وزیراعظم آزاد کشمیر کا شکوہ!
13 نومبر 2019 2019-11-13

آزاد ریاست جموں و کشمیر کے منتخب وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے آخر کار وہ بات کہہ ہی دی جسے کہنے سے وہ مسلسل گریز کررہے تھے۔ یہ اُن کااحساس ذمہ داری تھا، رواداری تھی۔ مصلحت کا تقاضا تھا یا علاقائی صورت حال کا بھیانک منظرنامہ۔ وجہ جو بھی ہو وہ اتنی دوٹوک بات کرنے سے گریزاں تھے۔ اپنی پختہ سیاسی وابستگی اور دوٹوک انداز فکر کے باوجود موجودہ عملی صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے وہ اس بات کو زبان پر لانے سے بچ رہے تھے جو پاکستان اور آزاد کشمیر کے اندر ایک نئی سیاسی بحث اور رسہ کشی کا باعث بن جائے۔

تاہم لاہور میں دو روزہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہہ ہی دیا کہ ہم نے مسئلہ کشمیر حل کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ کوئی دس روز قبل لاہور میں ممتاز صحافی جناب مجیب الرحمان شامی کی رہائش پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے راجہ فاروق حیدر نے یہی بات اس انداز میں کہی تھی کہ ہم نے کشمیر کا مقدمہ بددلی کے ساتھ لڑا ہے۔ انہوں نے اس کے لیے ہاف ہارٹڈلی کا لفظ استعمال کیا تھا۔معلوم نہیں یہ اُن کی سوچ کا ابتدائی حصہ تھا یا حتمی رائے۔ ان دونوںجملوں کو ملاکرپڑھایا جائے تو کشمیری عوام کے جذبات و احساسات کی بھرپور عکاسی ہوجائے گی۔ یہ بات آزاد کشمیر کے عوام محسوس ضرور کرتے تھے مگر اس کا اظہار کھلے عام نہیں کرتے تھے۔ کچھ جذباتی نوجوان نجی محفلوں میں اس کا اظہار کردیتے تھے جسے نوجوانوں کی جذباتیت سے تعبیر کردیا جاتا تھا۔ لیکن اب آزاد کشمیر کے سب سے معتبر اور نمائندہ شخص کی جانب سے کھلے عام اس کا اظہار پہلے آزاد کشمیر کے نوجوانوں کی زبان اور تحریر میں آئےگا اور پھر آزاد کشمیر کے دیگر حلقے بھی اس پر بات کریں گے اور آخرکار شاید مقبوضہ کشمیر کے عوام بھی اس شکایت کو زبان پر لے آئیں کہ وہ مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔ 5 اگست کے بعد سے اُن کی بے بسی اور کمپرسی سب کے سامنے ہے۔ آزاد کشمیر اور پاکستان کی حکومتوں اور عوام سے اُن کی اُمیدیں تاحال قائم ہیں۔ لیکن اللہ نہ کرے مسلسل بھارتی جبر اور ہماری مصلحت کوشی اُن کی امید کو ناامیدی میں بدل دے۔ جب آزاد کشمیر کے وزیراعظم جیسا ذمہ دارس شخص یہ کہتا ہے کہ ہم نے مسئلہ کشمیر کے حل کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی یا ہم نے کشمیری مقدمہ ہاف ہارٹڈلی لڑا ہے تو آزاد کشمیر اور پاکستان کی حکومتوں، عوام اور فیصلہ ساز اداروں پر یہ ذمہ داری آ پڑتی ہے کہ آزاد کشمیر تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ ہے اور پاکستان اس تحریک کا اخلاقی، سیاسی اور سفارتی پشتیبان۔ پاکستان۔کے علاوہ دونوں جانب کے کشمیری عوام الحاق کشمیر کو تکمیل پاکستان کا نامکمل ایجنڈا کہتے ہیں۔ ایسے میں یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کیا حصول کشمیر کے لیے ہم نے صحیح سمت میں صحیح کوشیشیں کی ہیں یا ایسا نہیں کرسکے۔ اس حوالہ سے بہت سے سوالات ذہنوں میں اُبھرتے ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ تقسیم کے فوری بعد جب بھارت نے فوج کشی کرکے مقبوضہ کشمیر پر جابرانہ قبضہ کرلیا اور بالآخر کشمیری اور قبائلی عوام نے لڑکر کشمیر کا وہ حصہ آزاد کرایا جو اب آزاد کشمیر کہلاتا ہے تو بھارت اس معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے گیا۔ 1948ءمیں سلامتی کونسل نے کشمیر میں استصواب رائے کرانے کا اعلان کیا جسے پاکستان اور بھارت دونوں نے قبول کیا۔ اس کے بعد سے بھارت مسلسل اس معاملے کو عالمی فورم پر زیر بحث آنے کے عمل کو ٹالتا رہا کہ اس کا کشمیر کے بڑے اور مرکزی حصے پر قبضہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ 1948ءکے بعد سے پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں نے استصواب رائے کرانے کے لیے کیا کوششیں کیں، کیا اقدامات اٹھائے، عالمی ضمیر کو کتنا بیدار کیا، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو اپنے ہی فیصلہ پر عملدرآمد کرانے کے لیے کتنی کوششیں کیں اور اس معاملے پر عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے کس قسم کی اور کتنی سفارتی کوششیں کیں اور ان کا نتیجہ کیا رہا اگر کاوشیں کار گر نہیں رہیں تو اُس کی وجوہات کیا تھیں۔ سلامتی کونسل میں اس معاملے پر عالمی حمابت حاصل کرنے کا کیا کوششیں کی گئیں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ بھارت پہلے دن ہی سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کررہا ہے۔ جنگ بندی لائن یا خط متارکہ ءجنگ پر بھی اس کی اشتعال انگیزی پہلے دن سے جاری ہے۔ اس معاملے کو عالمی فورمز پر کتنے موثرانداز میں اٹھایا گیا۔ تیسرا سوال یہ ہے کہ جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دے کر وہاں نام نہاد اسمبلی اور حکومت قائم کی تب اس کے توڑ کے لیے آزاد کشمیر اور پاکستان کی حکومتوں نے کیا کیا؟۔

1973ءمیں معاہدہ شملہ کے موقع پر کشمیر کو دوطرفہ معاملہ تسلیم کرلیا گیا، اس طرح یہ ایک عالمی مسئلہ ہونے کی سطح سے گر کر پاکستان اور بھارت کا باہمی تنازع رہ گیا۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے بھارت کی یہ شرط کیوں مانی اور اس ملک کے مقتدر ترین اداروں نے یہ کیسے قبول کرلیا۔ یہی نہیں بلکہ اس کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے زبانی واویلا تو کیا لیکن حکومت پر کوئی ایسا موثر دباﺅ کیوںنہیں ڈالا کہ وہ یہ شرط ماننے سے انکار کرے یا اس کو بہتر بنانے پر بھارت کو مجبور کرے۔ یہی کام 1998ءمیں معاہدہ لاہور کے موقع پربھی ہوا جب نواز شریف اور اٹل بہاری واجپائی نے کشمیر کو دوطرفہ معاملہ قرار دیتے ہوئے بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا۔ اس طرح یہ تنازع عالمی مسئلہ سے ہٹ کر دوطرفہ معاملہ بنتا چلا گیا۔ لیکن پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ کے ساتھ آزاد کشمیر کی حکومت اور پارلیمنٹ نے بھی اس کی نتیجہ خیز مزاحمت نہیں کی۔بعد میں جنرل پرویز مشرف نے کارگل آپریشن کرکے نواز شریف کی حکومت تو ختم کردی لیکن خود اقتدار میں آنے کے بعد اس مسئلہ کے حل کے لیے کتنی موثر اور سنجیدہ کوششیں کیں۔ یہ سوال بھی ذہنوں میں کلبلاتا رہتا ہے۔

نواز شریف کے سابقہ دور میں جب نریندر مودی بھارت میں اپنی انتخابی مہم چلاتے ہوئے بھارتی آئین کی دفعہ 370 اور 35-A کے خاتمے کے انتخابی نعرے اور مقبوضہ کشمیر کو بھارتی یونین کا حصہ بنانے کا اعلان کررہے تھے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف اپنی نجی تقریبات میں نریندر مودی کو کیوںبلا رہے تھے اور ہمارا دفتر خارجہ اور مقتدر ادارے کیوں خاموش تھے۔

اور پھر موجودہ حکومت کے دور میں کس نے حکومت کو مجبور کیا تھا کہ وہ بھارت کو سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست کے لیے ووٹ دے۔ اس کے مقاصد کیا تھے۔ حکومت کا ہاتھ روکنے کے لیے حکومتی پارٹی ،پارلیمنٹ ،سیاسی جماعتوں مقتدر حلقوں نے کیا کیا۔ اور اب بھی نوجوان سوال کررہے ہیں کہ ہم پاکستان اور آزاد کشمیر کے لوگ اور حکومتیںصرف تقریریں کر رہے ہیں اور ان تقریروں پر داد وصول کررہے ہیں۔ کانفرنسیں اور ریلیاں نکال لیتے ہیں جبکہ بھارت مقبوضہ کشمیر کو باقاعدہ طور پر بھارتی یونین کا حصہ بنارہا ہے ا۔ مقبوضہ کشمیر کا ایوان بالا بھی تحلیل کردیاگیا ہے۔ اور ہم انسانی حقوق کی پامالی قرار داد بھی کی سلامتی کونسل میںنہیں لاسکے۔ کیا ہم آئندہ بھی صرف تقریروں اور بیانات ہی سے کام چلائیں گے۔یا کوئی عملی قدم بھی اٹھائیںگے۔کیا ہم انتظار کر رہے ہیں کہ فاروق حیدرکے بعد پوری دنیا کہہ رہی ہے کہ ہم نے مسئلہ کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں نہیں کیں۔


ای پیپر