استعفیٰ دیدوں گا لیکن بے انصافی نہیں کروں گا : چیف جسٹس ثاقب نثار
13 اکتوبر 2018 (14:11) 2018-10-13


لاہور: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے وکلا کی جانب سے سب انسپکٹر پر تشدد کے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران مقدمے سے انسداد دہشت گردی کی دفعات معطل کرنے اور نامزد وکلا کی گرفتاریوں سے متعلق حکم امتناع کی استدعا مسترد کر دی اور وکلا کی جانب سے سب انسپکٹر پر تشدد کی ویڈیو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ویڈیو عدالت میں دکھا کے ذمے داروں کا تعین کریں گے ،استعفی دے د وں گا لیکن بے انصافی نہیں کر وں گا ، میں اس ادارے کا باپ ہوں گالیاں بھی کھانی پڑی تو کھا ؤ ں گا ۔


ہفتہ کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے لاہور رجسٹری میں وکلا کی جانب سے سب انسپکٹر پر تشدد کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔اس موقع پر صدر اور سیکریٹری لاہور بار سمیت وکلا کی کثیر تعداد عدالت میں موجود تھی۔سماعت کے دوران لاہور بار کے صدر نے استدعا کی زیادتی وکلا کی نہیں بلکہ پولیس کی تھی، لہذ اس مقدمے میں سے انسداد دہشت گردی کی دفعات ختم کی جائیں۔تاہم عدالت عظمی نے مقدمے سے انسداد دہشت گردی کی دفعات معطل کرنے اور نامزد وکلا کی گرفتاریوں سے متعلق حکم امتناع کی استدعا مسترد کردی۔ساتھ ہی چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے میں استعفی دے دوں گا مگر بے انصافی نہیں کروں گا ۔اس موقع پر وکلا کی جانب سے کمرہ عدالت کے اندر 'شیم شیم' کے نعرے لگائے گئے۔جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شیم شیم کے نعرے لگانے والے آئندہ میری عدالت میں مت آئیں۔صدر لاہور بار نے کہا کہ شیم شیم کے نعرے پولیس کے لیے ہیں ۔تاہم چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں اس ادارے کا باپ ہوں گالیاں بھی کھانی پڑی تو کھا ؤ ں گا ۔سیکرٹری لاہور بار نے چیف جسٹس سے مکالمہ کیا کہ اگر آپ 7 اے ٹی اے معطل نہیں کرتے تو ہم سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیں گے۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ لوگ دھرنا دیں تو میں باہر آتا ہوں، دیکھتا ہوں۔وکلا کے احتجاج کے باعث چیف جسٹس کمرہ عدالت سے باہر آگئے، تاہم تھوڑی دیر بعد دوبارہ واپس آگئے۔سماعت کے اختتام پر چیف جسٹس نے وکلا کی جانب سے سب انسپکٹر پر تشدد کی ویڈیو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ویڈیو عدالت میں دکھا کے ذمے داروں کا تعین کریں گے۔واضح رہے کہ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی، جس میں پنجاب پولیس کے ایک سب انسپکٹر پر درجن بھر وکلا کی جانب سے تشدد کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد چیف جسٹس نے اس کا ازخود نوٹس لیا تھا۔


مزید برآں چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے عاصمہ جہانگیر تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج عاصمہ جہانگیر ہم میں موجود نہیں ہیں لیکن ان کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے، عاصمہ جہانگیر نے ہمیشہ قانون کی بالادستی کی جدوجہد کی، معاشرے میں اساتذہ کا عزت اور احترام کیا جانا چاہیے، انصاف کے دروازے 24گھنٹے کھلے ہیں، گزشتہ روز استاد کو ہتھکڑی لگانے کے واقعہ کا ازخود نوٹس لیا، عاصمہ جہانگیر بہترین استاد تھیں جن سے بہت کچھ سیکھا، آئین پاکستان لوگوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی کا پابند بناتا ہے، عاصمہ جہانگیر کی وجہ سے طیبہ کیس کا از خود نوٹس لیا، میں نے پہلا ازخود نوٹس عاصمہ جہانگیر کی نشاندہی پر لیا، عاصمہ جہانگیر نے ہمیں بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے از خود نوٹس لینا سکھایا، عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت کے علاوہ کوئی نظام نہیں چل سکتا، جمہوریت سے ہی شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکتا ہے، جمہوریت ہمارے آئین کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کے سوا کوئی نظام حکومت نہیں ہو سکتا۔


ای پیپر