ڈونلڈ ٹرمپ ....یا ایک رویے کی شکست (دوسری قسط)
13 نومبر 2020 2020-11-13

ٹرمپ نے داخلی طور پر امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خارجی محاذ پر امریکہ کی پالیسیاں ہمیشہ ہی تنقید کا نشانہ رہی ہیں۔ انسانیت کے خلاف ایٹم بم استعمال کرنے والا پہلا اور اب تک آخری ملک بھی وہی ہے۔ اس نے چھوٹے ممالک کو اپنی رعونت کا نشانہ بنایا۔ اس کی چیرہ دستیوں کی داستانیں بڑی طویل ہیں۔ مسلمانوں کے بارے میں اسکے دوہرے معیارات کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ لیکن داخلی طور پر امریکہ ہمیشہ مختلف رہا۔ اسے امکانات اور مواقع کی سر زمین کہا گیا۔ اور یہ سچ ہے کہ دنیا بھر کے ممالک سے لوگ امریکہ میں آئے، اپنی محنت و مشقت سے بڑا نام اور مقام پیدا کیا۔

حالیہ انتخابات میں، جو بائیڈن کے ساتھ کامیاب ہونے والی نائب صدر کا ملہ ہیرس ، انہی مواقع اور امکانات کی ایک مثال ہے۔ کاملہ کی ماں شمالہ گو پالن بھارت میں پیدا ہوئیں۔ ان کے آباو اجداد کا تعلق مدراس سے تھا۔ وہ تعلیم حاصل کرنے امریکہ گئیں۔ پی۔ایچ۔ڈی کیا، وہیں جمیکا سے آئے ایک آباد کار کے ساتھ شادی کر لی۔ کاملہ اپنے بچپن کی یادیں بیان کرتے ہوئے بتاتی ہے کہ جب وہ سات سال کی عمر میں اپنے چچا کے پاس گئیں تو پاس پڑوس کے گھروں کے گورے والدین نے اپنے بچوں کو " کالی" کاملہ کے ساتھ کھیلنے سے منع کر دیا۔ ان حالات میں کاملہ نے تعلیم حاصل کی۔وہ سینیٹر بنی۔ ڈیموکریٹ پارٹی میں شامل ہو کر سر گرم سیاست کی۔ آج وہ امریکہ کی تاریخ کا مستقل حصہ بن گئی ہے۔ وہ جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والی پہلی سیاہ فام خاتون ہے جو نائب صدارت کے منصب تک پہنچیں۔

جو بائیڈن کی زندگی میں بھی بہت دکھ آئے۔ بیوی اور بیٹی ایک حادثے میں مر گئیں۔ دو بیٹے زخمی ہو گئے۔ ایک بیٹا جواں سالی میں کینسر کا شکار ہو کر چل بسا۔ جو بائیڈن امریکی تاریخ کا سب سے کم عمر سینیٹر بنا اور اب وہ 78 سال کی عمر میں امریکہ کا معمر تریں صدر ہے۔

جیسا کہ میں نے اس سلسلے کے پہلے کالم میں بتایا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اس کی کارکردگی نے نہیں، اس کے رویے اس کے طرز عمل اور اس کے عمومی کردار نے ہرایا۔ دنیا کی واحد سپر پاور کے بلند تریں منصب پر بیٹھ کر بھی وہ ایک دن کے لئے بھی اس منصب کے شایان شان نظر نہ آیا۔ اسے یقین تھا کہ اس کا بازاری لہجہ، اس کی زبان درازی ، سیاسی مخالفین پر اس کے الزامات، دوسروں کا مضحکہ اڑانے کا مشغلہ اور خود کو سب سے بالاتر سمجھنے کی انانیت اسے فتح دلا دے گی لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ یہی بات اسکی شکست کا ذریعہ بن گئی۔ جو بائیڈن کو کبھی بھی، ڈونلڈ ٹرمپ کا مضبوط مد مقابل نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن ٹرمپ نے اس کا تمسخر اڑا کر خود کو بہت ہلکا کر لیا۔ اس نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر میں جو بائیڈن جیسے کمزور امیدوار سے ہار گیا تو لوگوں کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گا اور ممکن ہے مجھے امریکہ چھوڑنا پڑے۔ یہ غرور و تکبر اسے لے بیٹھا۔ اس نے امریکہ کی اس جمہوری روایات کو بھی پامال کر دیا کہ ہارنے والا امیدوار، باضابطہ اعلان سے پہلے ہی اپنی ہار مان لے اور جیتنے والے کو مبارک باد دے۔ کیا ٹرمپ کا یہ رویہ نتائج کو بدل دے گا؟ ہر گز نہیں لیکن ٹرمپ سے یہی توقع کی جا سکتی ہے۔ 

پاکستان کے حوالے سے امریکی انتخابات کی خاصی اہمیت ہے۔ 2018 کے بعد ہمارے ہاں بننے والی حکومت نے سارا زور ڈونلڈ ٹرمپ سے خوشگوار، دوستانہ تعلقات بنانے پر لگا دیا۔ محاورے کی زبان میں " تمام انڈے، ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹوکری میں رکھ دئیے گئے"۔ ملا ہمیں پھر بھی کچھ نہیں۔ ٹرمپ کی دوستی نریندر مودی سے استوار ہوئی اور بھارت ہی ہر اعتبار سے اسکی پہلی ترجیح رہا۔ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر ہڑپ کرنے کی کاروائی کو بھی ٹرمپ کی حمایت حاصل رہی۔ حال ہی میں فاٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے بھی ٹرمپ نے ہماری کوئی مدد نہیں کی۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ ٹرمپ ہمارے ہاں پریس پر پابندیوں، بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اپوزیشن کے بارے میں حکومتی رویے پر بھی خاموش رہا۔

جو بائیڈن، پاکستان کے لئے اور پاکستان جو بائیڈن کے لئے اجنبی نہیں۔ وہ جنوری 2008 سے جنوری 2016 تک صدر بارک اوبامہ کے ساتھ نائب صدر رہے۔ آصف زرداری اور میاں نوازشریف سے ان کی ذاتی دوستی ہے۔ 2008 میں زرداری حکومت نے بائیڈن کو "ہلال پاکستان" کا اعزاز دیا۔ وہ پاکستان آئے تو قائد حزب اختلاف نواز شریف سے ملنے رائیونڈ بھی گئے۔ ان کی کامیابی پر پاکستان سے مبارک باد کا پہلا پیغام بھی میاں نواز شریف کی طرف سے گیا۔ اپنی پارٹی کی طرح بائیڈن جمہوریت، بنیادی حقوق اور میڈیا کی آزادی کے بارے میں بہت حساس ہیں۔ وہ جمہوریت کو ہر طرح کے آمرانہ ہتھکنڈوں سے آزا دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیری لوگر بل بھی دراصل بائیڈن ہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا جس کے ذریعے پاکستان کے جمہوری اداروں کی مضبوطی کیلئے خطیر مالی امداد دی گئی۔

ہر ملک کی پالیسی،سب سے پہلے اپنے قومی اور عوامی مفاد کی بنیاد پر بنتی ہے۔ یہ توقع رکھنا فریب ہی ہو گا کہ جو بائیڈن، حدوں سے آگے نکل کر ہمارا ساتھ دیں گے۔ بھارت ہمارا دشمن ہے اور امریکہ سمیت کوئی بھی ملک ہماری وجہ سے بھارت کو پس پشت نہیں ڈال سکتا۔ ایسا تو سعودی عرب اور چین جیسے ہمارے دیرینہ اور آزمائے ہوئے دوستوں نے بھی نہیں کیا۔ لہذا جو بائیڈن سے ہمیں ایسی کوئی غیر حقیقیت پسندانہ توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ بائیڈن وہی کرئے گا جسے وہ امریکی مفاد سمجھے گا ۔لیکن یہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کے حوالے سے ڈیموکریٹس کی پالیسیاں، بالعموم ری پبلکنز کی پالیسیوں سے مختلف رہی ہیں۔ پاکستان کی جمہوری قوتوں کو شاید اس گھٹن کا احساس نہ ہو جس سے وہ اب تک گزر رہی تھیں۔ اسی طرح پریس کی آزادی کے حوالے سے بھی بائیڈن کا کردار، ٹرمپ سے مختلف رہے گا جو نہ صرف خودد اپنے پریس کا شدید ناقد تھا بلکہ وہ کسی دوسرے ملک میں پریس کی آزادی کے حوالے سے بھی کوئی حساسیت نہیں رکھتا تھا۔

امریکہ میں بالعموم خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے کہ داخلی طور پر اس کی روح پھر اپنی اصل کی طرف لوٹ رہی ہے۔ سیاہ فام آبادی اور مسلمانوں سمیت بیشتر ڈرے سہمے طبقوں نے جو بائیڈن کو ووٹ دیا۔ ان میں نفرت کا وہ ووٹ بہت موثر ثابت ہوا جو ٹرمپ کے رویے پر معترض تھے۔ پاکستان کو جنوری کے تیسرے ہفتے تک انتظار کرنا ہو گا جب ٹرمپ وائٹ ہاوس خالی کر جائے گا اور بائیڈن صدارت کا منصب سنبھال لیں گے۔ آنے والا سال یقینا پاکستان کے لئے بہت کچھ لائے گا۔


ای پیپر