جانے سے پہلے سب معاملات چل کر کے جائوں گا : چیف جسٹس
13 نومبر 2018 (16:22) 2018-11-13

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ جومعاملات اٹھائے ہیں انہیں حل کرکے جاؤں گا ، چاہے مجھے چوبیس گھنٹے کام کرناپڑے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں مارگلہ پہاڑیوں سے درختوں کی کٹائی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ شاہ اللہ دتہ،کنٹونمنٹ بورڈاورسی ڈی اے کی حدودکاتعین کرناہے۔انہوں نے کہا کہ شاہ اللہ دتہ میں ایک نجی مالک کا کہنا تھا ایک سو بارہ کینال زمین میری ہے، سروے رپورٹ کے مطابق اٹہتر کینال زمین تھی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا ایک اورنجی مالک کا بھی اس زمین پردعوی ہے، چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ نجی مالکان سول عدالت میں جائیں۔اس موقع پر نعیم بخاری نے کہا کہ میرا کیس ہے جنگلات کی زمین نجی ملکیت میں دی جائے، چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہم توصرف سی ڈی اے اورکنٹونمنٹ کا تعین چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے محکمہ جنگلات سے پوچھا کوئی زمین نہیں دی گئی، نعیم بخاری نے کہا کہ سی ڈی اے نے نوٹس دیا ہے جنگلات کی زمین پرتعمیرات ہورہی ہیں۔نعیم بخاری نے کہا کہ اگرمحکمہ جنگلات ان سے ملا ہوا ہے توہم کیا کرسکتے ہیں، سپریم کورٹ نے سی ڈی اے کو اپنا جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ میں نے جومقدمات شروع کیے ہیں ان کونمٹا کرہی جاؤں گا ، چاہے دن رات 24گھنٹے بیٹھنا پڑے بیٹھوں گا ،انہوں نے کہا کہ وکلا حضرات بھی سن لیں کوئی ایک کیس بھی چھوڑکرنہیں جاؤں گا ۔بعدازاں سپریم کورٹ نے مارگلہ پہاڑیوں سے درختوں کی کٹائی سے متعلق کیس کی سماعت 17 نومبر تک ملتوی کردی۔


ای پیپر