ٹرمپ کچھ اور چیز ہے
13 نومبر 2020 (10:10) 2020-11-13

احساس کمتری ہی ہے جو بعض لوگ اپنے پسندیدہ لیڈروں کو عالمی شخصیات جیسا قرار دینے میں دیر نہیں لگاتے ، اب ٹرمپ کو ہی لیں تو پاکستان میں کون اس جیسا ہے ، حیرانی ہے مشاہد حسین نے بھی کہہ دیا کہ عمران خان اور ٹرمپ کی شخصیات میں کسی حد تک مماثلت ہے ، یہ بات پی ٹی آئی کا کوئی وزیر یا حامی کہہ دیتا تو نظر انداز کیا جاسکتا تھا ، جب مشاہد حسین جیسا دانشور ایسی بات کردے تو ریکارڈ کی درستگی ضروری ہو جاتی ہے ، ٹرمپ ذہین و فطین ہیں ، کاروباری معاملات میں غیر معمولی گرفت نے انہیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا ، میدان سیاست میں قدم رکھا تو دنیا کے سب سے اہم عہدے کو حاصل کرکے دکھایا، امریکہ جانے والے جانتے ہیں کہ آپ کسی بھی بڑے شہر میں داخل ہوں تو ایک فلک بوس چمکتی ہوئی عمارت ٹرمپ ٹاور کے نام سے ملے گی ، سکاٹ لینڈ میں سمندر کنارے ٹرمپ کا ایک بہت بڑا ہوٹل ہے ، ٹرمپ کے کاروباری معاملات اس قدر وسیع ہیں کہ میدان سیاست میں قدم رکھنے سے پہلے ان کے دنیا بھر کی بڑی شخصیات سے مراسم قائم ہوچکے تھے ، ری پبلکن پارٹی میں شامل ہوکر صدارتی امیدوار بننا بڑے بڑے جغادری سیاستدانوں کے لیے جھٹکے سے کم نہیں تھا ، غیر سیاسی پس منظر کے باعث انہیں 2016 میں صدارتی امیدوار بننے کے لیے اپنی ہی پارٹی کے اندر سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، اور تو اور امریکہ کی انتہائی بااثر اور مالدار سیاسی فیملی بش کے ارکان نے بھی ڈٹ کر مخالفت کی ، ڈیموکریٹس کی جانب سے ہلیری کلنٹن بظاہر اتنی مضبوط امیدوار تھیں کہ دنیا بھر کے تجزیہ کار اور میڈیا مقابلے کو یکطرفہ قرار دے رہا تھا ، امریکی انتخابات میں اگرچہ اسٹیبلشمنٹ کا وہ کردار نہیں ہوتا جیسا ہمارے ہاں ہوتا ہے مگر اس سے ایک تاثر ضرور بنتا ہے ، 2016 ء کے صدارتی الیکشن میں یہ پلڑا بھی واضح طور پر ہلیری کلنٹن کی جانب جھکا ہوا تھا ، ٹرمپ کے متعلق کسی کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ انہوں نے امریکی عوام کی غالب اکثریت کو درپیش اصل مسائل کو بروقت بھانپ کر اپنے منشور میں ڈھال کر پیش کردیا ، امریکہ کے صنعتکاروں کو پیداواری لاگت میں اضافے کا مسئلہ درپیش تھا ، اسی نوعیت کے دیگر مسائل کے سبب ملک میں بے روزگاری کی شرح مسلسل بڑھ کر عوام میں بے چینی بڑھا رہی تھی ، ٹرمپ نے امریکہ فرسٹ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے واضح کردیا کہ موقع ملا تو وہ روزگار سمیت ہر معاملے میں امریکی عوام کو ہی ترجیح دیں گے ، ان کی مقبولیت دنوں میں بڑھی ، شکاگو میں صحافت کے پروفیسر نے بتایا کہ ہمارا پورا خاندان ٹرمپ کو ووٹ دے گا ، جب ان سے پوچھا گیا کہ اتنی پڑھی لکھی فیملی ہلیری کلنٹن جیسی تجربہ کار سیاستدان پر اکھڑ مزاج ٹرمپ کو کیوں ترجیح دے رہی ہے تو جواب ملا اس لیے کہ وہ بند فیکٹریاں کھولنے کی پالیسی دے رہا ہے ، پروفیسر کے والد شکاگو کی جس سٹیل ملز میں کام کرتے تھے اس کی بندش کے سبب دس ہزار کارکنوں کو ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑے تھے ، مختصر یہ کہ ٹرمپ نے صدارتی الیکشن کا معرکہ سر کرکے پوری دنیا کو حیران کردیا ، یہ بھی درست ہے کہ ٹرمپ نے نسلی عصبیت کو ابھارا ، یقیناً یہ اچھا فعل نہیں تھا مگر اس کے ذریعے مضبوط ووٹ بنک حاصل کیا گیا ، ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد غیر روایتی انداز میں فیصلے کیے ، معیشت کی بحالی اور روزگار کی فراہمی کے لیے کئی اقدامات کیے ، ایک مرحلے پر بے روزگاری کی شرح صفر پر آگئی ، بیرون ملک فوجی آپریشنز کو کم کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ، دنیا بھر میں اپنے حلیف ممالک پر واضح کردیا کہ امریکہ سے سیکورٹی چاہیے تو پیسے دو ، اسرائیل کے حوالے سے کئی قدم آگے جاکر اقدامات کیے ، جن کا اثر اب عرب ممالک پر پڑ رہا ہے ، ایران پر سختی کی اور ماضی کی طرح بیان بازی کرنے کی بجائے صرف اپنی طاقت کا ثبوت دینے کے لیے اہم ترین کمانڈر قاسم سلمانی کو میزائل سے ہٹ کرڈالا ،کیونکہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کی ماضی کی پالیسی کے برعکس ٹرمپ یہ محسوس کر رہے تھے کہ تھوڑا سبق سکھانا ضروری ہے ، مگر اس کے ساتھ ہی یہ خیال بھی رکھا کہ ایران کی عرب ممالک کو ایران سے خائف رکھنے کے بندوبست میں زیادہ کمی نہ آئے ،فوجی بین الاقوامی امداد میں زبردست کمی کرتے ہوئے کئی ممالک کو باور کرایا کہ بات مانو ورنہ تیار ہو جائو ، یہ خالی خول دھمکی بھی چل گئی ، اس کے ساتھ یہ بھی واضح ہوگیا کہ جو کام گاجر دے کر لیا جاتا ہے وہ چھڑی دکھانے سے بھی عین اسی طرح ممکن ہے ، ٹرمپ کے دور اقتدار میں امریکی گرانٹس کے مزے لوٹنے والے عناصر مالی حوالے سے یوں وسائل جمع کرنے پر مجبور ہوگئے کہ سارا بوجھ ان ممالک کے عوام پر آن پڑا ، اپنے انتخابی وعدے کے مطابق بیرون ملک موجود فوجی دستے واپس بلانے سمیت کئی معاملات میں امریکی اسٹیبلشمنٹ ان کے فیصلوں کی مخالف تھی ، اس کے باوجود وہ سب کر گزرے ، مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانا اور بھارتی منشا کے مطابق مسئلہ کشمیر کا ‘‘حل ‘‘ نکالنے جیسے انتہائی اختلافی اور غیر معمولی فیصلے کیے ، امریکہ کو اپنے عوام کا دھیان بٹائے رکھنے کے لیے ہر دور میں ایک دشمن کی ضرورت ہوتی ہے ، اسی پالیسی کے تحت شمالی کوریا کے دور مار میزائلوں کو امریکی سرزمین کے لیے براہ راست خطرہ قرار دے کر خود ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کردیا ، ایک طرف شمالی کوریا کے صدر کو اپنا دوست قرار دیا تو دوسری جانب یہ بھی بتا دیا کہ آپکے ہتھیاروں کا جواب دینے کے لیے ہمارے پاس ایسا خوفناک اسلحہ ہے کہ میں دعا کرتا ہوں کہ اس کے استعمال کی نوبت نہ آئے ،اس کے بعد امریکہ آکر اعلان کردیا کہ کوئی خطرہ باقی نہیں رہا ، سب لوگ چین سے سوئیں ، ٹرمپ نے دنیا بھر کے ممالک سے تعلقات جو بنیادیں رکھیں اسکا الگ ہی انداز تھا ، وہ نریندر مودی اور عمران خان دنوں کو دوست کہتے تھے مگر ساری توجہ بھارت پر تھی ، یہاں ‘‘ مطالعہ پاکستان ‘‘ کا یہ مغالطہ بھی رفع کرلینا چاہیے کہ بھارت کو اہمیت صرف اسکی زیادہ آبادی کی وجہ سے ملتی ہے ، ایسا نہیں امریکہ ہو ، یورپ یا جاپان ہو ، یا پھر عرب دنیا اور آسٹریلیا ، روس ہو یا چین ہر کوئی بھارت کے حوالے سے تعلقات بناتے ہوئے یہی مد نظر رکھتا ہے کہ وہ قدرتی اور انسانی وسائل کی کیا پوزیشن ہے ، معاشی سفر کن خطوط پر آگے بڑھ رہا ہے ، ملک کا انتظامی ڈھانچہ کیسا ہے ،وغیرہ وغیرہ ، ذرا تصور کریں کہ اگر بھارت میں اتنی آبادی کے ہونے کے ساتھ باقی عوامل نیپال یا بھوٹان جیسے ہوتے تو دنیا میں کون اس کو لفٹ کراتا ، ٹرمپ نے سپر پاور کی اس اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے خلاف کئی اقدامات کیے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ گنتی کے ممالک کو چھوڑ کر باقی دنیا کے ہر ملک کی اسٹیبلشمنٹ اسکی بغل بچہ ہے ، یہ ٹرمپ کی غیر معمولی شخصیت کا ہی اثر تھا کہ ان کے دور اقتدار بھی امریکی انتظامی مشینری کے اہم کل پرزے دل پر جبر کرکے احکامات تسلیم کرتے رہے ، تاہم کئی مواقع پر ایسا ہوا کہ اپنی رائے کے اظہار سے باز نہ رہ سکے اور اندر کی باتیں سامنے آتی رہیں ، حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنے انتخابی منشور کو بڑی حد تک پورا کردیا تھا ، امکان یہی تھا کہ وہ آسانی کے ساتھ دوسری مدت کے لیے بھی صدر منتخب ہو جائیں گے ، مگر قسمت کا لکھا کون ٹال سکتا ہے ، کورونا جسے ٹرمپ چینی وائرس کہتے ہیں ان کے اقتدار پر بھی حملہ آور ہوگیا ، اس وائرس سے امریکہ کو محفوظ بنانے کے پیشگی دعوے دھرے رہ گئے ، لاک ڈاؤن اور دو لاکھ تیس ہزار سے زیادہ شہریوں کی ہلاکت نے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا ، حالات گھمبیر ہوئے تو سیاسی مخالفین کو بھی موقع مل گیا ، غیر محتاط گفتگو کی وجہ سے پہلے ہی ان کے متعلق ایک مخصوص تاثر بنا ہوا تھا ، مگر ان کی کارکردگی ہر کمزوری پر پردہ ڈال رہی تھی ، سب کیے کرائے پر پانی پھرا تو سیاسی مخالفین کے الزامات میں بھی وزن آگیا ، اس کے باوجود کڑا مقابلہ ہوا کہ آخری لمحے تک حتمی نتیجہ کا اندازہ لگانا مشکل ہوگیا تھا ، بظاہر غیر سنجیدہ نظر آنے والے ٹرمپ کی گرم طبعیت کے باعث دنیا بھر میں ان کا ایک خاص رعب تھا ، اب جو بائیڈن امریکہ کے صدر بن گئے ہیں تو عالمی پالیسیوں میں زیادہ تبدیلی تو نہیں آئے گی ، اتنا فرق ضرور پڑے گا کہ ٹرمپ اپنی مخصوص سوچ کے تحت دوسرے ممالک کے معاملات میں محدود سطح پر مداخلت کرتے تھے ، جو بائیڈن انسانی حقوق ، آزادی صحافت اور جمہوریت کے حوالے ڈیموکریٹس کی روایت پر لازما عمل کریں گے ، ایک ذہین سیاستدان کے طور پر وہ جانتے ہیں کہ امریکہ کا عالمی کردار برقرار رکھنے کے لیے صرف جنگی مشینری اور معیشت ہی نہیں بلکہ انسانی مسائل کے حوالے سے بھی دنیا کی قیادت کرنا ہوگی ، مبصرین کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن کے دور صدارت میں بھی ٹرمپ اور ان کی ٹیم کی سرگرمیاں جاری رہیں گی ، ادھر ہمارے ہاں عمران خان کا سارا معاملہ ہی الٹ ہے ، اچھی خاصی چلتی معیشت کا کا کباڑہ کر ڈالا ، سفارتی محاذ پر کارکردگی نہ ہونے کے برابرہے ، انتخابی منشور پر عمل کرنا تو دور کی بات کوئی ایک ڈھنگ کا کام بھی نہیں کرسکے ، آگے بھی مشکلات ہیں ، ٹرمپ کے برعکس کپتان کا سیاسی سفر اسٹیبلشمنٹ سے شروع ہوکر اسی کے ذریعے کنارے لگا ، گورننس کا یہ عالم ہے کہ عمران خان کو خود ٹی وی دیکھ کر ملک میں ہونے والے اہم فیصلوں کا پتہ چلتا ہے ، حکومت کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک پیج دن رات حرکت میں رہتا ہے ، تاجروں کی سطح تک کے مذاکرات بھی کہیں اور ہو رہے ہیں ، اگر صرف مخالفین پر فقرے کسنے کی بنیاد پر کسی کو کسی دوسرے سے ملانا ہے تو یہ درست نہیں ہوگا ، ہر شعبے میں ایسے افراد پائے جاتے ہیں جو دوسروں کو برا بھلا کہنے سے باز نہیں آتے۔ ایک لطیفہ یاد آگیا دوسری جنگ عظیم کے دوران ایک دیہاتی فوج میں بھرتی ہوگیا ، اس کے والد گاوں کی چوپال پر بیٹھ کر حلقے کا کش لگاتے ہوئے کہا مجھے تو ایک ہی فکر ہے کہ اگر ہٹلر بھی گرم مزاج کا ہے تو ہمارا بوٹا بھی کم سر پھرا نہیں۔


ای پیپر