” بھانبڑ سائیں “ کے ساتھ چند گھڑیاں
13 اکتوبر 2018 2018-10-13

بھانبڑ “ بھلا یہ کیا نام ہے ؟
میں نے آہستہ سے اُس پیر فرتوت کی طرف دیکھ کر پوچھا تو اس کے لبوں پر ایک حفیف کی مسکراہٹ پھیل گئی۔ کہا: مجھے اندازہ تھا آپ بھی یہی سوال کریں گے، ہر کوئی سب سے پہلے میرے نام ہی کے بارے میں دریافت کرتا ہے اور پھر نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے اپنی رُوداد سنانی پڑتی ہے۔
میرے والدین نے تو میرا نام باقاعدہ مسجد کے مولوی عبدالرحیم سے حساب کرا کے ” مہربان علی “ رکھا تھا۔ اکلوتی اولاد ہونے کے سبب میں سب کی آنکھ کا تارا ہوا کرتا تھا۔ میرا ایک چچا رئیس خان مجھ سے بے حد پیار کرتا تھا۔ چاچے کو شکار کا بہت شوق تھا۔ شادی بیاہ کے جھنجٹ سے آزاد تھا بس ہر وقت شکار پر رہتا تھا گھر آتا تو میرے ساتھ وقت گزارتا۔ یوں بچپن سے ہی میری تربیت میرے چچا نے کی۔ لاڈ پیار نے مجھے کسی حد تک خود سر اور ضدی بنا دیا تھا۔ اکثر چچا کے دوستوں کے جھرمٹ میں رہتا۔ چچا کے دوست بڑی حویلی میں محفل لگائے رکھتے۔ وہ خود ہی شکار کیا ہوا گوشت پکاتے کھاتے۔ زمیندار فیملی سے تعلق ہونے کی وجہ سے روپے پیسے کی بھی کوئی کمی نہ تھی۔ میں سکول سے سخت نفرت کرتا تھا۔ ایک بار ماسٹر صاحب کی چھڑی اٹھا کر بھاگ آیا۔ میری شراتوں سے محلے بھر کے لوگ تنگ تھے۔ گھر والے کچھ کہتے نہیں تھے لہٰذا ہر وقت لڑائی مارکٹائی اور بات بات پر جھگڑا کرنا میری، فطرتِ ثانیہ بن گئی تھی۔ میرے مزاج کے خلاف ذرا سی بات بھی ہو جاتی تو میں آگ بگولا ہو جایا کرتا تھا۔ بس انہی دنوں میرا نام میرے چچا نے ” بھانبڑ “ ڈال دیا۔ پتہ نہیں مجھے اتنا غصہ کیوں آتا تھا؟ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ میری والدہ میرے اس غصے کی عادت سے بڑی تنگ تھیں۔ مجھے اکثر سمجھاتی تھیں کہ غصہ حرام ہے۔ یہ آگ سب سے پہلے خود غصہ کرنے والے کو جلا کر بھسم کر دیتی ہے اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا ہو جاتا ہے اسے کچھ ” سجھائی نہیں دیتا ذرا سی بات پر آپے سے باہر ہونے والے کبھی پر سکون زندگی نہیں گزار سکتے۔ یہ ساری نصیحتیں اُس وقت میرے سر سے گزر جاتی تھیں۔ کبھی کبھی مجھے خیال ضرور آتا تھا کہ میں غصے میں کئی لوگوں کی دل آزاری کرتا ہوں مگر جوانی دیوانی کے ایام میں ایسے خیال فوراً جھٹک دیئے جاتے ہیں۔ میں بھی ایک منہ زور گھوڑے کی طرح زندگی کی شاہراہ پر سرپٹ بھاگ رہا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میرے اندر حسد اور غصے میں اضافہ ہو رہا تھا۔ پھر اچانک حالات نے پلٹا کھایا۔ میرے چچا والد اور ان کے دو بیٹے شہر سے گاﺅں کی طرف آرہے تھے کہ ان کی ٹریکٹر ٹرالی سے ٹرک ٹکرا گیا۔ اس حادثے نے سب کی جانیں لے لیں۔ گاﺅں میں کہرام مچ گیا۔ ایک ہی گھر سے چار جنازے اٹھے تو میری روح کانپ اٹھی کئی روز تک مجھے یقین ہی نہ آیا کہ میرے انتہائی عزیز لوگ یوں اچانک مجھ سے ہمیشہ کیلئے بچھڑ چکے ہیں۔ میں کئی روز تک اپنے والد اور چچا کی قبروں پر بیٹھا رہا۔ صبح قبرستان جاتا اور مغرب کے وقت ماں مجھے وہاں سے اٹھا کر گھر لے آتی۔ زندگی عجیب دوراہے پہ آگئی تھی۔ ماموں اور ان کے بیٹوں نے ہمیں سہارا دیا۔ والدہ بھی اس صدمے کو دل سے لگا بیٹھی تھیں اور آٹھ ماہ کے اندر اندر وہ مجھے اکیلا چھوڑ گئیں۔ ہمارے گھرانے کی قبروں میں ایک اور قبر کا اضافہ ہو گیا۔ میں نے تو وہیں ڈیرے ڈال لیے۔ بہت کم گھر آتا۔ ماں کے جانے کے بعد تو میری حالت ہی عجیب ہوگئی تھی۔ میری داڑھی بڑھ گئی تھی۔ لباس کئی کئی روز تک تبدیل نہ کرتا، پہلے تو والدہ کے کہنے پر اپنی حالت ٹھیک کر لیتا تھا مگر اب تو دکھوں نے مجھے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا تھا۔ مجھے دنیا کی کوئی چیز اچھی نہ لگتی تھی۔ ایک روز ایک سادھو قسم کا شخص قبرستان سے گزرا وہ مجھے دیکھ کر میرے قریب بیٹھ گیا میں نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی تو وہ اچانک بول پڑا۔
” کچھ آگ ٹھنڈی ہوئی یا ابھی کچھ ” سیک “ باقی ہے۔ “
پہلے تو مجھے کچھ سمجھ نہ آئی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ پھر اس کے لفظ میری روح کے ساتھ چپک گئے۔ میں نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ پھر آہستہ سے مخاطب ہوا۔ رہے نام اللہ کا ” اللہ ہی اللہ “ سب نے جانا ہے بہت دکھی نہ ہو۔ چل میرے ساتھ .... پتہ نہیں اس سادھو کی باتوں میں کیا جادو تھا میں اس کے ساتھ چل پڑا۔ پیدل چلتے چلتے ہم آبادی سے بہت دور ایک ویران سی جگہ پر آگئے۔ یہاں ایک برگد کے درخت کے نیچے ایک تھڑا سا بنا ہوا تھا۔ سادھو اس چبوترے پر بیٹھ گیا۔ اندازہ ہو گیا کہ سادھو اسی تھڑے پر رہتا ہے۔ تھڑے کے نیچے ایک چولہا سا بنا ہوا تھا ایک ٹوکرا بھی پڑا تھا جا کے اندر کچھ برتن بھی تھے۔ سادھو نے دیگچی نکالی اور اپنے مٹکے سے پانی نکال کر دھوئی اور چولہے پر رکھ دی۔ کچھ دیر میں ایک ریوڑ ادھر آنکلا تو چرواہے نے سادھو کو بکریوں کا دودھ نکال کر پیش کیا۔ ہم تینوں نے وہ دودھ پیا۔ چرواہا کچھ دیر بعد رخصت ہوگیا تو سادھو نے کہا: ” بھانبڑ سائیں “ تمہارے آگ پانی میں بدل گئی ہے۔ ہر سیر کو سوا سیر ٹکراتا ہے۔ آگ کے لیے پانی موت ہے۔ بس تم پانی ہو جاﺅ۔
بندہ اپنے آپ پر نظر ڈالے‘ اپنی اصل پر توجہ کرے تو پانی پانی ہو جاتا ہے۔ پشیمانی سے بندہ اپنے اندر گڑھ جاتا ہے۔ جسے پشیمانی نہیں ہوتی۔ حیا نہیں آتا وہ بندہ نہیں ڈنگر ہوتا ہے۔
ہر رات کی ایک صبح اور ہر صبح کی ایک شام ہوتی ہے۔ دن ایک سے نہیں رہتے۔ ہم بھی نہیں رہیں گے۔ اور پھر زور زور سے قہقہے لگانے لگا۔ سادھو قہقہے لگا رہا تھا۔ میرے من میں بھی ایک ٹھنڈک سی پڑ گئی تھی۔مطانیت سے دل مہکایا تو میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ سی پھیل گئی۔
بس زندگی کا اگلا ورق کھل گیا تھا۔ اب تک کئی ورقے پیچھے رہ گئے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اب تو نام کا بھانبڑ ہوں۔ میں تو مٹی کے ساتھ دوستانہ لگا بیٹھا ہوں۔ مٹی پر سوتا ہوں۔ مٹی کے پیالے میں پانی پیتا ہوں اسی طرح کے دو برتن اور بھی ہیں۔ مٹی کے بنے ہوئے۔ کل مٹی میں ملنا ہے تو من کو بھی مٹی کی طرح مار کے دن گزار دینے چاہیں۔
مٹی پر سونے سے مزاج میں نرمی آتی ہے۔ ضبط نفس سے عقل بڑھتی ہے۔ اپنے خیالات، خواہشوں کو لگام دینے میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔ انسان صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور بندے کا لُوں لُوں اور پور پور ” چانن “ سے بھر جاتا ہے۔ کیفیات سے پالا پڑے تو حجاب اٹھ جاتے ہیں۔ یہ جو آپ کے چار چوفیرے لوگ بھاگے پھرتے ہیں انہیں خبر ہی نہیں کہ یہ کس سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ دنیا سراب ہے خواب سے اسے جپھا ڈال کر جینانادانی ہے۔ سانس رواں رکھنے کو کس قدر ضروریات ہیں۔ یہ جتنے بھی سیاستدان ، حکمران، امیر وزیر لوگ ہیں، کیا اِن کے معدے اتنے بڑے ہیں کہ آسائش سے پُر نہیں ہوتے۔ لذت چسکا روح کو مردہ کر دیتا ہے۔
انسان کو کھا رہا ہے چسکا
اب خاموشی چھا چکی تھی۔ میں جانے کہاں کھویا ہوا تھا۔ ہوش بحال ہوئے تو ” بھانبڑ سائیں “ حقے کے کش لگا رہا تھا اور حقے کی گڑ گڑ کے سوا ایک چُپ سی بکھری ہوئی تھی۔ اب میں نے اپنا دوسرا سوال کر دیا: بھانبڑ سائیں ! پھر پلٹ کر اپنے گاﺅں نہیں گئے۔ ؟
نہیں.... پچھلا ورقا تو پہلے دن پھاڑ دیا تھا۔
تو گزر بسر کیسے ہوتی ہے؟ میں نے قدرے نزدیک ہو کر پوچھا تو میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا: اس بارے میں میرے فقیر نے کبھی سوچنے نہیں دیا۔ پتہ نہیں کیسے یہاں کیا کیا نعمتیں پہنچ جاتی ہیں۔ کوئی بھی یہاں خالی ہاتھ نہیں آتا۔ کیا آپ جو مٹھائی لاتے ہیں میں نے مطالبہ کیا تھا کہ مٹھائی کے ساتھ آنا؟ نہیں ناں۔ بس اسی طرح سبھی آتے ہیں۔
میں نے کہا: بھانبڑ جی ! کتنا عرصہ ہو گیا ہے اَس برگد کے نیچے اس طرح تنہا بیٹھے ہوئے۔؟
کہا: گیارہ برس ہوچکے ہیں۔ میں سڑک کے اسی کنارے اَس سادھو کی آغوش میں ہوں یہ برگد بھی سادھو ہوتے ہیں۔ ان کے نیچے کوئی آفت پر نہیں مار سکتی۔
میں نے اجازت لی تو شام کے سائے لمبے ہوچکے تھے سلام کر کے گاڑی اسٹارٹ کی تو ٹیپ ریکاڈر بھی کھلا ہوا تھا: آواز آرہی تھی۔
دم دم سخی سردار قلندر حق اللہ


ای پیپر