آزادی صحافت اورمعتدل معاشرہ
13 نومبر 2019 2019-11-13

عاصمہ جہانگیر کانفرنس لاہور میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ اور ویزہ جاری ہونے کے باوجود کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس ایشیا کے پروگرام کوآرڈینیٹر سٹیون بٹلر کو پاکستان میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انھیں لاہور ائیرپورٹ سے ہی امریکہ واپس بھیج دیا گیا۔ حکومت پاکستان کے اس عمل پر عالمی میڈیا کا شدید ردعمل آ رہا ہے۔آئی سی جے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جول سائمن نے کہا ہے کہ ” پاکستانی حکام کا سٹیون بٹلر کو پاکستان میں داخل ہونے سے روکنا حیران کن ہے۔ یہ ان لوگوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو پاکستان میں آزادی صحافت کے ذمہ دار ہیں“۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے کونسے حقائق تھے جو ویزا جاری کرنے کے بعد یاد آئے۔ اگر کوئی مضبوط جواز موجود تھا تو ویزا جاری کرنے سے پہلے اعتراض اٹھایا جاتا، لیکن حکومتی عمل باعث حیرت ہے کہ ائیر پورٹ پر بھی پوچھے جانے پر مسٹر بٹلر کو صرف یہ بتایا گیا کہ آپ کا نام وزارت داخلہ کی جانب سے سٹاپ لسٹ میں شامل ہے۔ سٹیون بٹلر 2007 سے لگاتار پاکستان آ رہے ہیں۔ یہ نام کیوں، کیسے ، کب اور کن بنیادوں پر شامل کیا گیا اس کا جواب ابھی تک نہیں مل پایا۔ ادھر پاکستانی اور بین القوامی میڈیا وزارت داخلہ کے جواب کی منتظر ہے لیکن حکومت کی طرف سے کوئی واضع ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ ممکن ہے کہ حکومتی جواب بہت سی کلئیاں کھول دے لیکن پراسرار خاموشی پاکستان کے امیج کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہی ہے۔

2019 کے فریڈم آف پریس انڈیکس کے مطابق پاکستان تین پوائنٹس تنزلی کے ساتھ ایک سو بیالیس نمبر پر آ گیا ہے۔ 2018 میں پاکستان ایک سو انتالیس نمبر پرکھڑا تھا۔ جمہوری حکومت کے دور میں آزادی رائے انڈیکس میں کمی پاکستان کے لیے باعث پشیمانی ہے۔ حکمران جماعت شاید بھول رہی ہے کہ میڈیا کی آزادی نے ہی ان کے غبارے میں ہوا بھری تھی۔ عمران خان کی آواز گلی کوچے تک میڈیا نے ہی پہنچائی تھی۔ ماضی میں بحیثیت اپوزیشن رہنما عمران خان اسی میڈیا کے مشکور و معترف تھے ۔ حکمران بنتے ہی وہ آزادی رائے کو مشکوک نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔

دور جدید میں اظہار رائے پر قدغن لگانا حکومتوں کے لیے زیادہ سود مند ثابت نہیں ہو پاتا۔ ایسے عوامل چھوٹے ایشوز کو غیر معمولی حد تک سنجیدہ بنا دیتے ہیں۔ جس خوف کے پیش نظر اس طرح کے فیصلے لیے جاتے ہیں وہ عمل کسی اور ذریعے سے وقوع پذیر ہو جاتا ہے اور حکومتیں کچھ بھی نہیں کر پاتیں۔ سٹیون بٹلر نے پاکستان سے نکالے جانے کے بعد سکائپ کے ذریعے کانفرنس میں شرکت کی جسے دیکھنے اور سننے کے لیے غیر معمولی حد تک لوگ جمع ہو گئے۔ بتائیے، حکومت کو انھیں روکنے کا کیا فائدہ ہوا؟ اس کے علاوہ ماضی میں منظور پشتین کے جلسوں کی میڈیا کوریج پر پابندی نے انھیں ہیرو بنا دیا۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ انھیں سوشل میڈیا پر دیکھنے لگے اور ٹویٹر پر فالو کرنے لگے۔

ماضی میں جن حکومتوں نے آزادی صحافت اور آزادی رائے پر پابندی لگانے کی کوشش کی ہے ان کا انجام بخیر و عافیت نہیں ہو سکا۔ 2007 میں پرویز مشرف نے آزاد نیوز چینلز پر پابندی لگائی جس کا نتیجہ 2008 میں پرویز مشرف کی حکومت کو گھر بھیجنے کی صورت میں نکلا۔ 2011 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے وزیر داخلہ نے صدر پاکستان آصف علی زرداری کے خلاف سوشل میڈیا پر لکھنے یا میسج بھیجنے پر چودہ سال قید کا قانون متعارف کروایا، جسے عوام میں سخت ناپسند کیا گیا۔ اس کے علاوہ حکومت پر تنقید کرنے کے باعث بہت سے صحافیوں کے پروگرام بند کرائے اور مقدمے بھی ہوئے۔ نتیجتاً 2013 میں حکومت کو گھر جانا پڑا۔ گو کہ ان حکومتوں کے ختم ہونے میں دیگر عوامل بھی شامل تھے لیکن میڈیا پر پابندی کے غیر منصفانہ قانون نے اہم کردار ادا کیا۔ 2013 سے 2018 تک ن لیگ کا دور حکومت آزادی صحافت کے حوالے سے قدرے بہتر تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن2019 میں تحریک انصاف کی حکومت کے نتائج حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ وزیر اعظم پاکستان ان صحافیوں کو میٹنگ میں نہیں بلاتے جو ان کے خلاف بولتے یا لکھتے ہیں۔ انھیں صرف وہ صحافی پسند آتے ہیں جوان کی شان میں قصیدے گاتے ہیں اور ان کی خامیوں کو دانستہ نظرانداز کرتے ہیں۔اگر حکومت وقت نے اپنی روش نہ بدلی تو آنے والے سالوں میں پاکستان سی ٹو پی جے میں مزید تنزلی کا شکار ہو سکتا ہے۔

پچھلے ایک سال میں پاکستانی میڈیا بدترین سنسر شپ کا شکار نظر آ رہا ہے۔ مریم نواز کے انٹرویوز اور بیانات کو میڈیا پر چلانے سے اس بنیاد پر منع کر دیا گیا کہ وہ سزا یافتہ ہیں جبکہ جہانگیر ترین مجرم اور سزا یافتہ ہونے کے باوجود میڈیا کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ آصف علی زرداری صاحب کے بیانات پر یہ کہہ کر پابندی لگا دی گئی کہ وہ زیر تفتیش ہیں جبکہ حکومت پاکستان کے وزیراعظم، صدر پاکستان، وزیر دفاع، وزیر اعلی خیبر پختونخواہ، پلانگ ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارمز کے وفاقی وزیر سمیت کئی وزرا نیب میں زیر تفتیش ہونے کے باوجود میڈیا پر کھل کر بات کرتے ہیں اور پیمرا کوئی نوٹس نہیں لیتا۔

پاکستان میں 2001 سے 2018 تک قتل کیے گئے صحافیوں کی تعداد ایک سو سے زائد ہے جبکہ زخمی، اغوا، گرفتار اور تشدد کا نشانہ بنائے گئے صحافیوں کی تعداد دو ہزار سے زائد ہے۔ صرف 2009 سے 2014 تک ستر صحافیوں کو قتل کیا گیا۔ لمحہ فکر یہ ہے کہ ان کے قاتلوں کو آج تک سزا نہیں دی جا سکی۔ اقوام متحدہ کے plan of action on impunity against journalists کے لیے پاکستان کو 5 پائلٹ ملکوں میں شامل کیا گیا ہے کیونکہ پاکستان صحافیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ملکوں کی فہرست میں شامل ہے۔

پاکستانی معاشرہ مختلف افکار،طبقات، مذاہب، مسالک اور فرقوں پر مشتمل ہے۔ شدید اختلاف رائے کے حامل ملک پاکستان میں معتدل رائے قائم کرنے کے لیے صحافیوں کے کردار کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن صحافی اور آزادی رائے قائم کرنے والے ادارے اس وقت تک اپنا کردار ادا نہیں کر سکیں گے جب تک انھیں آزاد ماحول میں سانس لینے کی سہولت میسر نہیں آتی اور ان کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی نہیں بنا لیا جاتا۔ معتدل معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ صحافت کے عالمی اداروں کے نمائندوں کو پاکستان میں داخلے سے نہ روکا جائے۔ بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اس سے نہ صرف پاکستانی عوام کو تحفظ کا احساس ہو گا بلکہ عالمی منظر نامے پر پاکستان کا امیج بہتر ہو سکے گا۔


ای پیپر