Chief of Army Staff, Prime Minister Imran Khan, Pakistan
13 May 2021 (11:34) 2021-05-13

گزشتہ ہفتے اپوزیشن کے ایک بڑے سیاسی لیڈر سے لاہور میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات ہوئی جس میں ان سے سیاسی نکتہ نظر، ملکی و بین الاقوامی سیاست اور دیگر معاملات پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔

گو کہ انہوں نے گفتگو اور ملاقات بھی آف دی ریکارڈ قرار دے دی لیکن صحافتی اقدار کو سامنے رکھتے ہوئے ان کا نام ظاہر کئے بغیر کوشش کروں گا ان کا کہاآپ تک پہنچا سکوں۔ ویسے بھی چیف آف آرمی سٹاف سے سات گھنٹے طویل ملاقات اور وزیر اعظم عمران کی آف دی ریکارڈ گفتگو قارئین اور ناظرین تک پہنچ ہی چکی ہے اس لیے ہمارا بھی فرض ہے کہ ان کا پوائنٹ آف ویو بھی کسی طریقے سے آپ تک پہنچا سکوں۔ جاننے والے جان جائیں گے کہ وہ شخصیت کون تھی۔

سب سے پہلے ان کے سیاست اور اپنی پارٹی کے حوالے سے سیاسی نظریات پر بات کر لیتے ہیں۔ گو ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت ان باتوں کا نہیں لیکن میرے اسرار پر انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کا اکثر معاملات پر سوچنے کا انداز اپنی پارٹی کے نکتہ نظر سے مختلف ہے جس کا اظہار وہ اکثر و بیشتر کرتے رہتے ہیں۔ لیکن بالآخر اجتماعی فیصلوں پر سرنگوں ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی ترجیح مثبت سیاست کی ہے جسے اپناتے ہوئے اس ملک اور عوام کی حالت بہتر بنائی جا سکے گھیراؤ جلاؤ کبھی ان کی سیاست کا انداز نہیں رہا۔ وہ اپوزیشن اتحاد کی توڑ پھوڑ پر بھی رنجیدہ تھے اور ان کا اسرار تھا کہ ایسے حالات میں اپوزیشن ہی عوام کی امید ہوتی ہے اور متحد ہوئے بغیر وہ اہداف حاصل نہیں کر سکتی۔

وہ ہر معاملے کو آئین کے مطابق حل کرنے کے حامی ہیں اور ٹکراؤ کے بجائے مفاہمت پر یقین رکھتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ کے حوالے سے ان کا خیال تھا کہ معاملات مفاہمت سے بھی حل ہو سکتے ہوں تو ٹکراؤ ضروری نہیں۔ میں نے کہا، آپ کی پارٹی کی پالیسی تو اس سے الٹ ہے۔ آپ کی پارٹی اور اتحادی تو اسٹیبلشمنٹ کو تاک تاک کر نشانے پر رکھ رہے ہیں۔ ان کا جواب تھا یہ افسوسناک ہے کوشش کروں گا پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ میں بنی خلیج کو بھر سکوں۔

اپنی پارٹی کے کچھ لیڈران سے بھی نالاں تھے جن کی وجہ سے پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ آمنے سامنے کھڑی ہو گئی ہے جبکہ ہماری جماعت کا کبھی یہ وتیرہ نہ تھا۔ اسٹیبلشمنٹ ایک حقیقت ہے اور اس کو ساتھ لیے بغیر پاکستان بہتری کی طرف نہیں جا سکتا۔ وہ کشمیر اور بھارت سے تعلقات کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے درمیان رسہ کشی سے بھی نالاں تھے اور یہ مسئلہ پارلیمنٹ میں سیر حاصل بحث کے بعد حل کرنے کے حامی ہیں۔ آئینی ترامیم اور انتخابی اصلاحات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اپنی یو ٹرن پالیسیوں کی وجہ سے اعتماد کھو چکی ہے اور ہم ان پر اعتبار کرنے کو کسی صورت تیار نہیں۔

سیاست کو لے کر ان کے خاندان میں اختلافات کے سوال پر بہت برہم ہوئے اور ان کا کہنا تھا کہ ایسا کچھ نہیں اور اگر فرض کر لیں کہ ہے بھی تو اس کا ملکی سیاست سے کچھ تعلق نہیں۔ ہمیں بطور معاشرہ اور میڈیا کو بھی اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی ذاتیات سے آگے بڑھ کر ملک کا سوچنا ہو گا۔

ان کا خیال تھا کہ اس وقت ہم غلط بحث میں الجھے ہوئے ہیں سوال کسی کے زندہ باد یا مردہ باد ہونے، کسی کی ڈیل ہونے یا نہ ہونے، اپوزیشن اور حکومت کی لڑائیاں یا کسی کو شکنجے میں کسنے کا نہیں بلکہ ملکی بقا کا آن کھڑا ہوا ہے۔ امریکہ افغانستان سے نکل رہا ہے لیکن ہماری حکومت کی توجہ اس کی پیش بندی کرنے کے بجائے مخالفین کو کچلنے پر لگی ہے۔ ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے لیکن حکمران نیرو کی طرح بنسری بجا رہے ہیں۔ جس حکومت کا اپنا وزیر خزانہ کہہ رہا ہو کہ اگر ہم نے معیشت کی طرف توجہ نہ دی تو پاکستان کا اللہ حافظ۔ اس صورتحال میں ہماری تمام تر توجہ معاشی اکائیوں میں بہتری کی طرف ہونی چاہئے لیکن ہماری حکومت کی ترجیحات کچھ اور ہی ہیں۔

تین سال میں اس حکومت نے معیشت کو جس حال میں پہنچا دیا ہے تو باقی ماندہ دو سال میں ہم ان سے کتنی بہتری کی امید کر سکتے ہیں۔ معاشی تباہی کو دیکھ کر یہی دعا کی جا سکتی ہے کہ اگر بہتر نہیں ہو سکتی تو کسی طرح یہ سلسلہ رک جائے۔ جو بھی نئی حکومت آئے گی اس کے لیے سب سے بڑا چیلنج تباہ حال معیشت کی بہتری ہو گا اور پھر ملک کو ایک بار پھر نئے سرے سے اٹھانا۔ کسی کی دشمنی میں اس حکومت نے سی پیک جیسے منصوبے کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔ ہمارے دوست ممالک جن کی دوستی پر ہمیں ناز تھا اور وہ ہمیشہ آڑے وقت میں ہماری کام آتے تھے اس حکومت نے انہیں بھی ناراض کر دیا۔

میڈیا کو بھی سیاسی پارٹیوں کے اختلافات اور پارلیمنٹ میں دھینگا مشتی سے ہٹ کر ملک کو درپیش خطرات اور ان کے حل کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ سیاسی جماعتیں بھی ایک دوسرے پر چاند ماری کے بجائے کچھ وقت ملک کو دے دیں۔ خارجہ محاذ پر افغانستان کا مسئلہ دستک دے رہا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ ہم نے الجھا دیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت پاک بھارت تعلقات اور کشمیر ایشو پر ایک پیج پر نہیں۔ دونوں طرف سے اس مسئلے پر مخالفانہ بیانات آنے سے یہ معاملہ مزید الجھ رہا ہے۔ لیکن حکمران اسے انا کا مسئلہ بنائے بیٹھے ہیں اور پارلیمنٹ اس سے بے خبر ہے۔ آج ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے غریب پس رہا ہے اور ان کی حالت بہتر بنانے کے بجائے ہم سیاسی پوائنٹ سکورنگ پر لگے ہیں۔

حکومت کی نااہلی کی وجہ سے کرونا نے ملک میں تباہی پھیلا دی ہے کم از کم اس سے نمٹنے کے لیے ہی مشترکہ لائحہ عمل اپنانا چاہیے لیکن حکومت کی تمام راگنی اپوزیشن کو کچلنے پر لگی ہے۔

بے روزگاری اپنی انتہا پر ہے یہ ایک کروڑ نوکریاں دینے کے وعدے پر آئے تھے لیکن اس سے کہیں زیادہ لوگ بیروزگار ہو چکے ہیں۔ 50 لاکھ گھر بھی خواب لگ رہے ہیں۔ ایک بھی میگا پراجیکٹ نہیں شروع کیا لیکن بیرون اور اندرون ملک قرضے کیوں بڑھ رہے ہیں۔ کیا لنگر خانوں اور پناہ گاہوں سے غربت کم ہو گی؟ معاشی انقلاب کے بغیر عوام کی حالت بہتر نہیں بنائی جا سکتی۔

معاشی اشاریوں میں پہلے بنگلہ دیش ہم سے آگے تھا اور آج ہم افغانستان سے بھی نیچے آ چکے ہیں۔ امریکہ افغانستان سے نکل رہا ہے اور ہم نے اس حوالے سے طالبان یا افغان حکومت دونوں سے بگاڑ لی ہے۔ اندرونی محاذ پر ہم نے اپنی غلط حکمت عملی سے ایک مذہبی تنظیم کو ریاست کے مقابلے میں لا کھڑا کیا ہے۔ وقتی طور پر تو یہ آگ بجھ گئی ہے لیکن حکومت کی نااہلی سے کسی بھی وقت چنگاری آگ پکڑ سکتی ہے۔۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ سیاست میں ذاتی معاملات کو گھسیٹنے کے سخت خلاف ہیں اور کہا، حالات کا تقاضا ہے کہ ہمیں اپنی توجہ ملکی معاملات اور آس پاس ہونے والی تبدیلیوں پر رکھنی چاہیے۔ اس وقت ملکی بقا کا مسئلہ ہے تمام تر توجہ اس طرف ہونی چاہیے۔

فلسطین کی صورتحال پر بے گناہ فلسطینیوں کے قتل عام پر رنجیدہ تھے اور ان کا کہنا تھا کہ پوری مسلم امہ کو اس مسئلے پر ایک پیج پر آنا ہو گا۔

انہوں نے گفتگو اس شعر پر ختم کی

دفن ہو جائے گا خود رات کی تاریکی میں 

جو یہ کہتا ہے سویرا نہیں ہونے دوں گا

قارئین اپنی رائے کا اظہار 03004741474 پر وٹس ایپ، سگنل، بی آئی پی یا ٹیلیگرام کر سکتے ہیں۔


ای پیپر