Instead of condemning Israel, India's social media is using the hashtag Stand and Israel
13 May 2021 (11:29) 2021-05-13

یہ دو برس پہلے کی بات ہے کہ ہم اپنے دوست ڈاکٹر مختار احمد کی دعوت پر افریقہ کے ملک مروکو گئے۔ مروکو جسے ہم مراکش کہتے ہیں۔ مراکش سے ہمارا تعارف درسی کتابو ں میں ہوا تھا اور ہم یہ پڑھتے تھے کہ پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس مراکش کے شہر رباط میں ہوئی تھی۔ آج یہ کانفرنس کیوں یاد آ گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم پھر سے یہ دیکھ رہے ہیں کہ اسرائیل نے مسجد اقصیٰ پر حملہ کر دیا ہے اور یہودی دیوانوں کی طرح خوشیاں منا رہے ہیں۔

عالمی میڈیا اور رہنمائوں کی منافقت دیکھئے کہ توپ و تفنگ سے مسلح اسرائیل صریحاً دہشت گردی کر رہا ہے اور نہتے فلسطینیوں کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔ ان پچاس برسوں میں بہت کچھ بدل گیا ہے۔ دنیا کے نقشہ میں تبدیلی آئی ہے اور عالمی ضمیر بھی تبدیل ہو گیا۔ کل تو جو دہشت گرد تھا آج اس کے اقدامات کو حفاظت خود اختیاری کا نام دیا جا رہا ہے۔بہت کچھ بدلا ہے مگر فلسطینیوں کی قسمت اور مقدر تبدیل نہیں ہوا۔ جنونی یہودی جس طرح جشن منا رہے ہیں اس نے بھارت میں بابری مسجد کی یاد دلا دی ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ بھارت اور اسرائیل ایک دوسرے کولڑنے کے سبق سکھا رہے ہوں۔

بھارت کا سوشل میڈیا اسرائیل کی مذمت کرنے کی بجائے اسٹینڈ وداسرائیل کے ہیش ٹیگ چلا رہا ہے۔ اس وقت بھی ٹی وی سکرین پر اسرائیل کی دہشت گردی کی فوٹیج چل رہی ہے جس میں کئی فلسطینیوں کے شہید ہونے کی اطلاعات موجود ہیں۔ پاکستان نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے مگر دوسری دنیا خاموش ہے۔ ہاں ترکی نے اپنے ردعمل سے ثابت کیا ہے وہ اب بھی مسلم امہ کے ساتھ کھڑا ہے۔

آج مسجد اقصیٰ کو اسرائیل نے ایک بار پھر آگ لگا دی اور یہودی وہاں جشن منا رہے ہیں۔ہم اپنے اپنے ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر محض تاسف کا اظہار کر رہے ہیں۔ ہماری حالت اس لاغر مریض جیسی ہے جو موت کے فرشتے کا انتظار کر رہا ہے۔بے کس مسلم امہ بہادر لیڈروں کا راستہ دیکھ رہی ہے مگر دور دور سے کوئی دھول بھی اڑتی نظر نہیں آ رہی۔

اسرائیل کے خلاف ہم نے کیا کھڑے ہونا ہے ہم تو اسرائیل کی کھل کر مذمت کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہیں۔ آج مسلم امہ ایک بار ذوالفقار علی بھٹو، شاہ فیصل ، کرنل قذافی، صدام حسین ، شاہ حسین کی طرف دیکھ رہی ہے ۔ اسلامی تعاون کی تنظیم میں اس وقت 57اسلامی ممالک شامل ہیں مگر ہماری سنتا کون ہے۔ اس بلاک کے پاس تمام تر وسائل موجود ہیں مگر ہم مختلف گروہوں اور نسلوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ کوئی مشترکہ مقصد بھی ہمارے سامنے موجود نہیں۔

ایک برس قبل تک ہم یہ سمجھتے تھے کہ اسرائیل سے زیادہ خطرہ اسلامی ممالک کو ایران سے ہے۔ اسلامی ممالک باہم دست و گریبان ہیں۔اور سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ مسلم امہ کے پاس قیادت تک موجود نہیں ۔ ایک موقع پر مہاتیر محمد نے اسلامی دنیا کی قیادت کرنے کی کوشش کی اور اب ترکی کے صدر طیب اردوان کی طرف لوگ دیکھ رہے ہیں۔ یہ دونوں اس لیے بھی ناقابل قبول ہیں کہ دونوں عربی نہیں بلکہ عجمی ہیں۔ اسلام تو کہتا ہے کہ کسی عربی کو عجمی پر فوقیت نہیں ہے سوائے تقویٰ کے۔

اسلامی تعاون کی تنظیم کی بنیاد اس وقت رکھی گئی جب اسرائیل نے مسجد اقصیٰ کو آگ لگا دی تھی۔ اس پر مروکو کے دارالحکومت رباط میں ایک اجلاس ہوا اور اس اجلاس کی بنیا دپر اسلامی تعاون کی تنظیم بنائی گئی۔ اس تنظیم کو بنانے کا محرک قبلہ اول بنا تھا۔ آج ایک بار پھر قبلہ اول اسلامی دنیا کے حکمرانوں کو بلا رہا ہے مگر وہ سوئے ہوئے ہیں یا مدہوش ہیں۔

نہتے فلسطینی بچوں کی چیخیں اور آوازیں ان تک نہیں پہنچ رہیں۔ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والی یہ تنظیم اپنے قیام کے مقصد کو بھول چکی ہے۔کوئی ہے جو فلسطینی بچوں اورعورتوں کو بتا سکے کہ اب یہاں کوئی نہیں آئے گا۔ ان کے آنسو پونچھنے کے لیے ہمارے حکمرانوں کے پاس وقت نہیں ہے۔

ان کی داد رسی کرنے کا یارا نہیں ہے کہ ہمارے تعلقات امریکہ اور اسرائیل سے خراب ہو سکتے ہیں۔ ہم اپنے گھروں میں دبک کر بیٹھے ہیں کہ کہیں ہمیں بھی دہشت گردوں کا ساتھی نہ قرار دے دیا جائے۔ ہم تو ان کو پرسہ بھی نہیں دے سکتے۔جن کے بچے موت کے منہ میں چلے گئے وہ آسمان کی طرف دیکھ کر فریاد کر رہی ہیں کہ اے زمین و آسمان کے مالک تو نے یہ بھیجا تھا اور تیری طرف ہی اسے واپس بھیج رہے ہیں کہ یہ دنیا ان کے رہنے کے قابل نہیں رہی۔ اے خد ا ان بچوں کو اس وقت ہماری گود میں بھیجنا جب ہمارے حکمران ان کو تحفظ دینے کے قابل ہو جائیں۔ یہ بچے تو مفلسی کی وجہ سے قتل نہیں ہوئے ان کے رزق کا وعدہ تو آسمان والے نے بہت پہلے کر دیا تھا۔

رمضان کی مبارک ساعتوں میں ہم نیکیاں اور ثواب کمانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ہمیں فلسطین اور کشمیر کے بچے کیونکر یادآئیں گے۔ ہم نے صدقے بھی دیے ہیں اور فطرانے بھی ۔ طاق راتوں میں ہم نے خدا کے حضور گڑ گڑا کر دعائیں بھی مانگی ہیں۔ افطاری کا بندوبست کیا ہے اور نماز کو بھی قائم کیا اور یہ دعائیں مانگی کہ اے معاف کرنے والے ہمارے گناہوں اور کوتاہیوں کو معاف فرما۔فلسطینی بچے بوڑھے اور جوان اپنے وطن کی جنگ لڑ رہے ہیں ہمیں ان سے کیا۔ زکوٰۃ اور فطرے کی رقم ان کی فلا ح و بہبود کے لیے روانہ کرکے ہم اپنے فرض سے سبکدوش ہو جائیں گے۔

فلسطینی بچوں ہماری طرف نہ دیکھو آسمان کی طرف دیکھو اس رب کائنات سے کہو کہ وہ ابابیل بھیجے کیونکہ جو امہ ہے اسے تم سے کوئی سروکار نہیں ہے۔کشمیر کا محاصرہ ہوا یہ امہ خاموش رہی اور بھار ت سے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کوشاں رہی۔ اب فلسطینیوں پر قیامت ٹوٹی ہے تو وہ اسرائیل اور امریکہ سے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ قبلہ اول کا کیا ہے ہم اس کے گھر مکہ مکرمہ ہو آئیں گے ۔ لیکن ذرا یہ تو بتائو کہ گنبد خضریٰ پر جا کر کیا کہو گے کس منہ سے سامنا کرو گے ۔ کیسے کہو گے کہ ہم نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔کون سی فریاد لے کر جائو گے کہ ہم نے اپنی جانیں تیرے ناموس پر لٹا دی تھیں۔ قبلہ اوّل اور مسجد اقصیٰ سے منہ موڑنے کی کوئی تو دلیل سمجھائو کہ بات کرتے ہوئے شرم نہ آئے۔

اس مشکل میں ہو ں کہ اس فلسطینی بچوں کو کیا دلاسہ دوں جس کے باپ کا جنازہ اٹھا ہے اور وہ دوڑ کر اپنے باپ کے جنازے کو کاندھا دے رہا ہے۔ میرے پاس الفاظ ہیں نہ یہ طاقت کہ تمہیں اپنی آغوش میں چھپا لوں۔ کس منہ سے کہو ں کہ مت رو میرے بچے۔ کیا کہوں کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔ صابرہ اور شتیلہ پر اسرائیل نے بمباری کی تو اس وقت فیضؔ نے ایک نظم لکھی تھی۔ میرے بچے میں تو تم سے بھی لاغر اور ناتواں ہوں میں تجھے کچھ نہیں دے سکتا بس فیضؔ کی نظم ہی تمہارے حضور پیش کر رہا ہوں۔ میرے بچے مجھے معاف کرنا

مت رو بچے 

رو رو کے ابھی 

تیری امی کی آنکھ لگی ہے 

مت رو بچے 

کچھ ہی پہلے 

تیرے ابا نے 

اپنے غم سے رخصت لی ہے 

مت رو بچے 

تیرا بھائی 

اپنے خواب کی تتلی پیچھے 

دور کہیں پردیس گیا ہے 

مت رو بچے 

تیری باجی کا 

ڈولا پرائے دیس گیا ہے 

مت رو بچے 

تیرے آنگن میں 

مردہ سورج نہلا کے گئے ہیں 

چندرما دفنا کے گئے ہیں 

مت رو بچے 

امی، ابا، باجی، بھائی 

چاند اور سورج 

تو گر روئے گا تو یہ سب 

اور بھی تجھ کو رلائیں گے 

تو مسکائے گا تو شاید 

سارے اک دن بھیس بدل کر 

تجھ سے کھیلنے لوٹ آئیں گے

(فلسطینی بچے کے لیے لوری۔۔ فیض احمد فیضؔ)


ای پیپر