The domination of the elite and the people in chains
13 May 2021 (11:41) 2021-05-13

فیصل آباد جڑانوالہ کے نواحی علاقے بنڈالہ میں ایک شخص نے گھریلو جھگڑوں سے تنگ آکر اپنے چاروں بچوں کو قریبی نہر میں پھینک دیا۔ میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا، بیوی معاشرے کے رواج کے مطابق ناراض ہوکراپنے میکے چلی گئی اور شوہر نے معاشی اور گھریلو مسائل کے حل کا نتیجہ یہ نکالا کہ اس نے اپنے چار بچوں جن کی عمریں بالترتیب سات، چھ، چار اور ڈیڑھ سال تھیں، انھیں کپڑے لے کر دینے کے بہانے لے جاکر نہر میں پھینک دیا۔ اس تصور ہی سے روح کانپ جاتی ہے کہ ان معصوم بچوں کو عید کے نئے کپڑوں کی خریداری کی جگہ جب نہر میں پھینکا گیا ہوگا تو اُن پرکیا بیتی ہوگی؟۔ ایک طرف غربت اور ذہنی پسماندگی کا یہ حال ہے دوسری جانب اسراف، نمائش اور ذہنی پستی کی ایک صورت یہ ہے کہ ڈسکہ میں فوت ہونے والے 65 سالہ شخص جو کہ مریدین کا حلقہ بھی رکھتا تھا، اُس کی وصیت کے مطابق اس کے جنازے پر مریدین اور عزیز و اقارب نے نوٹ نچھاور کیے۔

ستّر کی دہائی میں ملک کی معیشت پر ۲۲ خاندانوں کی اجارہ داری تھی اور پاکستان منصوبہ بندی کے سابق ڈپٹی چیئرمین اور پی آئی ڈی ای ڈاکٹر نعیم الحق اور امین حسین کی ریسرچ میں بتایا یہ گیا ہے کہ اب ملک کی معیشت اور کاروبار پر 31 خاندانوں کی اجارہ داری ہے۔ چند روز قبل وزیر اعظم پاکستان نے بھی یہ اعتراف کیا ہے کہ ملک پر اشرافیہ کا قبضہ ہے۔ ان کے مطابق اس ساری صورتحال کی ذمہ دار وہ سیاسی جماعتیں ہیں جو گزشتہ تیس سال سے اقتدار میں ہیں ۔ وزیر اعظم نے درست نشاندہی کی ہے لیکن اس ساری صورتحال کا ذمہ داران سیاسی جماعتوںکو قرار دینا جو تیس سال سے اقتدار میں ہے ان کے سیاسی تعصب اور پاکستان کی سیاسی اور معاشی تاریخ سے عدم واقفیت کو  ظاہر کرتا ہے۔ اگر وزیر اعظم کی بات کو سوفیصد درست مان بھی لیا جائے تو ایک سربراہ مملکت جس کے پاس اختیارات ہی اختیارات ہیں اسے کن رکاوٹوں کا سامنا ہے جو ملک کی معیشت اور سیاست پراشرافیہ کے تسلط کے خلاف کارروائی میں حائل ہیں؟۔ یہ سیاسی تعصب اور دشمنی ہی تو ہے کہ پانامہ لیکس میں تقریباً ساڑھے چار سو پاکستانی شہریوں کے نام تھے لیکن ایک نواز شریف کے علاوہ کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی۔ تحریک انصاف کے اقتدار کو تقریباً تین سال ہونے والے ہیں، کیا وزیراعظم یہ بتا سکتے ہیں کہ پانامہ لیکس کے باقی  449 کے خلاف کارروائی کب ہو گی؟۔ اسی طرح آٹا اور چینی کا بحران پیدا کرنے والوں کے خلاف کاروائی بھی جوڑ توڑ اور سیاسی مصلحتوں کی نذر ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ سیاسی تعصب ہی ہے کہ کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا لے کر تحریک انصاف نے جو اقتدار حاصل کیا ہے ، بھان متی کے کنبے کی ایک کثیر تعداد ماضی میں کسی نہ کسی حکومت کا حصہ رہی ہے، ایسے میں وزیر اعظم کے بیان کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ صرف نواز شریف اور زرداری کرپٹ تھے اور جو لوگ ماضی میں اُن کے ساتھ تھے اور آج تحریک انصاف کا حصہ ہیں وہ کسی بھی قسم کی کرپشن میں ملوث نہیں تھے۔ یہ سیاسی تعصب اور مصلحت ہی ہے کہ چودھری برادران کو عمران خان نہ جانے کن کن القابات سے نوازا کرتے تھے آج وہ ہی چودھری برادران ان کی آنکھ کا تارا ہیں۔ چودھری برادرا ن پر یاد آیا کہ کرپشن پر معروف قانون دان ایس ایم ظفر کے کالموں کا ایک مجموعہ ’’پاکستان بنام کرپشن عوام کی عدالت میں‘‘ آج سے تقریباً پچیس سال قبل بیت الحکمہ ( ادارہ ہمدر د)  کے تعاون سے شائع ہوا تھا ۔ اس میں ایک جگہ یہ جملہ موجود ہے کہ ’’ زرداری اچانک امیر ہوجائے تو چور کہلائے۔ چوہدری ظہور الہی کا خاندان ایک ہی نسل کے درمیان آدھے پنجاب پر تسلط کر لے تو اچھا جہاندیدہ تاجر کہلائے۔۔۔ یہ کون سا انصاف ہے؟۔‘‘‘۔ بعد میں جنرل پرویز مشرف کے زیر سایہ بنائی جانے والی مسلم لیگ قائد اعظم جس کے سربراہ چودھری شجاعت حسین تھے، ایس ایم ظفر مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئے اور غالباََ جماعت کا کوئی عہدہ بھی ان کے پاس تھا۔

وزیر اعظم عمران خان نے ملک کی سیاست پر صرف دو خاندانوں کی اجارہ داری ختم کی ہے۔ لیکن ملک کے چینی، تیل و گیس، ادویات، پاور، آٹا، چینی، گھی، جاگیردار اور پراپرٹی مافیا ان کی اپنی صفوں میں موجود ہیں۔ ان مافیا کے خلاف لڑنے کے لیے عمران خان ہوں یا کوئی اور سیاسی لیڈر، ادیب ہو یا دانشور،  جب تک وہ سیاسی تعصب کی عینک نہیں اُتارے گا ، سماج کی طبقاتی ساخت کو نہیں سمجھے گااور عوام کے اکثریتی طبقے کو اپنی حمایت اور طاقت نہیں بنائے گا ممکن ہی نہیں ہے کہ ملک میں سماجی اور معاشی انصاف پر مبنی معاشرہ وجود میں آسکے۔ لاکھ احتساب کے ادارے بنیں، ہزار ہا تحقیقاتی کمیشن بنائے جائیں ممکن ہی نہیں ہے کہ موجودہ صورتحال میں مطلوبہ نتائج دے سکیں۔

اِدھر عوام کا حال یہ ہے کہ وہ زبان، برادری اور فرقے در فرقے کی زنجیروں میں اس قدر جکڑے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے لختِ جگر نہر میںپھینک سکتے ہیں لیکن غلامی اور قید کی زنجیریں توڑنا نہیںچاہتے ہیں۔ وہ اپنے جنازوں پر نوٹ نچھاور تو کر سکتے ہیں لیکن زندوں کے لئے کچھ کرنے کی توفیق سے محروم ہیں۔ہمارے دوست اور معروف ادیب عرفان جاوید جو فکشن اور خاکہ نگاری میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں ، ان کی نئی کتاب ’’عجائب خانہ ‘‘  حال ہی میں شائع ہوئی ہے ۔ اس میں باب ’’زندگی کی گود سے ‘‘ میں ایک پیرا ہے جسے  میں پاکستان کے عوام کی حالت کی عکاسی سمجھتا ہوں۔ لکھتے ہیں’’ ایک مرتبہ ایک شخص ہاتھیوں کے پاس سے گزر رہا تھا۔ وہ یہ دیکھ کر تذبذب کا شکار ہوگیا کہ قوی الجثہ ہاتھیوں کے اگلے پائوں کو چھوٹی رسّی سے باندھ دیا گیا تھا اور وہ اس رسّی کو تو ڑ کر آزاد ہونے کی کوشش بھی نہیں کررہے تھے۔ نہ تو وہ پنجرے میں تھے اور نہ ہی وہاں کوئی زنجیر یں نظر آرہی تھیں۔ اُس نے مہاوت سے پوچھا کہ وہ تمام ہاتھی اپنی چھوٹی چھوٹی رسیاں توڑ کر آزاد ہونے کی کوشش کیوں نہیں کررہے تھے۔ مہاوت نے جواب دیا ’’جب یہ چھوٹے بچے تھے تو ہم انہیں انہی چھوٹی رسیوں سے باندھا کرتے تھے اور یہ رسیاں ان کے لیے کافی تھیں۔ جب یہ بڑے ہوگئے تو ان کا پرانا والا تاثر قائم رہا کہ یہ رسیاں نہیں توڑ سکتے۔ اس لیے یہ ایسی کوئی کوشش ہی نہیں کرتے۔ ’’وہ ہاتھی اپنے تاثر کے غلام تھے‘‘۔


ای پیپر