بھارتی مظالم نے کشمیریوں کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور کیا
13 نومبر 2020 (10:14) 2020-11-13

امریکی اخبار کی تحقیق کے مطابق 2008 کے بعد سے مزاحمتی تحریک میں شامل ہونے والے نوجوانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جب کہ چند برس پہلے تک کمزور ہوتی مسلح جدوجہد میں نئی توانائی آگئی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے بڑھتے ہوئے مظالم نے تعلیم یافتہ کشمیری نوجوانوں اور دانشور وں کو بھی ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ خود بھارتی فوجیوں کا کہنا ہے کہ 2018 میں 191کشمیری تعلیم یافتہ نوجوانوں نے جدوجہد آزادی کشمیر میں عملاًحصہ لیا جبکہ 2017 میں یہ تعداد 126 تھی۔ اس سے قبل 2013 میں صرف 16 نوجوانوں نے بھارت کے خلاف مزاحمت میں حصہ لیا ۔ یہ سلسلہ 2008 میں شروع ہوا۔ محققین کے مطابق کشمیر میں داخلی استحکام اور گورننس کو یکسر انداز کیا جارہا ہے جس کے باعث کشمیری کہتے ہیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر روزانہ تضحیک آمیز بھارتی رویہ اشتعال کی وجہ ہے۔

 مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلی اور پی ڈی پی ی صدر محبوبہ مفتی نے کہاہے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بعد سے جموں و کشمیر میں عسکریت پسندی بڑھ گئی ہے۔ دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد سے جموں میں بھی اندھیرا چھایا ہوا ہے اور یہاں بھی لوگوں کا دم گھٹ رہا ہے۔ بی جے پی نے دفعہ 370 ختم کر کے آئین کی توہین کی ہے۔ اس اندھیر نگری میں کشمیر کے نوجوانوں کے پاس ہتھیار اٹھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ کشمیری نوجوان سوچتے ہیں وہ یا تو جیل جائیں گے یا پھر ہتھیار اٹھالیں گے۔ اِسلئے وہ سوچ رہے ہیں کہ ہتھیار اٹھاکر ہی شہید ہوجائیں۔

امریکی اخبارکا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم عروج پر ہیں، وہاں تعلیم یافتہ افراد کو بھی ہتھیار اٹھانے پر مجبور کردیا گیا ہے۔ پروفیسر رفیع کی درس و تدریس کے شعبے سے مزاحمتی تحریک میں شمولیت نئے رجحان کا حصہ بنی۔کشمیر یونیورسٹی کے پروفیسر محمد رفیع اچانک لاپتہ ہوگئے جس کے بعد ان کی لاش ملی تاہم استاد کی موت پر پڑھے لکھے تمام افراد احتجاج میں ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔31 برس کے پروفیسر رفیع نے کشمیر یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی تھی جن کے سامنے شاندار مستقبل تھا لیکن انہوں نے بھارت کے خلاف مزاحمتی تحریک 

میں شمولیت اختیار کی۔کشمیری انجینئر کے قتل کے بعد نوجوان اپنے والدین سے پوچھتے ہیں کہ اسلحہ کے مقابلے میں ڈگریوں کا کیا فائدہ؟۔پروفیسر تمام طلبہ کے پسندیدہ استاد تھے اور وہ ایسے دانشور تھے جنہوں نے صارفین پر نمایاں تحقیق کی تھی۔امریکی اخبار نے انکشاف کیا کہ پروفیسر کی درس و تدریس کے شعبے سے مزاحمتی تحریک میں شمولیت نئے رجحان کا حصہ بنی۔پروفیسر محمد رفیع کے علاوہ انجینئر عیسی بھی مزاحمتی تحریک میں شامل تھے جو آخری سیمسٹر میں لاپتہ ہوئے اور چند ماہ بعد مبینہ مقابلے میں مارے گئے۔

تعلیم یافتہ کشمیری نوجوانوں، کالج و یونیورسٹیوں کے طلباء اور پروفیسر حضرات ، دانشوروں کا جدوجہد آزادی میں شرکت اور پھربھارتی فوج کے ہاتھوں شہادت سلسلہ یوں تو کئی برسوں سے جاری ہے مگر اس میں تیزی گزشتہ برس اکتوبر کے مہینے میں شہید ہونے والے عبدالمنان وانی کی شہادت کے بعد بعد آئی۔منان وانی علی گڑھ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم تھے۔ ان کا آبائی گھر ضلع کپواڑہ میں تھا جو کہ لائن آف کنٹرول کے کافی قریب واقع ہے۔ پاک بھارت سرحدی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں بھارتی فورسز کی بھاری تعداد تعینات ہے۔ کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلتی بھارتی فوج اور پولیس کے ظلم و ستم کو دیکھتے ہوئے منان وانی نے پی ایچ ڈی کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر کشمیر کی راہ لی اور مجاہدین کے ساتھ مل کر بھارتی حکومت کے خلاف جدوجہد میں شامل ہوگئے تھے۔ 

منان وانی کی طرح کشمیری نوجوان ہر دلعزیز پروفیسر محمد رفیع بھٹ بھی بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک ڈاکٹر رفیع بھٹ نے سوشیالوجی میں ماسٹرز کرنے کے بعد بھارتی قومی سطح کا امتحان نیشنل ایلیجیبلٹی ٹیسٹ دو مرتبہ پاس کیا اور اس کے لیے انھیں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی جانب سے فیلو شپ بھی ملی۔ انھوں نے بعد میں اپنے مضمون میں پی ایچ ڈی کیا اور گذشتہ برس ہی کشمیر یونیورسٹی کے سوشیالوجی شعبہ میں لیکچرار تعینات ہوئے۔ڈاکٹر رفیع کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ جب وہ میڈیا میں ہلاکتوں یا زیادتیوں کی تفصیلات دیکھتے تھے تو پریشان ہوجاتے تھے لیکن انھوں نے ایسا کوئی اشارہ کبھی نہیں دیا کہ وہ ہتھیار اٹھا کر لڑنا چاہتے ہیں۔

کشمیر پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر رفیع کے دو کزن پولیس کے ساتھ جھڑ پ میں مارے گئے تھے اس لئے ہو سکتا ہے کہ وہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو گئے ہوں۔ یعنی پولیس نے اپنی غلطی تسلیم نہیں کرنی ۔ ملبہ کشمیریوں کے سر ہی ڈالنا ہے کہ وہ غلط ہیں۔ محمد رفیع بھٹ کے والد عبدالرحیم کا کہنا تھا کہ جب ان کی اپنے بیٹے سے بات ہوئی تو اس نے بتایا تھا کہ وہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ انکاؤنٹر میں پھنس گئے ہیں اور شہادت کا درجہ حاصل کرنے والے ہیں۔

اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ جدوجہد آزادی میں تیزی آنے کے بعد کئی کشمیری پروفیسر مسلح گروپوں کے حمایتی ہونے کی وجہ سے پراسرار حالات میں مارے گئے۔ ان میں ڈاکٹر عبدالاحد گورو، پروفیسر عبدالاحد وانی، ڈاکٹر غلام قادر وانی اور ایڈوکیٹ جلیل اندرابی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

کشمیر میں بھارت مخالف مزاحمتی تحریک میں حصہ لینے والے افراد میں کچھ محمد رفیع بھٹ جیسے ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ان کے پاس روشن مستقبل ہے۔ اس کے باوجود وہ بھارت کے خلاف مسلح جدوجہد میں شریک ہو رہے ہیں۔ انہی نوجوانوں میں سے ایک 19 سالہ عادل احمد ڈار بھی تھا جس نے 14 فروری کو پلوامہ کے علاقے میں بھارتی پیراملٹری اہلکاروں کے قریب ریموٹ کنٹرول دھماکا کیا تھا جس کے نتیجے میں 40 سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔اسی حملہ کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا آغاز ہوا۔

خود بی جے پی کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ بھارتی فوج صرف کشمیریوں کو مار ر ہی ہے۔ کشمیری بھارت سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ بھارتی فوج صرف اپنی طاقت کی وجہ سے زبردستی وہاں قابض ہے، ہم کشمیر کو کھو نہیں رہے بلکہ کھو چکے ہیں۔ بھارت مسائل کو حل کرنے کیلئے صرف فوج پر یقین کر رہا ہے۔ اس وقت نہ جمہوریت ہے اور نہ ہی انسانیت، لیکن سراسر ظالمانہ طریقہ استعمال کیا جا رہا ہے کہ فوج جتنے کشمیری مار سکتی ہے مار دے۔


ای پیپر