....زہر....ہی 
13 نومبر 2020 2020-11-13

میری طرح یقیناً آپ بھی سوچتے ہوں گے، کہ دنیا کے مختلف ممالک جو ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما نہ بھی ہوں، لیکن ایک دوسرے کے خلاف سردجنگ جاری رکھتے ہیں۔ اور اس کی بہترین صورت سفارتکاری کے ساتھ ساتھ جاسوسی کرنے کے لیے جاسوس بھیجنا ہے ، تاکہ وہ دوسرے ملک کے اندر کی خبریں لاسکے۔ یہ سلسلہ روس سے امریکہ تک، بھارت سے پاکستان تک اور نیپال سے سری لنکا تک عرصے سے جاری ہے، غرضیکہ حدیہ ہے کہ ٹرمپ نے جوہائیڈن کو چین کا جاسوس قرار دینے میں بھی دریغ نہیں کیا، اسی لیے تو ٹرمپ کو متوازن شخص نہیں کہا جاتا تھا زیادہ دور کی بات نہیں، ماضی قریب میں روس کے حکمران گورباچوف پہ بھی یہ الزام لگاتھا کہ وہ امریکہ کے جاسوس ہیں، اورپھر انہوں نے صدارت سے علیحدگی کے بعد امریکہ میں مرتے دم تک سیاسی پناہ لے لی تھی اور روس کے ایک جاسوس، جوامریکہ کا شہری تھا، اور اب وہ شخص روس میں مستقل طورپر رہائش اختیار کرچکا ہے ، چھریرے جسم کے اس جاسوس نے امریکہ کی مضبوط اور مربوط احتیاطی تدابیر کے باوجود اپنے ملک سے غداری کی انتہا کر دی یہ امریکی شخص حساس ترین امریکی اداروں میں کام کرتا تھا، جب وہ جاسوس امریکہ سے مختلف ذرائع اختیار کرتا ہوا روس جاپہنچا تو امریکہ والے سرپیٹ کر رہ گئے، کہ روس نے اپنے حکمران گورباچوف کا بدلہ لے لیا، اور سونے پہ سہاگہ والا کام کردکھایا سوچنے کی بات ہے کہ حکمران، اور وہ بھی دنیا کی دوعالمی طاقتوں کے وہ بھی دوسرے متحارب ملک کے جاسوس ہوسکتے ہیں پاکستان جیسے ایک ملک جس میں بلاشبہ معدنی ذخائر جس میں یورنیم جیسی انمول دھات، جوکہ ایٹم بم بنانے کے کام آتی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے وافر تعداد میں موجود ہے، یہ سن کر ہمیں حیرانی ضرور ہوتی ہے، کہ بانی پاکستان جناب محمدعلی جناحؒ نے پاکستان بنتے وقت فرمایا تھا کہ قدرت نے ہمیں جو وطن عزیز دیا ہے، وہ قدرتی معدنیات سے مالا مال ہے، قارئین یہ ہماری کتنی بدنصیبی ہے کہ پاکستان بنے اتنی مدت گزر چکی ہے بلکہ پون صدی گزرچکی ہے لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم معاشی، اخلاقی، سیاسی اور ترقیاتی منصوبہ بندی جوکہ ہر متمدن اور مہذب اور بااختیار قومیں اپنے ممالک کو ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں لانے کے لیے سردھڑ کی بازی لگادیتے ہیں، مگر صدحیف اور صدافسوس کہ ہم نے اور ہمارے حکمرانوں کے ماسوائے صدر مرحوم جنرل محمدایوب خان کے ہم ترقی کے بجائے تنزلی کی جانب تیزی سے گامزن ہیں، بلکہ سرپٹ دوڑ لگائی ہوئی ہے، حضرت قائداعظمؒ اور جناب نواب لیاقت علی خان مرحوم نے تو ایثار وقربانی کی حدکردی تھی اور مواخات ، واخوت مدینہ کی یاد تازہ کردی تھی اور اپنا سب کچھ تن من دھن قربان کردیا تھا قائداعظم نے بقول حضرت حفیظ تائب فرمایا تھا کہ 

عظیم قائد نے یہ کہا تھا کہ ہم کو ہرشے خدانے دی ہے 

ہمیں میسر سبھی وسائل ہیں، ہاتھ میں باگ زیست کی ہے 

 اب آگے تعمیر مملکت کی ، ہمارے ہی ہاتھ میں ہے 

 تمام خوبی، تمام تیزی ہمارے اپنے ہی ہاتھ میں ہے 

قائداعظم نے جو اپنے اثاثے ہندوستان میں چھوڑے تھے، انہوں نے پاکستان آکر ان اثاثوں کے مطابق متبادل جائیداد لینے سے صریحاً انکار کردیا تھا، اور بطور گورنرجنرل پاکستان وہ تنخواہ نہیں لیتے تھے صرف علامتی طورپر ایک روپیہ تنخواہ لیتے تھے، میاں محمد نواز شریف بھی بطور وزیراعظم پاکستان تنخواہ نہیں لیتے تھے اسی طرح نواب لیاقت علی خان بھی تنخواہ کے بغیر بطور وزیراعظم کام کرتے رہے، اور جب انہیں راولپنڈی میں شہید کیا گیا تھا، اور انہیں اچکن وغیرہ اتار کر کفن پہنایا جانے لگا تو ان کی بنیان کئی جگہوں سے پھٹی ہوئی تھی اسی طرح میں نے سنا تھا کہ محمد علی جونیجو بھی تنخواہ نہیں لیتے تھے بطور وزیراعظم جب عمران خان آئے، تو انہوں نے بائیس سال تک یہی فرمایا کہ وزیراعظم کی تنخواہ میں گزارہ نہیں ہوتا، میری تنخواہ بڑھائی جائے، اور اس طرح سے انہوں نے اپنی تنخواہ بڑھوالی ، حتیٰ کہ اس ضمن میں اخراجات میں کمی لانے کی وعید دینے والے نے اخراجات کی ہرمد میں بڑی خوبصورتی اوربڑی ہنرمندی سے سپیکر جانبدار کے توسط سے اضافہ کرالیا، اپنے بے پناہ لاﺅلشکر معاونین خصوصی کے طفیل اپنے وزراءکو چیتے قرار دینے والے نے ملک میں متانت شائستگی رکھ، رکھاﺅ، اور سنجیدگی کا جنازہ نکال دیا ہے کہ ہم اب تک یہی سنتے آئے تھے کہ خدا نہ کرے کہ ہمارا ملک انارکی کا شکار ہو جائے لیکن میرے خیال میں ہمارے ملک میں تبدیلی کی جگہ انارکی آگئی ہے، میری دعا ہے بلکہ خدا سے التجا ہے، کہ ہمارے ملک کے ہرسیاستدان کی فراست، اور سچائی لیفٹیننٹ جنرل عبدالقادر بلوچ کی طرح ہوجائے، چونکہ وہ اپنے چاروں جانب سے کسی بھی طرح سیاستدان نہیں لگتے، میری ان سے فون پہ ان دنوں بات ہوئی تھی، جب وہ کورکمانڈر گوجرانوالہ تھے، میری بات سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے بھی ہوئی ہے اس معاملے میں وہ بھی کسر نفسی کی بلندیوں پر ہیں جن کا نام پاکستان میں سب سے زیادہ انکم ٹیکس 44کروڑ دے کر پاکستان کی Geninness Book of Pakistanمیں آنا چاہیے، مگرجہاں تک بلوچستان میں ثناءاللہ زہری صاحب کا تعلق ہے اس معاملے میں صریحاً نظر آتا ہے کہ بطور بلوچ مہمان نوازی کی روایت رکھنے والے جنرل عبدالقادر بلوچ کا موقف صحیح ہے اس لیے تو ثناءاللہ زہری ، زہر ہی بن گئے ہیں۔ سچ پوچھیے تو آج کل ہمارا ہرسیاستدان زہر ہی تو ہے ۔


ای پیپر