Pakistan has denied Indian allegations that minorities are insecure
13 نومبر 2020 (11:48) 2020-11-13

اسلام آباد:ایل او سی پر سیز فائر کی خلاف ورزی پر پاکستان میں ، بھارتی سینئر سفارتکار کی مسلسل دوسرے روز دفتر خارجہ طلبی، پاکستان نے  شدید احتجاج ریکارڈ کرایا جبکہ  احتجاجی مراسلہ     بھی دیا۔

تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ترجمان دفتر خارجہ  نے  کہابھارتی افواج نے رکھ چکریااور کھینجر سیکٹرز پر 12 نومبر کو بلااشتعال فائرنگ کی، اشتعال انگیزی سے ایک شہری شہید اور 3 زخمی ہو گئے جبکہ بھارت رواں برس 2729 بار سیز فائر کی خلاف ورزیاں کر چکا ہے اوربھارت ان حرکتوں سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے دنیا کی توجہ نہیں ہٹا سکتا۔

قبل ازیں دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے غیر محفوظ ہونے اور دہشت گردی کے حوالے سے بھارتی وزارت خارجہ کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اپنے ملک میں اقلیتوں کیخلاف نارروا سلوک اور دہشت گردی سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھارتی وزارت خارجہ کے بے بنیاد الزامات پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت جھوٹے اور بنیاد الزامات لگا کر مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی اور اپنے ہی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک سے عالمی توجہ ہٹا نہیں سکتا۔

ترجمان نے کہا کہ بھارت من گھڑت الزامات سے جھوٹ کو حقیقت میں تبدیل نہیں کر سکتا۔ ایسی مایوس کن کوششیں بھارت کی ملکی اور خارجہ پالیسی کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوں گی۔

اس کے برعکس ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے بھارت کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچے گا۔ترجمان نے بھارت پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کو بطور ریاستی پالیسی کے استعمال سے باز رہے۔

مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بند اور اپنے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے ٹھوس اقدامات کرے اور کشمیر کے تنازعہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قراردادوں کے مطابق حل کرنا چاہئے۔


ای پیپر