جو بائیڈن، انتہا پسندی اور امریکہ
13 نومبر 2020 (10:13) 2020-11-13

امریکہ میں صدارتی انتخابات کا مرحلہ تقریباً تمام ہوا اور جوبائیڈن نے ٹرمپ کے مقابلے میں کامیابی حاصل کر لی۔ بد تمیز ہونا ٹرمپ کے لئے سیاسی خسارے کا باعث بنا، سیاست کو عوام نے اقدار کے حوالے سے دیکھا اور گزشتہ انتخابات میں ہونے والی غلطی کو درست کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے تعصب پر مبنی رویے، فرقہ پرستانہ سوچ اور نسل پرستانہ نظریات کی وجہ سے دوسری بار صدر منتخب نہ ہو سکے۔دوسری طرف جو بائیڈن اپنے روادارانہ انداز اور پالیسی کے سبب ایک مہذب لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں۔ جو بائیڈن نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعے شروع کی گئی متعصبانہ پالیسیوں کو ترک کرنے کا اعلان کیا ہے اور ساری دنیا کے تئیں امریکی متعصبانہ رویہ بدلنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔  امید کی جا رہی ہے جوبائیڈن امریکی عوام کو جنگی جنون سے نجات دلا کر دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے میںمددگار ثابت ہوں گے۔

 ان انتخابات میں امریکی عوام نے انتہا پسندی کی جو لہر ٹرمپ کے برسرِ اقتدار آنے سے امریکی معاشرے میں سرایت کر گئی تھی کو رد کر کے لبرل پالیسیوں والی سوچ کو اپنی قیادت کے لئے منتخب کیا ہے۔ امریکی معاشرہ دنیا کا سب سے متنوع معاشرہ ہے، اس کی تاریخ تضادات سے بھری ہے۔ لیکن ابراہم لنکن، جیفرسن اور مارٹن لوتھر کنگ نے بڑی جد و جہد سے کالے گورے کی تقسیم کو کم کیا۔ خواتین کے حوالے سے بھی امریکی معاشرے کی سوچ ایک عرصے تک رجعت پسندانہ رہی۔ سیاہ فاموں کی طرح امریکہ کی سفید خواتین بھی عرصہ دراز تک ووٹ کے حق سے محروم رہیں۔ مختلف اداروں میں ان کی تنخواہیں اور دیگر مراعات مردوں کی نسبت کم تھیں۔ ان تلخ حقائق کے باوجود ایک امریکی صدارتی امیدوار نے یہاں نفرت اور خوف کی مہم چلا کر اقتدار حاصل کیا۔ دہشت گردی کے حوالے سے مسلمانوں کے خلاف اور وائٹ امریکیوں کو بیروزگاری کے اندیشوں کا شکار کر کے  امیگرنٹس کے خلاف مہم، یہاں تک کہ اس نفرت انگیز مہم پر کیتھولک پوپ فرانسس بھی چیخ اٹھے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی عوام خصوصاً اکثریتی سفید فام آبادی کے جذبات کو سمجھا اوران کے حقیقی مسائل کو سامنے لاتے ہوئے انہیں متحرک کر دیا۔ سیاہ فاموں، تارکینِ وطن لوگوں سے مقامی آبادی کو جو خدشات تھے انہیں نہایت عمدگی سے استعمال کرتے ہوئے ووٹروں کو باہر نکلنے پر مجبور کیا۔ ٹرمپ نے تعصب پر مبنی اپنا مٔوقف چار سال کے دورِ اقتدار میں بھی نہیں تبدیل کیا۔ ٹرمپ نے اپنا انتخابی ایجنڈا کئی اہم اور اختلافی باتوں پر استوار کیا تھا، جن سے ہٹنا ان کے لئے آسان نہیں تھا۔ ٹرمپ نے امریکی معاشرے کے ان تضادات کو ابھارا جنہیں روایتی سیاست دبائے ہوئے تھی۔ 

امریکہ کی تاریخ پر سرسری نظر ڈالی جائے تو 1619ء میں پہلی مرتبہ افریقی نسل کے غلاموں نے امریکی ریاست ورجینیا کی برٹش کالونی کی سر زمین پر قدم رکھا۔ 1776ء جب امریکہ کے اولین صدر جارج واشنگٹن نے منصبِ صدارت سنبھالا تو اس وقت بھی اس ملک میں غلامی کی بدعت موجود تھی۔ 1861ء سے 1865ء کے دور میں غلامی کے خاتمے کی ایک لہر اٹھی اور بالآخر 1965ء میں امریکی آئین کی تیرھویں ترمیم کے نتیجے میں غلامی کا رسمی طور پر خاتمہ ہو گیا۔ اس کے بعد 1941ء سے 1945ء تک لڑی جانے والی دوسری عالمی جنگ میں امریکی گوروں اور کالوں نے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ حصہ لیا اور پھر 1949ء کے صدارتی حکم کے ذریعے امریکی افواج میں گورے اور کالے کا امتیاز ختم کر دیا گیا۔ بعد ازاں امریکی سپریم کورٹ نے اسکولوں میں گوروں اور کالوں کی تفریق کے خاتمے کا تاریخی فیصلہ سنا کر نسلی امتیاز کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی اورپھر بارک اباما امریکی صدر بھی بنے۔لیکن ایک بار پھر سے ڈونلڈ ٹرمپ نے کالے اور گورے کے جھگڑے کو زندہ کیا اور سفید چمڑی والوں میں موجود برتری کے احساس کو مہمیز دی۔ ساتھ ہی مقامی امریکی اور غیر مقامی امریکی کی تقسیم کو گہرا کیا اور مذہبی تقسیم کو ہوا دی۔ اس مقصد کے لئے ٹرمپ نے 2016 ء کے انتخابات میں دور دراز کے علاقوں میں مقیم ان طبقات پر توجومرکوز کی جو کم پڑھے لکھے اور جذباتی نعروں کے پیچھے لگ جانے والے تھے۔ اس طبقے میں یہ احساس شدید ہے کہ ان اقوام کا مسلسل آگے بڑھنا اصل گوری نسل کی حق تلفی ہے۔ امریکہ میں جو تعصب اور نسل پرستی ٹرمپ سے پہلے بھی چلی آ رہی ہے اس کا اصل منبع یہی طبقہ اور یہی احساس ہے۔ ٹرمپ کے برسرِ اقتدار آنے سے قبل امریکی سوسائٹی دنیا کی لبرل، وسیع القلب اور متحمل مزاج سوسائٹی ہونے کی دعویدار تھی، انسانی مساوات اور جمہوری اقدار کی علمبرداری، جدید امریکہ کے فاؤنڈنگ فادرز کا نعرہ تھا، جس طرح چاند اور سورج پر سارے انسانوں کا حق ہے، قدرت کے وسائل پر سارے انسانوں کا حق ہے۔ امریکہ وسائل اور مواقع کی سرزمین تھا، جس سے استفادے کے لئے دنیا کے جس کونے سے جو بھی امریکہ کی سرزمین پر پہنچا، وہیں کا ہو رہا۔ امریکہ نے مادرِ مہربان کی طرح اپنی آغوش اس کے لئے وا کر دی۔ ڈونلڈ ٹرمپ جس کا تعلق کسی سیاسی خاندان سے نہیں تھا نہ ہی خود روایتی سیاستدان قرار دیا جا سکتا تھا۔ اس کے باوجود ان کی کامیابی غماز تھی کہ دنیا کی اس واحد سپر پاور کے عوام اب روایتی سیاست اور اپنے ملک کے عالمی کردار سے مطمئن نہیں اور ان میں کسی بھی قیمت پر اور کسی بھی حوالے سے تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ اسی لئے انہوں نے 2016ء ایک ایسے شخص کو اپنا صدر منتخب کر لیا، جن کے متنازع بیانات سن کر لوگ انہیں تنگ نظر اور ذہنی مریض قرار دیتے رہے تھے۔اب توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ نو منتخب صدر جوبائیڈن تمام معاملات خصوصاً مسلم کمیونٹی کے تئیں جو خدشات ہیں انہیں دور کریں گے۔ جوبائیڈن انتخابی مہم کو فراموش کر کے آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور تمام امریکیوں کے صدر بننا چاہتے ہیں جو ان کی جمہوعری سوچ کا آئینہ دار ہے۔ اب دیکھنا ہو گا کہ جو بائیڈن کا امریکہ ٹرمپ کے امریکہ سے کتنا مختلف ثابت ہوتا ہے۔


ای پیپر