ویسے سب اچھا ہے
13 نومبر 2019 2019-11-13

حکمران سیاسی ہو یا غیر سیاسی ان کو جو لفظ سب سے زیادہ پسند ہوتا ہے جسے وہ مسلسل اور بار بار سننا پسند کرتے ہیں جو ان کے کانوں میں رس گھولتا ہے وہ ” سب اچھا ہے “۔ وہ صرف یہ سننا پسند کرتے ہین کہ ان کی بدولت ملک میں خوشحالی کا دور دورہ ہے ۔ ہر طرف چمکتے دمکتے چہرے ہیں۔ وطن عزیز میں کوئی بھوکا نہیں سوتا۔ ہر کسی کو چھت دستیاب ہے ۔ ہر طرف انصاف کا بول بالا ہے ۔ کسی کی مجال ہے کہ وہ اپنے سے کمزور پر ظلم کرے۔ تھانوں میں رشوت، تشدد کا نام و نشان مٹ چکا ہے ۔ ہر کام میرٹ پر ہو رہا ہے ۔ عدالتوں میں سستا اور فوری انصاف ملتا ہے ۔ انتظامیہ قانون سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کرتی۔ اقربا پروری اور بدعنوانی تو اب صرف تاریخ کی کتابوں اور عجائب گھروں میں ملتی ہے ۔ اسی بنیاد پر وہ ساہیوال کا واقعہ ہو یا ماڈل ٹاو¿ن کا۔ پھول جیسے بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات ہوں یا ادویات کی عدم دسیتابی اور سہولیات کے فقدان کے باعث ہونے والی اموات وہ ان سب کو اکا دکا واقعات قرار دے کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ سب اچھا ہے کی گردان انہیں تمام پریشانیوں اور عوامی مسائل سے نجات دلا دیتی ہے ۔ حکمران یہ سننا پسند نہیں کرتے کہ ان کی حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں عام لوگوں کی زندگی مزید اجیرن ہو گئی ہے ۔ ان کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ ان کے لیے دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ہو گیا ہے ۔ تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتیں ان کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ پہلے لوگ ماہانہ کرایے کے لیے پریشان ہوتے تھے اب انہیں بجلی کے بل دن میں تارے دکھاتے ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری نے انہیں نڈھال کر دیا ہے ۔ غربت میں اضافہ ہو رہا ہے معاشی ترقی کی رفتار کم ہو چکی ہے ۔ معاشی بحران شدت اختیار کررہا ہے ۔ سماجی خلفشار اور انتشار بڑھ رہا ہے ۔ اگر پریشانی بڑھ جائے اور یہ تمام مسائل بار ذہن میں آئیں تو ان سب کا ملبہ پچھلی حکومتوں پر ڈال کر مطمئن ہو جائیں۔

سب اچھا ہے سے مجھے وہ واقعہ یاد آ رہا ہے جس میں ایک شخص گاﺅں سے اپنے رشتے داروں کو ملنے شہر جاتا ہے تو وہ شہر میں رہنے والے اس سے گاﺅں والے رشتے داروں کا حال پوچھتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ ویسے تو سب ٹھیک ہے مگر تایا محمد بوٹا فوت ہو گیا ہے ۔ اسی طرح وہ کسی کے زخمی ہونے کے بارے میں بتاتا ہے اور کسی کی طلاق کے بارے میں ۔ یہ سب سن کر اس کے رشتے دار پریشان ہو جاتے ہیں۔ انہیں پریشان دیکھ کر وہ ان کو کہتا ہے کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں ویسے باقی سب ٹھیک ہے ۔

کچھ اسی قسم کی کیفیت میں تحریک انصاف کی حکومت مبتلا نظر آتی ہے ۔ آپ اگر ان سے پوچھیں کہ مہنگائی نے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے تو وہ بتائیں گے کہ بس تھوڑی بہت مہنگائی ہے باقی سب ٹھیک ہے ۔ تھوڑا سا برداشت کر لیں اگلے دو سالوں میں مہنگائی کم ہو جائے گی یا پھر ہم اس کے عادی ہو جائیں گے۔ ان سے اگر یہ پوچھا جائے کہ سرکاری ہسپتالوں میں علاج مہنگا ہو گیا ہے ۔ پرچی کی فیس 50 روپے ہو گئی ہے ۔ پنجاب کے سب سے بڑے سرکاری کینسر ہسپتال انمول میں پرچی کی فیس 50 روپے سے بڑھ کر 550 روپے کی ہو گئی ہے اور اسی طرح مختلف ٹیسٹوں کی قیمت میں بھی 100 فیصدتک اضافہ ہو گیا ہے تو وہ کہیں گے کہ اگر ایسا ہوا ہے تو اس کی ٹھوس اور معقول وجہ ہو گی ویسے باقی سب ٹھیک ہے ۔ سرکاری یونیورسٹیوں کی فیسوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ اعلیٰ تعلیم اب غریب خاندانوں کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے ۔ اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں اربوں روپے کی کٹوتی کی گئی ہے تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہمیں تھوڑی بہت مشکلات کا سامنا ہے ۔ ہم ماضی کی حکومتوں کا گند صاف کر رہے ہیں۔ حالات بہت جلد ٹھیک ہو جائیں گے ۔ کہیں کہیں تھوڑے بہت مسائل ہیں ویسے باقی سب ٹھیک ہے ۔

کیا ہوا اگر مہنگائی بڑھ گئی ہے بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ معاشی ترقی کی شرح کم ہو گئی ہے ۔ ملکی معیشت جمود کا شکار ہے ۔ قرضوں کا حجم مسلسل بڑھ رہاہے۔بد عنوانی اور کرپشن کے خاتمے کے دعوے کے با وجود مسلسل قرضے لیے جا رہے ہیں۔ بجلی کی قیمتوں میں 4 بار اضافہ ہو چکا ہے ۔ حالیہ اضافہ 2 روپے 42 پیسے فی یونٹ کا ہوا ہے ۔ پٹرول کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ گیس کی قیمتیں پہلے ہی بڑھائی جا چکی ہیں۔ بجلی ، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد حکمران بہت ہی معصومیت سے پوچھتے ہیں کہ مہنگائی کون کر رہا ہے ۔ انتظامیہ اس کو کنٹرول کرے۔ حکمران کہتے ہیں کہ مشکل وقت ختم ہو گیا ہے ۔ بس کچھ مسائل کا سامنا ہے ویسے باقی سب ٹھیک ہے ۔

نہ تو نئی نوکریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ اور نہ ہی سستے نئے گھر بن رہے ہیں۔ مگر پھر بھی سب ٹھیک ہے ۔ پولیس کا نظام جوں کا توں ہے + ریاستی افسر شاہی میں اصلاحات ابھی تک اعلانات تک محدود ہیں۔ بلکہ افسر شاہی کو پہلے سے بھی زیادہ اختیارات سے نوازا جا رہا ہے ۔ قانون سازی پارلیمنٹ کے ذریعے کرنے کی بجائے آرڈی نینسوں کے ذریعے ہو رہی ہے ۔ پارلیمنٹ محض موچی دروازے کی تاریخی جلسہ گاہ کی ماڈرن شکل اختیار کر چکی ہے ۔ جہاں پر عوام کو در پیش مسائل پر بات کرنے اور ان کو حل کرنے کی بجائے تقریری مقابلے ہوتے ہیں ۔ پارلیمنٹ جزو معطل بن چکی ہے ۔ یہ کونسا کوئی بڑا مسئلہ ہے باقی سب ٹھیک ہے ۔ کیا ہوا اگر بڑی صنعتیں بحرانی کیفیت سے دو چار ہیں۔ ٹیکسوں کی بھر مار ہے ٹیکس نظام میں اصلاحات کے نام پر عوام پر بالواسطہ ٹیکسوں کا مزید بوجھ لاد دیا گیا ہے ۔ پاکستان شہری ہر چیز پر ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ مگر پھر بھی وہ حکومت کی طر ف سے ٹیکس چور قرار دیئے جاتے ہیں۔ کیونکہ طاقتور اشرافیہ اور امیر لوگوں سے ٹیکس لینا مشل کام ہے ۔ لہٰذا عوام کی جیبوں سے پیسے نکلواتے رہو۔ جن کو ٹیکس دینا چاہے انہین چھوٹ دیتے رہیں اور عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ لادتے رہیں۔ ملک کیونکہ ٹیکسوں کے بغیر نہیں چلتا اس لیے غریبوں اور عام لوگوں کو ہی ٹیکس دینا پڑے گا۔ یہ چند چھوٹی موٹی مشکلات موجود ہیں ۔ مگر جلد یہ بھی ختم ہو جائیں گی ۔ ویسے باقی سب ٹھیک ہے ۔ لوگ بس اپنی دقیا نوسی سوچ کو بدلیں روزگار، تعلیم، اور صحت وغیرہ فراہم کرنا حکومت کا کام نہیں ہے ۔ لہٰذا یہ سب پیسوں سے خریدو۔


ای پیپر