کیا نواز شریف پنجاب کے بھٹو بن سکتے تھے؟
13 نومبر 2019 2019-11-13

مولانا فضل الرحمن کےا آزادی مارچ کے شروع ہوتے ہی اور میاں نواز شریف کی طبعیت ناساز ہوتے ہی جس طرح حالات کا دھارا حکومت کے ہاتھ سے نکل کر اپوزیشن کے ہاتھ میں آیا ہے ناقدین کی جانب سے یہ سوالات بالکل جائز ہیں کہ کیا مولانا کس کے لئے کام کر رہے ہیں؟ کیا میاں نواز شریف واقعی میں بیمار ہیں ؟ ناقدین اس طرح کے متعدد سوالات پوچھ رہے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے ساتھ ساتھ حکومتی وزرا بھی یہ وضاحت دیتے نظرآ رہے ہیں کہ کوئی ڈیل نہیں ہوئی نواز شریف واقعی میں بیمار ہیں۔ حالات نے کچھ ایسا پلٹا کھایا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان جو میاں نواز شریف کے کمرے سے اے سی اور فریج ہٹانے کی باتیں کرتے تھے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں وزرا کو یہ یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ میاں صاحب واقعی میں بیمار ہیں اور انھیں انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر علاج کی سہولیات ملنی چاہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی طرز حکمرانی تو گزشتہ ادوار سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے تاہم اس جماعت کے کارکنوں یا رہنماو¿ں میں اپنے قائد سے اختلاف کا حوصلہ ضرور موجود ہے۔یہی وجہ ہے ہے کہ پارلیمانی اجلاس میں وزیر اعظم کی جانب سے میاں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی منظوری دی گئی تو کابینہ کے کئی اراکین نے مخالفت کر دی۔ پی ٹی آئی کابینہ کے اراکین بھی اپنی جگہ درست ہیں کیونکہ اقتدار میں آنے سے پہلے اور بعد میں پی ٹی آئی محض احتساب کا بیانیہ لے کر چل رہی ہے۔ اگر میاں نواز شریف ملک سے باہر چلے جاتے ہیں۔باوجود اس کے کہ وہ حقیقت میں بیمار ہیں تو پی ٹی آئی کے پاس اپنے ناقدین کے ساتھ ساتھ کارکنوں کے سوالوں کا بھی کوئی جواب نہیں ہو گا۔ صورتحال کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے میاں نواز شریف کا بیرون ملک علاج کی اجازت تو دے دی مگر واپسی کی ضمانت کے ساتھ۔ موجودہ تناظر میں جب عدالت نے بھی میاں نواز شریف کو باہر بھیجنے کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کردیا ہے حکومت کی جانب سے شرائط رکھنے کا فیصلہ تودرست معلوم ہوتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کیا وہ گیم چینجر جس نے حالات کا دھارا بدلا ہے ، جسے میاں نواز شریف کی بیماری کی صورت میں قدرت کی مدد ملی ہے اور جو آزادی مارچ کا بھرپور فائدہ اٹھا چکا ہے کیا وہ حکومت کی شرائط کو ماننے کے لئے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے گا ؟ نہیں، اگر گیم چینجر نے ہاری ہوئی بازی اپنے ہاتھ میں لی ہے تو وہ اسے جیتنے کے لئے آخری حد تک جائے گا۔ میاں نواز شریف کی بیماری حقیقی ہے مگر کیا وہ پہلے بیمار نہیں تھے ؟ کیا انکے پلیٹلٹس میں اچانک کمی محض اتفاق ہے ؟ کیا مولانا کا دھرنا محض دھاندلی کے خلاف آزادی مارچ تھا ؟ کیا ن لیگ اور پیپلز پارٹی محض مارچ میں ساتھ دینے کے بعد دھرنے سے لاتعلق ہو چکی ہیں ؟ کیا زرداری کو گلیوں میں گھسیٹنے کا عزم ظاہر کرنے والے شہباز شریف محض انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سابق صدر کی صحت کے لئے فکر مند ہیں ؟ کیا مولانا کے دھرنے سے دیگر سیاسی جماعتوں نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا ؟ کیا مولانا بغیر کسی فائدے کے اپنی جگہ پر رک گئے ہیں ؟ یہ وہ سب سوال ہیں جو ایک عام آدمی کی زبان پر ہیں اور عوام جاننا چاہتے ہیں کہ آخر ہمیشہ کی طرح اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ انکے اعتماد کو کس دام پر فروخت کر رہے ہیں ؟ حکومت کی جانب سے میاں نواز شریف کی بیرون ملک روانگی پر شرط عائد کر کے حکومت کی جانب سے آخری پتہ کھیلا گیا ہے کیونکہ اسکے بعد اونٹ کی کروٹ کا اندازہ ہو جائے گا۔رہی بات ن لیگ میں میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے الگ الگ بیانیے کی تو یہ بات بہت پہلے ہی عیاں ہو چکی ہے کہ شہباز شریف مفاہمت جبکہ نواز شریف ٹکراو¿ کی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔چوہدری نثار کی ناراضگی سے عیاں ہونے والا میاں نواز اور میاں شہباز شریف کے بیانیے میں موجود تضاد گزشتہ الیکشنز میں ناکامی اور احتساب کے کڑے عمل کے باعث مزید واضح ہوا اور شہباز شریف اپنے بیانیے کو درست ثابت کرنے میں بھی کامیاب نظرآئے ہیں۔ شہباز شریف خاندان میں یہ تاثر دینے میں کامیاب ہو گئے کہ میاں نواز شریف کی پالیسیوں سے پارٹی اور خاندان کو ذاتی اور سیاسی بنیادوں پر نقصان پہنچ رہا ہے۔ اب تو یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ پانامہ میں سزا کے بعد سے میاں نواز شریف اور مریم نواز کی خاموشی اسی لیے تھی کہ خاندانی جرگے میں شہباز شریف کے بیانیے کو آزمانے کا فیصلہ ہوا تھا۔ اب جب شہباز شریف اپنے بیانیے کی بنیاد پر گیم کے آخری لیول پر پہنچیے ہیں تو مخالفین انکی سیاست ختم کرنے کے لئے آخری پتہ تک پھینکنے کو تیارہیں اور انکے اپنے بھی انھیں شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ افواہیں تو یہی ہیں کہ شہباز شریف صرف اپنی سیاست بچائیں گے چاہے انھیں اپنے بھائی اور بھتیجی کا پتہ سیاست کے افق سے صاف ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ میاں نواز شریف پر کرپشن کے الزامات ایک طرف مگر ناقدین کے ساتھ ساتھ ن لیگ میں میاں نواز شریف کے قریبی رہنما بھی یہی چاہتے ہیں کہ میاں نواز شریف میدان چھوڑ کر نہ بھاگیں کیونکہ انکا بھاگنا جمہوریت کے لئے انکی جماعت کی جانب سے دی گئی قربانیوں پر پانی پھیر دے گا۔ اب پیپلز پارٹی کے حمایتی یہ کہیں گے کہ قربانیاں تو ہمیشہ پیپلز پارٹی نے دی ہیں، ن لیگ کی کونسی قربانیاں ؟ تو انکے لئے عرض ہے کہ اقتدار چھوڑنا چھوٹی قربانی نہیں ہوتی۔اور پھر میاں نواز شریف نے بیٹی کے ساتھ سزا بھی کاٹی ہے ، میاں نواز شریف کے بیٹے ان سے شدید بیماری کے باوجود ملنے نہیں آ سکے ، کیا یہ چھوٹی قربانیاں ہیں۔ اور تو اور میاں نواز شریف بس پنجاب کے بھٹو بننے ہی والے تھے مگر قدرت نے انھیں بیمار کر دیا، شہباز شریف کو موقع مل گیا اور انھوں نے مفاہمت کا بیانیہ اپناتے ہوئے گیم ہی چینج کر دی۔


ای پیپر