ایک با ر پھر کورونا
13 نومبر 2020 (10:12) 2020-11-13

پہلے تو اْس خو شخبر ی کا ذکر کر لیں، جو حالیہ دنو ں میں ملی ہے۔ وہ خوشخبر ی آ پ جا نتے ہیں یہ ہے کہ کو رو نا کی ویکسین تیا ر کر لی گئی ہے۔ اس خبر سے ایک طر ف تو دنیا کی ایک بڑی آ با دی کی نا امید ی دو ر کر نے میں مد د ملی ہے، تو دوسری جا نب یہ احسا س ہو ا ہے کہ اب دنیا اس معا شی تنا ئو سے آ زا د ہو جا ئے گی جو کو رو نا اپنے ہمر اہ لا یا تھا۔ تا ہم کہنا یہ چا ہتا ہو ں کہ اس ویکسین کی عا لمی ادا رہِ صحت سے منظو ری اور عا م لو گو ں تک پہنچنے میں چند ما ہ لگ سکتے ہیں۔اس دو ران  دنیا بھر کو کر ونا کی دوسری اور تا زہ دم لہر کا سا منا ہے۔ وطنِ عز یز بھی اس سے مبرا نہیں۔چنا نچہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ اب پھر سے کو رونا کیسیز میں اضا فہ جا ری ہے۔ لہذ ا ہمیں اس کے لیے بروقت اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ بے شک حکو مت کا ایک اچھا قد م یہ ہے کہ این سی او سی نے مز ا ر تھیٹر اور سینما گھر وں کو فو ری طور پر بند کر دینے کا اعلا ن کر دیا ہے۔ این سی او سی نے شا دی کی تقر یبا ت سے متعلق گائیڈ لا ئن جا ری کر دی ہے جس کے مطا بق بیس نو مبر سے شادی کی کھلے علا قے میں تقر یب کے دوران پانچ سو لو گو ں کو شر کت کر نے کی اجا زت ہو گی۔مگر دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہم سر پر منڈلاتے اس خطرے کو صحیح طرح سے سمجھ رہے ہیں اور ہمارے فیصلے درست ہیں۔ یہ ایک اہم سوال ہے جس پر غور کرنا ہوگا۔ حالیہ دنوں روزانہ نئے کیسز کی تعداد میں اضافہ چونکا دینے والا ہے۔ ایکٹو کیسز کی تعداد جو ستمبر میں 6000 سے کم تھی اب 19000 سے تجاوز کرچکی ہے، جبکہ پچھلے  روز 1650 نئے کیسز تشخیص ہوئے۔ یاد رہے اکتوبر کی انہی تاریخوں میں نئے کیسز کی یومیہ تعداد پونے چارسو کے قریب تھی۔ اموات کی شرح میں بھی اسی حساب سے اضافہ ہورہا ہے۔ ان اعداد و شمار سے کوئی شبہ نہیں رہ جاتا ہے کہ ہم کورونا وبا کی دوسری اور شدید لہر کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگرچہ عوامی، حکومتی اور قومی سطح پر ہمیں ان حقائق کا صحیح ادراک اب بھی نہیں اور ہماری بچائو کی حکمت عملی کورونا وائرس کے حقیقی خطرے کا مقابلہ کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔ صوبائی حکومتوں کی جانب سے اب جا کر یہ بیان سامنے آنا شروع ہوئے ہیں کہ کورونا سے بچائو کی ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والی مارکیٹوں کو بند کردیا جائے گا۔ مگر یہ ناگزیر تاکیدی حکم آج سے ڈیڑھ ماہ پہلے آجاتا تو وبا کی صورت حال یقینا مختلف ہوتی۔ عوام کو ماسک پہننے کی تاکیدی ہدایات کے متعلق بھی یہی قرار دیا جاسکتا ہے کہ حکومت کے لیے ان ہدایات پر سختی سے عمل کروانے میں کوئی مشکل نہیں تھی او رماہرین مسلسل یہ عندیہ بھی دیتے چلے آئے ہیں کہ کورونا کی وبا کی دوسری لہر کے خطرے کو مدنظر رکھا جائے۔ مگر ہمارے ہاں ان ہدایات کو نظر انداز کیا گیا اور آج اس کا نتیجہ سامنے ہے کہ روزبروز نئے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور خدشہ یہ ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو ایک ماہ بعد ایکٹو کیسز کی تعداد خوفناک حد تک بڑھ چکی ہوگی۔ اس صورتحال سے بچائو کی مؤثر کوششوں کے لیے وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ روایتی تساہل پسندی کو ترک کرکے حقیقت پسندانہ سوچ اپنائی جائے اور بے وقت اور غیر مؤثر فیصلے کرنے کی بجائے وہ اقدامات کیے جائیں جو مؤثر اور نتیجہ خیز ہوں۔ مارکیٹوں میں احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی ہدایت ہی کافی نہیں بلکہ عملی طور پر اس کا نفاذ بھی ضروری ہے۔ اس طرح ماسک کی پابندی، مارکیٹوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور ہجوم والی ہر جگہ پر لازمی قرار دی جانی چاہیے۔ صوبائی اور شہری حکومتیں اپنی اپنی سطح پر ان تدابیر پر بہتر طریقے سے عمل کرواسکتی ہیں۔ چونکہ ہمارے ہاں اب شہری حکومتوں کا وہ مؤثر نظام تو ہے نہیں جو اس قسم کے حالات میں کام کرتا ہے، چنانچہ آجا کے ضلعی انتظامیہ ہی کو یہ فریضہ انجام دینے کے لیے سعی کرنا ہوگی۔ حکومت کو اس سلسلے میں سول سوسائٹی سے بھی مدد لینی چاہیے کیونکہ یہ عوامی آگاہی پھیلانے کا کام ہر جگہ سرکاری حکام کے ذریعے ممکن نہ ہوگا۔ عوامی سطح پر اگر عوامی نمائندگان کے ذریعے آگاہی پھیلانے کا کام ہو تو زیادہ بہتر ہے۔ حکومت نے اس کام کے لیے رضا کار بھرتی کیے تھے، انہیں بھی بروئے کار لانا 

چاہیے۔ یہ وقت ہے کہ اگر احتیاط کرلی جائے تو ہم آنے والے وقت میں اس وبا کے طبی اور معاشی اثرات سے بچ سکتے ہیں۔ ملک میں اس وبا کی پہلی لہر کے دوران آگاہی کی جو مہم چلائی گئی اس سے لوگوں میں احتیاطی تدابیر کا رجحان پید اہوا، مگر پچھلے چند ماہ کے دوران یہ بتدریج کم ہوتا ہوا اب نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ چنانچہ یوں سمجھنا چاہیے کہ لوگوں کو بچائو کی تدابیر پر عمل کے لیے آمادہ کرنے کا کام اب نئے سرے سے شروع کرنا ہوگا۔ اس کام میں کسی صورت تاخیر نہیں ہونی چاہیے کیونکہ وبا کی روک تھام کی یہ کوشش وقت کے خلاف دوڑ جیسا ہے۔ اگر حکومت نے آگاہی کی مہم جاری رکھی ہوتی اور احتیاط پر عمل درآمد کو یکسر موقوف نہ کیا گیا ہوتا تو لوگ بوقت ضرورت خود ہی احتیاط کا مظاہرہ کر رہے ہوتے اور کورونا وبا کا پھیلائو اس قدر تیزی سے نہ ہوتا، لیکن یہاں تو بڑی حد تک لوگوں کو نئے سرے سے ان احتیاطی تدابیر کے لیے آمادہ کرنے والی بات ہے۔ حکومت کو اس کے لیے پوری کوشش کرنی چاہیے تاکہ وبا کی یہ دوسری لہر کم سے کم نقصان دہ ثابت ہوسکے اور اسے روکنا ہمارے لیے پہلی لہر جیسا مشکل نہ ہو۔ اس کے لیے سیاسی رہنمائوں کو بھی متحرک ہونا پڑے گا جو ان دنوں اتفاق سے جس کام میں متحرک نظر آتے ہیں وہ بلاشبہ کورونا کے پھیلائو کا ایک بنیادی سبب ہوسکتاہے۔ اصولی بات ہے کہ اگر ہم سینما ہال، مارکیٹ، دفتر یا عوامی سواری میں ماسک کی ضرورت پر زور دیتے ہیں او رسماجی فاصلے کو کورونا کی زنجیر توڑنے کا بنیادی سبب قرار دیتے ہیں تو ہمیں یہ بھی باور کرنا چاہیے کہ بڑے بڑے سیاسی اجتماعات، جن میں دسیوں ہزار افراد شریک ہوتے ہیں ان سے کسی بازار، شادی یا دفتر کی نسبت کورونا کے پھیلائو کا خطرہ کہیں زیادہ ہے۔ سیاسی تحریک کی ضرورت ہے اور سیاسی مفادات اپنی جگہ مگر وسیع تر عوامی مفاد کو پیش نظر رکھیں تو وبا کے ان دنوں سیاسی جلسوں کا کوئی جواز نہیں۔ سیاسی رہنمائوں کو وقت کی نزاکت اور عوامی صحت کو لاحق خطرات کا بھی لحاظ کرنا چاہیے۔انہیں اس کڑے و قت میں انہیں اپنی پا رٹی کے مفا د کی بجا ئے عوا می مفا د کو تر جیح دینی ہو گی۔یا د رکھنے کی با ت یہ ہے کہ خوا ہ کو ئی امیر ہو یا غریب، کو رو نا کے حملے سے کو ئی محفو ظ نہیں۔ البتہ وہ لو گ ضر ور محفو ظ ہیں جو ایس او پیز پہ پو ری طر ح عمل پیرا ہیں۔ ما سک کو ہمیں اپنی ز ند گی میں پو ری شا مل رکھنا ہو گاتا وقیکہ اس مو زی بیما ری کا پو ری طر ح خا تمہ نہیں ہو جا تا۔


ای پیپر