13 نومبر 2019 2019-11-13

پاکستان آج کل پھر اسی طرح کے حالات کا شکار ہے جو ماضی میں بھی بار بار دیکھنے میں آتے رہے۔ صورت حال موسموں جیسی ہو گئی ہے ۔ جیسے سردی، بہار، گرمی، خزاں۔ ایسے ہی ہمارے ہاں مارشل لاءآتے ہیں۔ پھر جمہوریت کا سورج طلوع ہوتا ہے ۔ پھر آپس کی لڑائیوں کا آغاز ہوتا ہے ۔ پھر یا تو جمہوریت رخصت ہو جاتی ہے یا اتنی کمزور ہو جاتی ہے کہ اس کا اقتدار ، اختیار سے خالی ہو جاتا ہے ۔

1999 ءسے 2008 ءتک جاری رہنے والی فوجی حکمرانی بظاہر رخصت ہو گئی۔ 2008 ءکے انتخابات کے بعد شروع ہونے والا جمہوری سفر، کم از کم کاغذی طور پر جاری ہے۔ لیکن حقیقت میں جمہوریت کے سارے تقاضے پامال ہو رہے ہیں۔ اپوزیشن کا تو نام ہی اپوزیشن ہے۔ اِسے حزب اختلاف کہتے ہیں۔ اس کا کام ہے حکومت وقت کی مخالفت کرنا، اس پر تنقید کرنا، اور اس کی کارکردگی کو ناقص ثابت کرنا۔ یہ حکومت ہوتی ہے جسے سب کچھ صبر اور تحمل سے سننا ہوتا ہے۔ جسے بہت کچھ سن کر برداشت سے کام لینا ہوتا ہے ۔ جسے کوشش کرنا ہوتی ہے کہ ماحول ساز گار رہے۔ لیکن یہاںماضی کی یہ روایت آج کچھ زیادہ ہی شدت اور زور و شور کے ساتھ موجود ہے کہ اپوزیشن کو سر نہ اٹھانے دو۔ اس کے رہنماﺅں کو جیلوں میں ڈال دو۔ ان پر کسی نہ کسی طرح کے مقدمات بناﺅ۔ نیب جیسے ادارے کو استعمال کرو۔ اپوزیشن کو دیوار سے لگا دینے کی حکمت عملی کا وہی نتیجہ نکل رہا ہے جو ہمیشہ نکلتا رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمن ، وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ لیے اسلام آباد میں بیٹھے ہیں۔ جہاں ان کے پیروکاروں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ مذاکرات تو ہو رہے ہیں لیکن ابھی تک ان کا کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ صورت حال اسی طرح کی ہے جو 2014 ءمیں عمران خان اور طاہر القادری کے دھرنوں نے پیدا کر دی تھی۔ البتہ سنجیدہ حلقے یہ فرق ضرور محسوس کر رہے ہیں کہ کراچی سے اسلام آباد تک کے طویل سفر میں مولانا کے مارچ کے دوران ایک شیشہ بھی نہیں ٹوٹا۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ٹریفک میں کسی طرح کا خلل نہ پڑے۔انہوں نے کوئی شاہراہ بلاک نہیں کی۔ اور وہ بہت بڑا مجمع رکھنے کے باوجود ریڈ زون اور ڈی چوک کی طرف نہیںبڑھے۔ ان کے کارکن میدان کی صفائی کا بھی خود اہتمام کرتے ہیں۔ اور انہوں نے شہریوں کے لیے کوئی پریشانی پیدا نہیں کی۔ اسلام آباد میں اگر میٹرو بند ہے یا کچھ سڑکیں حکومت نے بلاک کر دی ہیں جن سے عوام کو تکلیف کا سامنا ہے تو یہ انتظامیہ کی اپنی ” حفاظتی تدابیر “ ہیں۔ دھرنے والوں کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں۔ سیاسی مبصرین اور عام شہریوں کے لیے دونوں دھرنوں کا موازنہ ایک دلچسپ مطالعہ ہے۔ 2014 ءکے دھرنے کی قیادت آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ ایک لیڈر کے ہاتھ میں تھی۔ اور اس کے دھرنے میں بالعموم تعلیم یافتہ، لبرل اور وہ لوگ شریک تھے جو خود کو ”روشن خیال“ سمجھتے ہیں۔

حالیہ دھرنے کی قیادت ایک عالم دین کر رہے ہیں۔ جو دینی مدارس کے فارغ التحصیل ہیں۔ دھرنے کے شرکاءمیں بھی بھاری اکثریت دینی مدارس کے جواں سال طلبہ یا ان کے اساتذہ کی ہے ۔ دونوں دھرنوں کا موازنہ کرنے والوں کو حیرت ہوتی ہے کہ تب کیا ہو رہا تھا اور آج کیا ہو رہا ہے ۔ اس موازنے سے دینی مدارس کی تعلیم و تربیت اور جدید تعلیمی اداروں کی تعلیم و تربیت کا تقابل بھی کیا جا سکتا ہے ۔

حکومت کی کارکردگی میرا موضوع نہیں۔ حکومت کے اپنے دعوے ہیں، اپوزیشن کا اپنا موقف ہے اور عوام اپنے اوپر بیتنے والی سے اپنی رائے بنا رہے ہیں۔ ایک بات جو دنیا کے تجربات کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتی ہے، یہ ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت نے کو خود کو ایک ایسے فلسفے کا قیدی بنا لیا جو ان کے نزدیک سو فیصد حقیقت پر مبنی اور موثر تھا۔ لیکن عملی دنیا کے حقائق کو فراموش کر دیا گیا ۔ عمران خان کا خیال یہ تھا کہ اپوزیشن رہنما، خاص طور پر نواز شریف اور آصف علی زرداری خود اور ان کے خاندان کرپشن میں لت پت ہیں۔ جب تحریک انصاف کی حکومت بنے گی اور ساری سراغ رساں مشینری اس کے ہاتھ ہیں ہو گی تو اس کرپشن کی ایک ایک تفصیل ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ سامنے آ جائے گی ۔ لوٹے گئے اربوں روپوں کا سراغ مل جائے گا۔ ان لوگوں کو جیلوں میں ٹھونسا جائے گا ، ان کے خاندان کے افراد کو تنگ کیا جائے گا تو اربوں روپے حکومت کے خزانے میں آ جائیں گے اور ملک کی ساری معاشی مشکلات دور ہو جائیں گی۔ یہ بہت ہی آسان اور سادہ سا فارمولا تھا جسے حکومت نے اپنی پالیسی کا حصہ بنا لیا۔ اس کا سارا زور اسی کام کے لیے وقف ہو کر رہ گیا ۔ مقدمات بنانا آسان تھا۔ بن گے۔ جیلوں میں ڈالنا آسان تھا سو ڈال دیئے گئے۔ لیکن قانون کی عدالت میں یہ ثابت کرنا آسان نہ تھا کہ ان لوگوں نے کرپشن سے دولت کمائی ہے اور ملک کو لوٹا ہے ۔ سوکوئی ثبوت ملنا تھا نہ ملا۔ نواز شریف کو پانامہ نہیں اقامہ کی بنیاد پر نکالا گیا۔ جس مقدمے میں سزا ہوئی اس میں بھی عدالت نے لکھ دیا کہ کسی طرح کی کوئی کرپشن یا بد عنوانی ثابت نہیں ہوئی۔ کچھ ایسا ہی حال زرداری صاحب پر قائم مقدمات کا ہے جو چل تو رہے ہیں لیکن کوئی نتیجہ سامنے نہیں آ رہا۔ بہت زور شور سے کہا جاتا رہا کہ گزشتہ دس سالوں میں لیے گئے قرضے چور حکمرانوں نے ہڑپ کر لیے اور کچھ پتہ نہیں چل رہا پیسہ کہاں گیا۔ وزیر اعظم نے اس ”لوٹ مار “ کا سراغ لگانے کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیشن بھی بنا دیا۔ اب خبر آئی ہے کہ اس کمیشن نے ”چوروں“ کو کلین چٹ دے دی ہے اور کہا ہے کہ لیے گئے قرضوں کا ایک ایک روپیہ حکومتی خزانے میں جمع ہوا ہے۔

پکڑو، مارو کو اپنی سب سے بڑی ترجیح بنا لینے سے کچھ اچھے نتائج بر آمد نہیں ہوئے۔ حکومت نہایت ضروری مسائل پر توجہ نہیں دے سکی اور عوام کی پریشانی میں اضافہ ہوا۔ دوسری طرف اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کے باعث، ملک میں باہمی خیر سگالی کی فضا خراب ہوئی۔ پارلیمنٹ غیر موثر ہو کر رہ گئی۔ قانون سازی کا عمل رک گیا ۔ اپوزیشن جماعتوں کو یکجا ہونے اور حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا جواز مل گیا ۔ ملک میں بے یقینی پھیلی جس کے منفی اثرات اکانومی پر پڑے۔ دیکھتے دیکھتے پورا پاکستان، انتشار اور ہیجان کا شکار ہو گیا ۔

وزیر اعظم پھر بھی اپوزیشن کو کچلنے ، انہیں جیلوں میں ڈالنے اور ان کی سہولتیں چھین لینے کو اپنی حکومت کی کارکردگی بنانے پر اصرار کرتے رہے۔ یہاں تک کہ مولانا فضل الرحمن ، اسلام آباد کی تاریخ کا سب سے بڑا مجمع لے کر آ بیٹھے۔ اب شاید صورت حال کی سنگینی کا احساس ہونے لگا ہے ۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ضمانت پر رہائی اور ان کا نام ای سی ایل سے نکال کر انہیں علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی اجازت دینا اس بدلی ہوئی سوچ کا نتیجہ ہے۔ یہ رعایت مریم بی بی کو بھی ملنی چاہیے۔ اس بدلی ہوئی سوچ کے اثرات باقی سب تک بھی پہنچنے چاہئیں۔ جو کئی کئی مہینوں سے ، بغیر کسی مقدمے یا ریفرنس کے جیلوں میں پڑے ہیں۔ بڑے سے بڑا ہجوم اسلام آباد لے آنا، یا طویل دھرنا دینا، بے شک جمہوری مشق سہی لیکن وزیر اعظم کو اس دباﺅ کے ذریعے اپنے عہدے سے ہٹانا ہرگز درست نہیں۔ اس کی تائید نہ 2014 ءمیں درست تھی نہ اب درست ہے۔ تبدیلی جمہوری طریقے ہی سے ملنی چاہیے۔

اللہ کرے حکومت کو احساس ہو جائے کہ ملک میں کرنے کے اور بہت سے کام ہیں۔ تحریک انصاف نے اپنے منشور میں بے شمار وعدے کر رکھے ہیں۔ اسے ان وعدوں پر ووٹ بھی ملے ہیں۔ خود وزیر اعظم نے نوکریوں اور گھروں کے ساتھ ساتھ زندگی کے ہر شعبے میں تبدیلی لانے جیسے وعدے بار بار دوہرائے ہیں۔ ان وعدوں کی تکمیل حکومت کی پوری توجہ چاہتی ہے۔ اگر اب اپوزیشن کی پکڑ دھکڑ اور جیل بھیجو کے بجائے حکومت پاکستان کے داخلی اور خارجی مسائل پر توجہ دے اور عوام کی زندگی کی مشکلات دور کرنے کی کوشش کرے تو یقینا بہت بڑی مثبت تبدیلی آئے گی اور حکومت کو اپنی معیاد پوری کرنا ممکن ہو جائے گا ۔

مفاہمت اور خیر سگالی پیدا کرنا ہمیشہ سے حکومتوں ہی کا کام رہا ہے۔


ای پیپر