں میں اب کاٹا جا رہا ہے۔ بجائے اپنے گناہوں کے اعتراف اور غلطیوں کے تسلسل کے اقرار کے بجائے سارا زور مخالف قوتوں پر ہے۔ یوں جیسے پانامہ سمیت دیگر معاملات، انہی قوتوں کے ساختہ ہیں اور نون لیگ بشمول اپوزیشن اتنی ہی معصوم ہے، جتنی کہ وہ ثابت کرنے پر مصر ہے۔ 
میڈیا کے ذریعے افراتفری اور ڈس انفارمیشن پھیلا کر حکومت کی ناکامی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے جو بھی کہتے رہیں، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اس وقت تاریخی تبدیلیوں کی زد میں ہے اور یہ تمام تر تبدیلیاں مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں جس کا اظہار آرمی چیف کا یہ بیان ہے ’’پاکستان استقامت کے ساتھ دیر پا امن اور استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے‘‘۔ مگر یہ استحکام ، سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں ہو گا اور سیاسی استحکام اس وقت تک دکھائی نہیں دے گا، جب تک بد دیانت اور خائن سیاسی ٹولہ اپنے انجام تک نہیں پہنچ جاتا اور ملک کرپٹ سیاست دانوں، بیورو کریسی، ملٹری ایلیٹ، اشرافیہ اور میڈیا میں بیٹھے اسی نوع کے افراد (جو مافیا کی شکل اختیار کر چکے ہیں) سے رہائی حاصل نہیں کر لیتا اور یہ اسی وقت ممکن ہے، جب احتساب کی لاٹھی بلا امتیاز چلے اور بنا تعطل چلتی رہے، اس ضمن میں چیف جسٹس ثاقب نثار کا یہ بیان قابل توجہ ہے ’’بددیانتی پر مبنی نظام کیسے ڈلیور کرے گا‘‘۔ دراصل یہی ہمارا المیہ ہے، جو بھی ہم پر حکومت کرنے آیا، اس نے ملک و قوم کو ڈلیور کرنے کے بجائے اپنے خاندان اور اپنے عزیز و اقارب کو ڈلیور کرنے پر ہی سارا زور لگا دیا، نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے، آج ملک کا بال بال قرضوں میں جکڑا جا چکا ہے، ملک آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھا جا چکا ہے اور ہم بجائے گزشتہ حکومت کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانے کے چند ہفتے قبل اقتدار میں آنے والی جماعت کو اس پر موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں، جس نے حتی المقدور آئی ایم ایف کے پا س جانے سے گریز کیا تا کہ کشکول توڑا جا سکے، مگر قرضوں کی بیڑیوں نے اس کے پاؤں جکڑ لیے اور قرضے ایجاد کرنے والوں نے ٹھٹھا اڑایا، ’’ہم نہ کہتے تھے‘‘ آئی ایم ایف ہی ہماری منزل ہے‘‘ اب بتاؤ؟ 
اب انہیں کون یہ بتائے کہ عالمی سود خود ہماری منزل نہ تھے، ہرگز نہ تھے، یہ تو آپ مہربانوں نے ہمیں ان کے ہاتھ بیچ دیا، ایک صاحب دل اٹھا، ہماری گردنیں چھڑانے تو گروی رکھنے والے اپنے ہتھیار چمکا کر اس کے آڑے آنے لگے اور سادہ لوح عوام کو ورغلانے لگے۔ اب یہ عوام پر ہے کہ وہ گردنیں چھڑانے والے پر بھروسہ کریں یا پھر وہی جنہوں نے اس ملک کا رگ وریشہ سود خوروں کو بیچ کر خود کو نہایت چالاکی سے ہمارا نجات دہندہ ثابت کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے ، ہمیں گم راہ کرنے والے کامیاب ہوتے ہیں یا وہ جو ہمیں راہ دکھانے اور اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے کشٹ کاٹ کر ہمارے درمیان آئے ہیں؟؟؟ 


ای پیپر