سوری ... شفقت چیمہ صاحب... ویری سوری
13 نومبر 2019 2019-11-13

”بہت ادب سے کھڑے ہو جائیں ....“

”اب آپ کا قومی ترانہ بجایا جائے گا اس قومی ترانہ کے احترام میں کھڑے ہونا آپ کی پاکستان سے محبت کی علامت ہے ....“

آپ سینما ہال میں جائیں تو یہ فرض بھی محبت سے ادا کرنا ہوتا ہے۔ لیکن ہم تو یہ کام اب دن میں کئی بار کرتے ہیں کیونکہ بھاٹی لوہاری کے ملک عتیق پہلوان سے بات کرنے سے پہلے ہمیں پاکستان کا قومی ترانہ سننا پڑتا ہے۔ موصوف نے بطور ٹون قومی ترانہ لگا رکھا ہے ....؟!

”ابھی نندن“ کو کیا معلوم کہ ہم پاکستانی اپنے وطن سے کس قدر محبت کرتے ہیں ....!!“ یہاں میری مراد پاکستان کے اندر رہنے والے مکروہ چہروں والے ”ابھی نندن“ بھی ہیں۔ آپ سمجھ گئے ہونگے ....؟؟ یہ ملک عتیق پہلوان بہت عرصہ لالہ جی عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی کے ساتھ رہے .... 4، اپریل ویسے بھی اداسی والا دن تھا کیونکہ ہمیں شہید بھٹو سے محبت ہو یا نہ ہو ہمیں اُن سے عقیدت تو بہرحال ہے اور ہم اُن کی عوامی قیادت کے معترف ہیں اور اِسی بات پر اداس اور شرمندہ بھی کہ اِس عظیم سچے عوامی رہنماءکو ضائع کر دیا گیا کس کے حکم پر، کس کس نے ظلم ڈھائے اور کس کس انداز میں ظلم ڈھائے۔ یہ ہم تاریخ میں بارہا پڑھ چکے ہیں ....!

اُسی اداسی والی شام فیس بُک پر اِک خبر آئی جس نے ہلا کر رکھ دیا اور اِس سے پہلے کہ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی .... تردید بھی آ گئی .... ہمارے ہاں ادارے اِس فیس بُک اور دوسرے سوشل میڈیا پر ”اَن پڑھ“ دانشوروں کی کھیپ پر کنٹرول نہیں کر پائے .... اِن ”ان پڑھ“ دانشوروں کی کمینگی سے ہماری مسلح افواج، ہمارے وہ راہنما جن سے عقیدت و محبت کی جانی ضروری ہے .... بھی محفوظ نہیں؟؟ حالانکہ یہ ”اَن پڑھ“ دانشور تعداد میں کچھ زیادہ نہیں لیکن وہ منٹوں میں عوامی رائے پر اثر انداز ہونے لگے ہیں .... اِن میں سے اکثر .... بوقت ضرورت میٹرک کی سند بھی پیش نہیں کر سکیں گے ....؟؟ لیکن مسنّدِ عشق پر وہ علامہ اقبال کے پہلو میں بیٹھنے کے خواہشمند ہیں بات ملک کی اکانومی کی ہو یا علامہ مشرقی سرتاج عزیز‘ اسحاق ڈار، اسد عمر کو طفل مکتب سمجھتے ہیں (یہ عجب زمانہ بھی ہمیں دیکھنا تھا؟) غصے میں بھول گیا کہ ایک ڈیڑھ گھنٹہ تو فیس بُک پر لالہ جی عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی کی ”وفات“ کو یقینی بنانے کی کوشش ہوتی رہی حالانکہ وہ اس وقت تقریباََ تندرستی کی حالت میں اپنے گھر میں بیٹھے راگ جے جے ونتی چھیڑ چکے تھے اور اپنے ماضی میں جھانکتے ہوئے ....!(ایسے ہی حال ہی میں اِسی فیس بک پر ایسے ہی نا اہل دانشوروں نے ہمارے پیارے چوہدری شجاعت حسین کے بارے میں بھی اُس کی صحت کے حوالے سے خبریں لگا ڈالیں ... اللہ پاک چوہدری شجاعت کو صحت تندرستی عطاءفرمائے۔)

” قمیض تیری کالی“

” کدی پالئی کدی لالئی“

کا تنقیدی جائزہ بھی لے رہے تھے۔ ملک عتیق پہلوان نے بھی فیس بُک پر .... لالہ جی کے ساتھ اپنے گھر کے ڈرائنگ روم میں اتری تازہ تصویر والی پوسٹ لگا دی اور یوں لاکھوں لوگوں کی بے چینی ختم ہوئی .... ویسے ہم نے بھی جھٹ محبت میں یہ شعر اُگل دیا ....

تیرے اشعار تیرے گیت ہوا میں باقی

تو رہے گا میرے فنکار دعا میں باقی

ہمارے پیارے افتخار مجاز پچھلے دنوں اللہ کو پیارے ہو گئے .... شہباز انور خان بتا رہے تھے وفات سے کچھ دن پہلے مجاز نے نعتیہ اشعار لکھے اور بہت خوش تھے .... افتخار مجاز، طارق ضیائ، شہباز انور خان اور میں جب بھی ملتے خوب شرارت بازی ہوتی ان کے پاکستان ٹیلی ویژن پر گزرے ماہ و سال بڑے عالیشان تھے اور ان باتوں ان یادوں سے وہ ہمیں ہر دم محظوظ کرتے .... بر وقت شعر کہنا .... یہ ان کا خاص ہنر تھا .... بڑے شعراءکا بہت سا کلام افتخار مجاز کو ازبر تھا .... میں نے کہا آپ کا میں اپنے کالموں میں اکثر ذکر کر دیتا ہوں برا تو نہیں لگتا .... ہنس کے کہتے ....؟!

”حافظ مظفر محسن کی مزاحیہ تحریر میں افتخار مجاز حافظ کے قلم کی زد میں آ جائے یہ فخر کی بات ہے ....؟“

ہم نے اِک دوست اخبار کے فوٹو گرافر کو افتخار مجاز کے جنازے پر یہ کہہ کر فوٹو اتارنے سے منع کر دیا .... کے بقول شہباز انور خان .... ”اپنے یار کے بغیر فوٹو .... پھیکی سی لگے گی“ ....

یہ شعر مجھے اک صبح بھیجا تو میں نے سرخی جمائی اور کالم لکھ ڈالا .... صبح سویرے فون آ گیا .... میں نے دعا سلام سے پہلے ہی کہہ دیا ....؟!

”حضور لگتا ہے میرا کالم پڑھ لیا ہے؟؟“

پڑہ بھی لیا .... اور مزہ بھی لے لیا .... ہنستے ہوئے بولے ....!

وہ شعر ملاحضہ کریں ....

دوستوں سے بچھڑ کر یہ حقیقت کھلی فراز

گرچہ ڈرامے باز تھے مگر رونق انہی سے تھی

اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے .... آمین

بات شروع ہوئی تھی کچھ فیس بک کے نا نہار دانشوروں کے ذکر سے ... جن کی منفی سرگرمیاں بڑھتی چلی جا رہی ہیں ۔ہمارے پیارے چوہدری شجاعت حسین سیاست میں ایک نہایت معتبر شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔ اُن کے بارے میں غیر مصدقہ خبریں پڑھ کر دل دُکھا۔

اِک بات آپ کے ساتھ Share کرناتھی...

آجکل اِک نہایت خوبصورت کتاب ” لے باباابابیل“ کا مطالعہ کر رہا ہوں ... یہ بابا یحییَ خان کی تیسری صخیم کتاب ہے.. لیکن کچھ تبصرہ کرنے سے عاری ہوں کیونکہ کتاب کے آغاز میں کالے رنگ میں سفید موٹا موٹا لکھا ہوا ہے کہ ” اِس کتاب کا کوئی بھی حصّہ بغیر پبلی شر یا بغیراجازت مصنف کے کہیں بھی استعمال ہوا تو قانون حرکت میں آجائے گا؟؟“

ہم ویسے ہی قانون سے ڈرتے ہیں دن میں دو تین چنگچی والے ہمیں ایضاءپہنچا کے بھاگ جاتے ہیں اور ہم قانون کے ڈر سے اُنہیں دل میں ہی بُرا بھلا کہہ کر چپ کر جاتے ہیں ۔

کہنا یہ تھا یا کہہ لیں گلہ کرنا تھا کہ علم کو قید نہ کیا جائے کہ علم تو پھیلانے کا حکم ہے ۔ اور پھر جب ہم کتابوں سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں کتابوں پر اتنے سخت الفاظ..

” چے معنی دارد“؟

بات شروع ہوئی تھی ... فیس بک کے دانشوروں کی الٹی سیدھی حرکات سے .... یہ گفتگو دوبارہ اِس لیئے شروع کرنا پڑی کہ دودن پہلے فیس بک پر کچھ تصویر یںلگیں اور افسوس کے ساتھ یہ خبریں بھی شائع ہوئیں ....کہ

” معروف ادا کار شفقت چیمہ صاحب کے دو بیٹے ٹریفک کے حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں“... ایسی پوسٹ پر عوامی ردِعمل نیچرل بات تھی ... ہم بھی غم زدہ ہوگئے ... لیکن اس وقت دکھ ہوا ۔دل پھٹ کے رھ گیا ... جب محترم شفقت چیمہ صاحب نے ایک Clip فیس بک پر لوڈ کیا اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بولے ... ” ظالموں میرا صرف ایک ہی بیٹا ہے میری کُل کائنات وہ زندہ ہے میرے ساتھ ہے اللہ پاک کسی باپ کو ایسا خوف ناک دن نہ دکھائے !“


ای پیپر