13 نومبر 2019 2019-11-13

آج کے جدید دور میں دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک معذور افراد کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے قوانین بنا کر ان پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔بصارت سے محروم افراد کے لئے کام کرنے والے ممالک میں سپین سر فہرست ہے۔سپین کے بارے میں یہ مقولہ مشہور ہے کہ اگر آپ بینائی کھو رہے ہیں تو آپ کو سپینش ہونا چاہیئے یا اگر کسی نابینا نے دنیا میں آنا ہے تو وہ سپین میں پیدا ہو۔ کیونکہ دنیا میں سپین کو بصارت سے محروم افراد کی جنت سمجھاجاتا ہے۔ اس کا کریڈٹ سپین کے ڈکٹیٹر فوجی حکمران فرانسسکو فرانکو اور اس کے قریبی ساتھی سیرانو سنر کو جاتا ہے۔جنھوں نے سپین میں خانہ جنگی کے دوران 13 دسمبر 1938 کو نابینا افراد کو خدمات فراہم کرنے کے لئے ایک قومی ادارے کی بنیاد رکھی۔ سپینش زبان میں اس کا نام Organización Nacional de Ciegos Españoles یعنی (نیشنل آرگنائزیشن فار سپینش بلائنڈ پیپل) رکھا گیا۔ تاہم آج دنیا بھر میں اسکی شہرت "ONCE" کے نام سے ہے اورانگریزی زبان میں اسے "اون سے" کہا جاتا ہے۔ سپین میں 1936سے 1939 تک خانہ جنگی جاری رہی جس میں بڑی تباہی ہوئی اور کوئی نہیں جانتا کہ کتنے افراد نابینا ہوئے۔ ڈکٹیٹر فرانکو نے نابینا افراد کی مشکلات ختم کرنے کے لئے اس ادارے کو قومی لاٹری بنانے کی اجازت دے دی اور اس انعامی لاٹری کا پہلا ڈرا آٹھ مئی 1939 میں نکالا گیا۔ اس انعامی لاٹری کا سلسلہ آج تک جاری ہے اور بے حد ترقی کر چکا ہے۔ فرانکو کی وفات کے بعد جب سپین میں جمہوریت بحال ہوئی تو "اون سے" سپین کا سب سے کامیاب کاروباری اور دنیابھر میں معذوروں کی امداد کے سب سے بڑا ادارے کے طور سامنے آیا۔ آج اگرآپ کا سپین میں جانے کا اتفاق ہوتو آپ کو ہر جگہ سفید چھڑی پکڑے گہرے شیشوںوالی عینک پہنے نابینا افراد ہر جگہ گھومتے پھرتے نظر آئیں گے جس کی ایک ہی وجہ ہے کہ یہاں نابینا بہت اچھے طریقے سے رہتے ہیں اور یہ سب "اون سے"کے ملازمین ہیں۔ نابیناو¿ں کے لئے فنڈز اکٹھا کرنے کے لئے شروع ہونے والی لاٹری کا ٹکٹ پیر سے جمعے تک فروخت ہوتا ہے۔ جس پر پانچ یورو یعنی ڈیڑھ پاو¿نڈ سے گیارہ ملین یورو یعنی 35 ہزار پاو¿نڈ کا انعام رکھا گیا ہے۔ اس لاٹری کا کم ازکم انعام ڈیڑھ پاو¿نڈ ہے جو سب سے چھوٹی ٹکٹ کی قیمت ہے۔

اسی طرح جمعے کے روز بڑا انعام نکالا جاتا ہے جس کی ٹکٹ تین پاو¿نڈ اورانعام 90 لاکھ پاو¿نڈ ہے۔اگر ایک یا دو پاو¿نڈ مزید خرچ کریں تو انعامی رقم بالترتیب ایک کروڑ بیس لاکھ پاو¿نڈ اور ایک کروڑ پچاس لاکھ پاو¿نڈ بن جاتی ہے۔ لاٹری کے ٹکٹس کی فروخت کے لئے سپین میں ہر شاہراہ، ایئرپورٹس،شاپنگ مالز میں کاو¿نٹرز قائم ہیں جن پر جلی حروف میں "اون سے" لکھا نظرآتا ہے۔ ان تمام کاو¿نٹرز میں مجموعی طور پر 20 ہزار نابینا افراد کام کرتے ہیں جو کہ ادارے کے قیام کا بنیادی مقصد ہے۔ آج "اون سے" کے کل سٹاف کی تعداد 1,36000 ہے جس میں 88،5 فیصد معذور ہیں اور نابینا ملازمین کی تعداد 60 ہزار ہے۔ یوں آج پوری دنیا میں معذور افراد کو روزگار فراہم کرنے میں "اون سے" کا مقابل کوئی نہیں ہے۔ امریکہ سمیت تمام ملکوں میں اندھے پن کا رشتہ بھیک مانگنے سے جڑا ہوا ہے اور نابینا افراد کو روزگارکے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔امریکہ میں نابیناو¿ں کے لئے بےروزگاری کی شرح 70 فیصد ہے, جرمنی میں 41 ہزار نابینا ہیں اور 7000 کے پاس روزگار ہے جبکہ سپین میں نابینا افراد کے لئے بےروزگاری کی شرح صفر ہے۔ اسی لاٹری کی مدد سے "اون سے" ایک بزنس ایمپائر کھڑی کر چکا ہے اور ہوٹلز سے لے کرتعمیرات تک ہر شعبے میں کام کر رہا ہے۔ اپنے قیام کے 43ویں سال 1982 میں"اون سے" نے منافع سے بڑا گائیڈ ڈاگ سکول، نابیناو¿ں کے لئے چھڑیاں اور بریلی سیٹ بنانے والی فیکٹری، بولنے سے چلنے والا کمپیوٹر اور سماجی بحالی کے مراکز بھی بنائے۔ اسی طرح یہ ادارہ مائیکروسافٹ اور نابیناو¿ں کے لئے دیگر تکنیکی ایجادات پر بھی کام کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ادارے نے نابینا افراد کے لئے سپین میں Touch & Feel میوزیم بھی قائم کیا۔ اب یہ ادارہ 19 ممالک میں کام کر رہا ہے اور اس نے اپنا دائرہ کار دیگر معذوریوں میں مبتلا افراد تک بڑھا دیا ہے۔ "اون سے" کے پاس کوئی حکومتی سبسڈی نہیں اور یہ ایک خودمختار بورڈ کے ذریعے کام کرتا ہے جسے ممبران ہرچار سال بعد منتخب کرتے ہیں جو سب کے سب نابینا ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سپین میں نابینا افراد کیلئے 1938 میں کام شروع کیا گیا۔ جبکہ اس سے نو سال قبل 1930 میں فرانس کے شہر پیرس میں بصارت سے محروم افراد کودرپیش مشکلات کا احساس کرتے ہوئے"سفید چھڑی" کا دن منایا جا چکا تھا جوآج نابینا افراد کی نمایاں پہچان بن چکی ہے۔ پیرس میں 15 اکتوبر 1930 کوعام لاٹھیوں کو سفید رنگ دے کر اس دن کو متعارف کروایا گیا، اور پندرہ اکتوبر 1965 سے اس دن کو باضابطہ طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر میں شامل کیا گیا تاکہ نابینا افراد کو درپیش مسائل اور مشکلات سے معاشرے کو آگاہ کرتے ہوئے یہ باور کرایا جائے کہ معذور افراد بھی تھوڑی سی توجہ کے ساتھ ایک ذمہ دار شہری ثابت ہوسکتے ہیں۔ پاکستان میں یہ دن پہلی بار پندرہ اکتوبر 1972 کو منایا گیا، مگر حکومتی عدم توجہی کے باعث یہ دن صرف منانے کی حد تک ہی محدود رہ گیا۔ پاکستان میں معذور افراد کی تعداد کے حوالے سے صوبہ پنجاب سرِ فہرست ہے جہاں 20 لاکھ سے زائد افراد معذوری جیسی آزمائش میں مبتلا ہیں۔ ان لوگوں میں سے% 8.48 نابینا،% 8.17 گونگے بہرے،20.83% لنگڑاہٹ، 7.87% پاگل پن اور 39.84% کسی اور معذوری کا شکار ہیں۔8.7% افراد ایسے ہیں جنہیں ایک سے زائد معذوری کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان اس بات کا پابند ہے کہ اپنے معذور شہریوں کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے، لیکن اس کے باوجود ملک میں معذور افراد کی فلاح وبہبود کے لیے قومی بحالی و روزگار برائے معذوران ایکٹ 1981 کے علاوہ کوئی جامع قانون موجود نہیں۔ اس ایکٹ کے تحت معذور افراد کا تمام نجی وسرکاری اداروں میں ملازمتوں کا تین فیصد کوٹہ، علاج کی مفت سہولتیں، اوراعضاءکی بحالی کے اقدامات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ معذور افراد کے بچوں کی سرکاری اداروں میں 75 فیصد جب کہ نجی اداروں میں 50 فیصد فیس معافی اور روزگار کی فراہمی کو لازم قرار دیا گیا۔ مگر بد قسمتی سے ہمارے ملک میں نہ تو اس ایکٹ پر عمل درآمد ہو سکا اور نہ ہی کوئی نیا قانون بن سکا۔ حکومت کی کسی امداد کے بغیر اعلی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود روزگارکے مواقع نہ ہونے کے باعث ہمارے ملک میں یہ خصوصی افراد سڑکوں پر احتجاج کرتے اور پولیس سے مار کھاتے نظر آتے ہیں۔ معذوروں کے ساتھ ایسے سلوک کی دنیا کے کسی بھی ملک میں دیکھنے کو مثال نہیں ملتی۔ لگتا ہے ریاست مدینہ کا دعویٰ کرنے والے حکمرانوں کو بھی آنکھوں کے علاج کی ضرورت ہے تاکہ انھیں یہ بصارت سے محروم افراد نظر آ سکیں جن کا احتجاج پہلی دفعہ آٹھویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔ ریاست کو اب اس بارے سنجیدگی سے عملی اقدامات کرنے چاہئیں کیونکہ ہمارے یہاں سپین اور دیگر عالمی دنیا کی طرز پر اس طبقے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے ورنہ دنیاکو اسے معذور افراد کی جہنم سمجھنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

یہ اندھوں کا شہر ہے بھائی اندھوں کا

وقت لگے گا آنکھیں ڈھونڈ کے لانے میں


ای پیپر