13 نومبر 2019 2019-11-13

کیا شریف خاندان اس بارے کسی ابہام کا شکار ہے کہ اس کے مخالفین کس شدت کے ساتھ اس سے نفرت کرتے ہیں، اگر اس بارے کوئی شک و شبہ تھا تو وہ بیگم کلثوم نواز کی علالت اور وفات کے موقعے پر ختم ہو جانا چاہئے تھا کہ انہیں مر کر ہی یقین دلانا پڑا کہ وہ واقعی بیمار ہیں۔ مجھے کہنے میں کوئی عار نہیں کہ حکمران جماعت نہ دائیں بازو کی جماعت ہے اور نہ ہی بائیں بازو کی، اس کا ایک ہی سیاسی نظریہ ہے اور وہ نواز شریف سے نفرت ہے۔میرا مشاہدہ ہے کہ اس پارٹی کا ووٹر اپنے لیڈر سے زیادہ نواز شریف اور اس کے خاندان سے نفرت کرتا ہے جس کا اندازہ سوشل میڈیا کے ٹرینڈز ، کمنٹس اور رپلائیز سے ہوسکتا ہے۔عین ممکن ہے کہ نواز شریف کی حالت واقعی اتنی خراب ہو کہ ان کا علاج پاکستان میں ممکن نہ رہا ہو اور شریف فیملی کے پاس اپنے مخالفین سے بیرون ملک جانے کی بھیک مانگنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ ہی نہ بچا ہوورنہ ہم میاں نواز شریف کا یہی موقف سنتے آ رہے تھے کہ وہ جانے کے لئے تیار نہیں اور یہ سوال بھی رپورٹ ہوا کہ کیا موت کا فرشتہ لندن میں نہیں آتا؟

میں جس وقت یہ الفاظ لکھ رہا ہوں حکمران نواز شریف کو علاج کے لئے بیرون ملک بھیجنے کی اجازت دینے پرسخت مشکل کا شکار ہیں، وہ نواز شریف کو مرتا ہوا تو دیکھ سکتے ہیں مگر اس سے انصاف اور رحم والا معاملہ نہیں کر سکتے۔ عدالت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نہ صرف نواز شریف کی زیر سماعت مقدمے میں ضمانت منظور کر چکی ہے بلکہ العزیزیہ کیس میں سزا بھی آٹھ ہفتوں کے لئے معطل کرچکی ہے۔ نفرت کرنے والوں میں صحافیوں کا ایک گروہ بھی شامل ہے جن میں سے دو ، تین بار بار الزام عائد کر رہے ہیں کہ سابق وزیراعظم کو بیرون ملک علاج کی اجازت ڈالروں میںا یک بھاری رقم کی ادائیگی کے بدلے ملی ہے۔ اس سلسلے میں ایک صحافی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے خزانے میں اچانک 443 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا ہے جو کوئی خدا کابندہ چپکے سے جمع کروا گیا ہے ۔ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ شریف فیملی کی طرف سے پہلی قسط ہے جبکہ دوسری قسط اگلے ہفتے موصول ہو گی جبکہ دوسرے کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے بارہ سے چودہ ارب ڈالرز جمع کروائے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ ان اطلاعات پرتالیاں بجائی جا رہی ہیں اور جناب عمران خان کو رقم برآمد کروانے پر خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے حالانکہ وہ بار بار کہہ رہے ہیں کہ وہ کسی کو این آر او نہیں دیں گے۔

کیا نواز شریف نے رقم ادا کر کے علاج کے لئے رہائی حاصل کی ہے تو پہلا سوال یہ ہے کہ پھر اس پر نواز شریف کے مخالف وزرا پریس کانفرنس کر کے رسیدیں کیوں نہیں لہرارہے اور دیگر ذمے دار اس پر ٹوئیٹ کیوں نہیں کر رہے ۔ میں وزراءوغیرہ بارے زیادہ بات نہیں کرنا چاہتا کہ وہ اپنا موقف عدالت میں پیش کریں گے تو زیادہ بہتر رہے گاکیونکہ ایسے بیانات سے تاثر مل رہا ہے کہ جیسے عدالت سے ضمانت اور سزا معطلی بھی ڈیل کا ہی حصہ ہوا ور اس بارے عدالت ہی ان سے پوچھ سکتی ہے۔ دوسرا سوال ہے کہ نواز شریف نے یہ ادائیگی کس مد میں کی ہے کیونکہ ابھی تک نیب سمیت کوئی بھی سرکاری ادارہ نواز شریف اور وزراءپر کسی سرکاری ٹھیکے میں کرپشن اور کمیشن کا کوئی الزام ثابت نہیں کر سکا، اس وقت تک جتنی بھی بات ہو رہی ہے وہ شریف خاندان کے کاروبار پر ہو رہی ہے۔ تیسرا سوال ہے کہ اگر نواز شریف نے کسی پراجیکٹ میں کوئی کمیشن نہیں لی تو کیا وہ غیر ملکی قرضے ہڑپ ہوئے جو ہمارے پروپیگنڈوں کا حصہ ہوا کرتے تھے تو اس کا جواب بھی سامنے آ چکا ہے کہ سابق ادوار میں لئے گئے قرضوں کو کوئی رہنما اپنے گھر یا اکاو¿نٹ میں نہیں لے کر گیا اور یہ بات خود موجودہ حکومت کی قائم کردہ کمیٹی نے قرار دی ہے۔ چوتھا سوال ہے کہ کیا نواز شریف نے العزیزیہ کیس کی سزا میں اڑھائی کروڑ ڈالر جرمانہ ادا کیا ہے تو یہاں دوضمنی سوال ہیں، پہلا یہ کہ رقم کے بدلے ڈیل کا الزام لگانے والے کیا جرمانے کی ادائیگی کا ذکر کر رہے ہیں تو میرے خیال میں ایسا نہیں کیونکہ بات ساڑھے چار سو ملین ڈالر کی ہے یا بارہ سے چودہ ارب ڈالر کی ہے اور سوال یہ بھی ہے کہ کیا اس سزا کے خلاف اپیل نہیں کی جا چکی؟

پانچواں سوال یہ ہے کہ اگر اتنی بڑی رقم ادا کی گئی ہے تو پھر ایک نیا سوال اور ایک نیا ریفرنس بنتا ہے کہ یہ رقم شریف خاندان کے پاس کہاں سے آئی، کیا وہ کسی ملکی اکاو¿نٹ میں موجود تھی یا بیرون ملک سے منگوائی گئی اور اگر منگوائی گئی تو اس کا طریقہ کار کیا تھا۔ چھٹا سوال ہے کہ کیا کسی سرکاری بینک نے بغیر کسی نام اورجواز کے اتنی بڑی رقم جمع کر لی کہ آپ اس وقت سرکاری تو ایک طرف رہے کسی کمرشل بنک میںدو، چار ملین روپے ہی جمع کروانے چلے جائیں تو وہ اس وقت تک اماو¿نٹ پوسٹ نہیں کرتے جب تک رقم کی ملکیت اور وصولی کا جائز اور قانونی جواز نہ پیش کر دیا جائے۔ ساتواں سوال ہے کہ کیا نواز شریف اربوں ڈالر کی قیمت صرف اپنے علاج کی چکا رہے ہیں یا اس کے ذریعے وہ مکمل رہائی حاصل کر رہے ہیں۔ یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ صرف بیرون ملک کچھ دنوں یا ہفتوں کے علاج کی خاطر وہ اتنی بڑی رقم ادا کریں یقینی طور پر وہ اس سے رہائی حاصل کر رہے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ اس رہائی کی قانونی ، سیاسی اور اخلاقی صورت کیا ہو گی۔ آٹھواں سوال ہے کہ نواز شریف ایک سیاستدان ہیں جن کی اولاد کا سیاسی مستقبل پاکستان میں روشن ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ آج بھی فری اینڈ فئیر انتخابات ہوجائیں تو ان کی پارٹی کو سب سے زیادہ ووٹ ملیں گے تو کیا وہ اپنا اور اپنی اولاد کا مستقبل بھی ساتھ ہی بیچ رہے ہیں، کیا تین مرتبہ کے وزیراعظم کو اتنا بے وقوف سمجھا جاسکتا ہے۔ نواں سوال ان صحافیوںسے خود ان کے تعریف کئے گئے وزیراعظم کے بارے میں ہے کہ وہ بار بار کہتے رہے کہ وہ کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑیں گے تو کیا اب انہوں نے کرپٹوں کو چھوڑنے کاکام شروع کر لیا ہے، عمران خان نواز شریف کی کوٹھڑی سے ٹی وی اور اے سی تک اتارنا چاہتے تھے مگر کیا وہ این آر او نہ دینے کے بیان پر بھی یوٹرن لے رہے ہیں؟

دسواں سوال یہ ہے کہ اگر ہمیں اپنے ہی سیاستدانوں کو رہائی دے کر اربوں ڈالر مل سکتے ہیں تو پھر ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانے اور چھ ارب ڈالر کے لئے اپنے تمام ترادارے گروی رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ ہڑتال کے دوران وزارت خزانہ اور دیگر اداروں میں مذاکرات کرنے والے اہم ترین تاجر رہنما نعیم میر نے مجھے بتایا کہ انہوں نے مالی امور سے متعلق ہر سرکاری ادارے میں آئی ایم ایف کے لوگوں کے قائم ہوئے دفاتر دیکھے ہیں اور اب کوئی سرکلر اس وقت تک جاری نہیں ہوتا جب تک آئی ایم ایف کے اہلکار اسے دیکھ نہیں لیتے اور اسے اوکے نہیں کر دیتے۔ اگر یہ سرکار کے ساتھی صحافی اتنے ہی سچے ہیں تو اپنی پیاری سرکار کو مشورہ کیوں نہیں دیتے کہ وہ ریاست کو آئی ایم ایف کے شکنجے سے نکالے ،اس کے ملازموں کو اپنے سر پر نہ بٹھائے بلکہ آصف علی زرداری صاحب کو بھی مناسب قیمت پر کراچی میں ہی علاج کی سہولت دے دے کہ جب یہ دھندا شروع ہی کر لیا گیا ہے تو پھر شرم کیسی؟

مجھے پھر کہنا ہے کہ نواز شریف کا بغض ایک سنگین مرض ہے۔ قومی معیشت کی زبوںحالی اور حکومتی نااہلی دیکھ کر کچھ کے مرض کی شدت میں کمی ہورہی ہے، ان کی آنکھیں کھل رہی ہیں مگر کچھ مریض ایسے ہیں کہ ان کا مرض مزید بڑھ رہا ہے، وہ جنونی ہوتے جا رہے ہیں، خود انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ کس کی پتلون اتارنے کے چکر میں کس کی اتار رہے ہیں۔ یہ اپنے کچھ ناپسندیدہ سیاستدانوں کا منہ کالا کرنا چاہتے ہیں مگر و ہ کالک صحافت کے منہ پر مل رہے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ حقیقی صحافی نہیں بلکہ اس شعبے کے عطائی ہیں، صحافت میں پیراشوٹس کے ذریعے اتارے گئے ہیں۔


ای پیپر