This zakat has been reserved for Punjab and Pakhtunkhwa where there is a PTI government
13 May 2021 (11:38) 2021-05-13

میرا تعلق اس نسل سے ہے جو عید کا چاند دیکھنے کے لیے گھروں کی چھتوں اور کھلے میدانوں میں غروب آفتاب کا انتظار کرتے تھے اور اپنی اپنی ٹولیوں میں سب سے پہلے چاند دیکھنا بہت بڑا اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ یہ وہی نسل ہے جو عید کی مبارکباد کے لیے دوست و احباب کو عید کارڈ بھیجے جاتے تھے۔ ان کارڈوں پر عید کی مناسبت سے جو شعر لکھے جاتے تھے اس سے لکھنے والے کے ذوق اور مکتوب الیہ سے اس کے تعلق کا اندازہ ہوتا تھا۔ عید کے شعر پورے ادب کا ایک خصوصی باب ہوتا تھا۔ عید کارڈ آپ کے پیاروں کے طبعٔ نازک پر ایک دستک تھی یہ یاد کرانے کے لیے کہ آپ کے ساتھ وابستگی کے کچھ تقاضے ہیں۔

پورے سال کے چھوٹے موٹے لڑائی جھگڑوں پر عید آنے پر صلح ہو جاتی تھی۔ عید سے زیادہ اگر کسی موقع کی اہمیت ہوتی تھی تو وہ چاند رات تھی جب لڑکیاں مہندی کے ڈیزائن بناتیں اور لڑکے نئے کپڑوں اور جوتوں کی تیاری کی فکر میں ہوتے تھے۔ عید کا دن کا پہلا حصہ ماں کی پکائی ہوئی سویوں کو پڑوسیوں کے گھروں میں پہنچانے پر لگ جاتا تھا یہ کوریئر سروس دو طرفہ ہوتی تھی وہ بھی اتنی ہی مستعدی سے ہمارے گھر چیزیں بھیجتے تھے بلکہ ایسا بھی ہوتا کہ ہمارا برتن خالی لوٹانے کی بجائے اسی میں جوابی اظہار محبت سویوں کی شکل میں لوٹایا جاتاتھا۔ ماں کے ساتھ عیدی کی وصولی پر جھگڑا اور اس جنگ میں کامیابی کو ہم بڑی بہادری سمجھتے تھے۔ اس وقت اندازہ اور شعور نہیں تھا کہ جس سے جنگ آزما ہیں اس ہستی کی زندگی کا نصب العین ہی ہماری کامیابی ہے۔ وقت بڑی تیزی سے گزر گیا پتہ ہی نہیں چلا۔ ’’جس دھوپ کی دل کو ٹھنڈک تھی وہ دھوپ اسی کے ساتھ گئی‘‘۔ ہماری عیدیں تو ہماری ماں اپنے ساتھ لے گئی۔ اس کے بعد عید کا وہ ذائقہ ہی ختم ہو گیا مگر بدقسمتی یہ کہ باقی دنیا کی عیدیں کہاں گئیں۔ محبت کی جگہ ٹیکنالوجی نے لے لی چاند دیکھنا رویت ہلال کمیٹی کی ڈیوٹی بن گئی۔

چاند رات کو تاجر طبقے نے کمرشل کر دیا جس میں منافع اور تجارت غالب آ گئے مگر اس سال covid نے ساری تجارتوں پر پانی پھیر دیا۔ پہلے یاروں دوستوں کے درمیان عید ملن پارٹیاں ہوا کرتی تھیں پھر عید کا یہ فیچر سیاست کی نذر ہو گیا۔ سیاستدانوں اور ان کے مقامی حواریوں نے عید ملن کو ہائی جیک کر لیا۔ رہی سہی کسر کارپوریٹ طبقے نے پوری کر دی۔ یہ دونوں طبقے غریبوں کو زکوٰۃ دینے کی بجائے وہ پیسہ پرتعیش پارٹیوں پر لگاتے ہیں جہاں غریبوں کا داخلہ ممنوع ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس کے زکوٰۃ فنڈ اور عید کے دن کے لیے مستحقین کے لیے مخصوص کردہ عیدی کی بجٹ میں بھی خورد برد کے قصے اخبارات میں ماضی میں چھپ چکے ہیں۔ ہمارے حکمران عید اور زکوٰۃ بھی سرکاری فنڈ سے دیتے ہیں اور اس فنڈ میں بھی ٹرانسپرنسی یا شفافیت ایک بڑا مسئلہ ہے۔

میری عید کی یادداشتوں میں سے مولوی محمد اشرف مرحوم و مغفور کو تفریق کرنا ناممکن ہے وہ ہمارے گاؤں کی مسجد کے پیش امام تھے جو چند ماہ پہلے اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے مولوی صاحب کی عاجزی انکساری اور دنیا سے بے رغبتی آج کے دور میں ضرب المثل کا درجہ رکھتی ہے۔ قرآن میں مال اور اولاد کو فتنہ کہا گیا ہے مولوی اشرف صاحب کو خالق کائنات نے ان دونوں فتنوں سے بچا لیا ۔ حرص ہوس طمع لالچ ان کے قریب سے بھی نہیں گزر سکتا تھا وہ بہت بڑے عالم فاضل نہیں تھے لیکن مذہب کے نام پر مسلمانوں کو تقسیم کرنے کے بہت بڑے مخالف اور فتویٰ بازی سے پرہیز کرتے تھے۔ ان کی کوئی تنخواہ مقرر نہ تھی ایک اخلاقی اور خاموش معاہدے کے تحت گاؤں والے ان کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھتے تھے مگر انہوں نے کبھی کوئی شکایت نہیں کیا اور الحاکم التکاثر سے اپنے آپ کو خبردار رکھا۔ مولوی محمد اشرف صاحب کے بغیر ہمارے گاؤں کی یہ پہلی عید ہے ان پر اللہ کی کروڑوں رحمتیں ہوں:

جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں

کہیں سے آبِ بقائے دوام لا ساقی

(علامہ اقبالؒ)

وہ نماز جمعہ میں سورۃ الجمعہ بڑے دل نشیں انداز سے تلاوت کیا کرتے تھے اور ان کی قرأت آج بھی ہمارے کانوں میں گونج رہی ہے۔ قدرت اللہ شہاب نے اپنی بائیو گرافی میں جھنگ میں بطور ڈپٹی کمشنر اپنی تعیناتی کا ایک واقعہ بیان کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ جھنگ کی ایک چھوٹی سی مسجد کے ایک امام نے انہیں اللہ سے دعا مانگنے کا طریقہ سکھایا ہے ہمارے مولوی اشرف صاحب جب دعا کراتے تھے تو ہمیشہ حفیظ جالندھری کے اس شعر سے شروع کرتے کہ 

خوار ہیں بدکار ہیں ڈوبے ہوئے ذلت میں ہیں

کچھ بھی ہیں لیکن تیرے محبوب صلعم کی امت سے ہیں

ہم نے بھی دعا کا یہ انداز مولوی اشرف صاحب سے سیکھا ہے۔ا للہ ان کی قبر کو روشن کرے آمین۔ 

یقین جانیں آج کے اس ذاتی تاثرات پر مبنی اس کالم میں نے تہیہ کر رکھا تھا کہ قومی سیاست پر بات نہیں کرنی۔ سیاست پر لکھتے لکھتے دل ویسے ہی بیزار ہے ۔ بات مولوی اشرف صاحب کی ہو رہی ہے وہ فرمایا کرتے تھے کہ جب تک آپ صدقۂ فطر یا فطرانہ ادا نہیں کر دیتے آپ کا روزہ زمین اور آسمان کے درمیان معلق رہتا ہے اس کا ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ شرعی طور پر زکوٰۃ یا صدقہ کی رقم آپ نے مستحق کو نہیں دی اور وہ پیسہ کسی غیر مستحق کی جیب میں چلا جائے تو اس پر شریعت یہ کہتی ہے کہ وہ آپ پر واجب الادا رہے گی جب تک آپ دوبارہ وہ صحیح جگہ پر نہیں دیتے اس تناظر میں میرے ذہن میں یہ خیال آ رہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے دورۂ سعودی عرب کے دوران ولی عہد محمد بن سلمان سے خصوصی طور پر فطرانے کی رقم کی پاکستان میں تقسیم کا جو اعلان کرایا ہے اس میں بہت سے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

یہ فطرانہ پنجاب اور پختونخوا کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے جہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ یہ اقدام اس سارے پروگرام کی دھجیاں اڑانے کے لیے کافی ہے حالانکہ بلوچستان اور سندھ میں زیادہ غربت ہے۔ ان کو اس لیے شامل نہیں کیا گیا کہ وہاں کی صوبائی حکومت وفاق کے کنٹرول میں نہیں۔ حکومت فطرانے کی یہ رقم اپنے ایم پی اے اور ایم این کے ذریعے انتخابی حلقوں میں اس انداز سے تقسیم کرانا چاہتی ہے کہ اگلے الیکشن میں ووٹ حاصل کیے جائیں بلکہ ممبران اسمبلی نے یہ رقم عوام کو دینے کی بجائے اپنی جیبوں میں ڈالنی ہے جبکہ دوسری طرف اس کے عوض پاکستان کی خود مختاری اور قومی وقار کا سودا کر دیاگیا ہے۔ قوم کو تو یہ کہا گیا تھا کہ نئے پاکستان میں باہر سے لوگ نوکریوں کے لیے یہاں آئیں گے مگر لوگ تو ہمیں فطرانہ دینے آ رہے ہیں۔

’’غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا شعور‘‘

( اقبالؒ)

ویسے سعودی عرب کو اگر اس ساری گیم کا پتہ چل جائے تو وہ خود ہی اس فیصلے پر نظر ثانی کریں گے یا پھر براہ راست کنگ سلیمان ریلیف فنڈکو حکومتی مداخلت کے بغیر سعودی سفارت خانے کے ذریعے سر انجام دیں گے تا کہ ان کے روزے مولوی اشرف کے بقول زمین اور آسمان کے درمیان معلق نہ رہیں۔


ای پیپر