Maryam Nawaz,Nawaz Sharif,accountability,debated
13 نومبر 2020 (19:56) 2020-11-13

سوات: مسلم لیگ(ن) کے نائب صدر مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ احتساب کیلئے نواز شریف جیسا جگرا چاہیے،میری ایک تقریر  پر24گھنٹے  سلیکٹڈ وزیراعظم اور اس کے مشیر بحث کرتے ہیں، نواز شریف کی دو تقریروں نے انکا کا اصل چہرہ عوام کو دیکھا دیا،سلیکٹڈ مریم نواز اور دیگر کے کمروں اور باتھ رومز میں کیمرے لگاتے ، اگر ہمت ہے تو نیب کی عدالتوں میں کیمرے لگائو تاکہ عوام دیکھے کہ تمہارے جھوٹے مقدمے میں کتنی طاقت ہے، اداروں سے کہتی ہوں کہ عوام اور جعلی عمران خان کے درمیان سے ہٹ جائو، اگر تم ہٹ جائو گے تو یہ جعلی حکومت 24گھنٹے کی مار نہیں ہے،  نواز شریف کا بیانیہ آئین، قانون اور قائداعظم کا بیانیہ ہے،  سلیکٹڈ حکومت آئی ایم ایف میں دب چکی ہے، اب ریت کی دیوار کو بس ایک دھکا اور لگانا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے سوات میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گھٹیا زبان بولنے والے عوام کی نمائندگی کے حقدار نہیں ہیں اور جو سیاست کو گھروں تک لے کر جائے اس کے پی کی عوام اٹھا کر باہر پھینک دیں۔  چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ وقار احمد سیٹھ کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہیں، وقار احمد سیٹھ کا نام انصاف کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا، انہوں نے  آمر مشرف کو اس کے گھر تک پہنچایا تھا، اللہ پاک ان کے درجات بلند فرمائے۔ 

مریم نواز نے کہا کہ پاکستان میں گلی گلی میں دہشت گردی ہوتی تھی لیکن نواز شریف ملک کو دہشت گردی سے نکالا، آج قوم کے سر پر نالائق، سلیکٹڈ، نااہل مسلط ہے جو حسد اور انتقام کا مارا ہوا شخص ہے، اسے احساس ہی نہیں کہ 22کروڑ عوام کی ذمہ داری اس کے کندھے پر ہے جبکہ آج  ملک میں دہشت گردی پھر سے سر اھٹا رہی ہے تو وزیرداخلہ دھمکیاں دیتا ہے، کہتا ہے کہ تمہارا بھی وہ حال کروں گا جو اے این پی کا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ڈاکٹرز کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، صوبے میں عوام کے ایک لیبارٹری تک نہیں ہے، پنجاب میں فرانزک کیلئے بھیجتے ہیں، نظام تعلیم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی نہ سکول بنے، نہ کالج بنے، نہ ہی ایک یونیورسٹی ابھی تک بنائی گئی ہے۔احتساب کی بات کرتے تھے  لیکن احتساب کمیشن کو ہی بند کر دیا، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ احتساب کیلئے نواز شریف جیسا جگرا چاہیے، صوبے میں ملین ٹری منصوبہ اور مالم جبہ کیس پر آڈیٹر جنرل کی رپورٹ آ چکی ہے، عوام سے پوچھنا ہے کہ کیا بی آر ٹی چل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ مریم نواز اور دیگر کے کمروں اور باتھ رومز میں کیمرے لگاتے ہیں، میں کہتی ہوں کہ اگر ہمت ہے تو نیب کی عدالت میں کیمرے لگائے جائیں جہاں عوام دیکھے کہ تمہارے جھوٹے مقدمے میں کتنی طاقت ہے۔ اداروں سے کہتی ہوں کہ جعلی حکومت کے پیچھے سے ہٹ جائو کیونکہ ہم اداروں سے نہیں ٹکرانا چاہتے ہیں اور اداروں کو بھی چاہیے کہ عوام کے ساتھ نہ ٹکرائیں، سلیکٹڈ کہتا تھا کہ جنگلہ بس نہیں چلائے گا لیکن نواز شریف اور شہباز شریف کی نقل کرتے ہوئے بی آر ٹی بنائی۔


ای پیپر