This Eid and spiritual joy
13 May 2021 (11:24) 2021-05-13

اس مرتبہ میٹھی عید پھیکی گزرے گی۔ ملاقاتیں نہ پُرجوش مصافحے نہ محبت بھری اور تلخیوں کو مٹا دینے والی جپھیاں، نہ رشتے داروں کے گھروں میں جوش و جذبے کے ساتھ جانا نہ کسی کو روایتی اہتمام کے ساتھ اپنے گھر بلانا… نہ انواع و اقسام کے پکوان تیار کر کے دوستوں اور عزیزوں کی پہلے کی مانند بھرپور ضیافتوں کا دسترخوان سجانا۔

دروازے سے باہر قدم رکھنے سے پہلے ماسک کے ذریعے سانس گھونٹ لینا۔ سوئیوں اور شیر خورما کی پلیٹوں و پیالوں میں وہ مہک نہیں اٹھے گی پرانا ذائقہ نہیں رہے گا کیونکہ گھر یا خاندان میں، قریبی ہمسائے یا دور دراز کے رشتہ داروں کو کورونا کا مرض لاحق ہونے کی تشویشناک خبریں مل رہی ہوں گی، افسردگی کا عالم طاری ہو گا۔

گوشت، بریانی، پلائو اور ذائقے دار میٹھے کی ڈشیں اگر آپ کے گھر میں تیار بھی ہو گئیں تو کنبے کے زیادہ سے زیادہ پانچ سات افراد گھر میں بیٹھ کر کھا لیں گے۔ عزیز واقارب میں سے کم ہی ساتھ بیٹھے پکوانوں کی تعریف کر رہے ہوں گے۔ ان کے ذائقوں سے لطف اندوز ہو کر آپ کے گھر کی خواتین کی ہنرمندی اور سلیقے کی داد دے رہے ہوں گے۔

اس مرتبہ ہاتھوں پر مہندی نہیں لگے گی۔ نازک بانہوں پر چوڑیاں نہیں پہنائی جائیں گی۔ بچوں کی عید نت نئے کپڑے پہننے اور طرح طرح کے کھلونوں سے کھیلنے میں ہوتی ہے۔ انہیں عمدہ لباس پہنا بھی دیئے گئے تو گلی محلے کے دوستوں، ہم جماعتوں اور مامے، پھوپھی، چچا، خالہ وغیرہ کے بیٹے بیٹیوں کے ساتھ کم میل جول ہو گا۔

کسے دکھا کر فخر اور مسرت محسوس کریں گے۔ بازار سختی کے ساتھ بند ہیں۔ عید شاپنگ ماند پڑ گئی ہے۔ دکاندار جو سال بھر عید کی بکری سے امیدیں باندھ کر اس سیزن کے انتظار میں بیٹھے تھے، سرمایہ کاری کی تھی، ادھار پر مال خریدا تھا، سارا اہتمام دھرے کا دھرا رہ گیا ہے۔ امیدوں پر پانی پھر گیا ہے۔ حکومت نے بازار بند کرا دیئے ہیں۔ پہرے پر پولیس کو بٹھا دیا ہے۔

جنہوں نے اس کے باوجود دو پیسے کی آمدنی کی خاطر دوچار گاہکوں کو مال بیچنے کی جسارت کر ڈالی ان کی دکانوں کی تالابندی کر دی گئی ہے۔ ریسٹورنٹوں کا کاروبار پہلے سے ہی ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ صرف گھر میں منگوانے کا آرڈر دے سکتے ہیں۔ سڑکوں پر نکل کر چلتی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر برگر کھانے اور پیزہ سے لطف اندوز اور نوجوانوں کے شور وغوغا کرنے کی روایت باقی نہ رہے گی۔

بچے عید کے دن یا دوسرے روز چڑیا گھر نہیں جا سکیں گے۔ اپنے والدین کے ہمراہ تفریحی مقامات اور پارکوں کی سیر نہیں کر سکیں گے۔ عید کا اگلا دن ٹرو کا روز کہلاتا ہے۔ یہ دن ہماری معاشرت میں نانی کے گھر جانے کے لیے مخصوص سمجھا جاتا ہے۔

مائیں بڑے ذوق اور شوق کے ساتھ تیاری کر کے بچوں کو بنا سنوار کر میکے گھر لے کر جاتی ہیں۔ وہاں بھی شدت کے ساتھ انتظار ہوتا ہے۔ پورا دن نانا نانی کی روایتی لیکن محبتوں بھری چاہتوں میں گزرتا ہے۔ اس مرتبہ بھی شاید مائیں اور بچے نانی کے گھر جائیں گے لیکن وہ پہلی سی رونق اور عید کے دنوں کے ساتھ مخصوص آنا جانا اور ملنا بیٹھنا، اکٹھے کھانے کھانا اور نانی کی تیارکردہ دعوتیں اڑانا ممکن نہ رہے۔ صرف روزہ داروں کی عید خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے گزرے گی کہ اس نے ان نامساعد ترین حالات میں بھی انہیں روزے رکھنے اور رمضان کی طاق راتیں عبادت میں گزارنے کی توفیق دی۔

مگر وہ جو عید کے تہوار کے ساتھ پوری ایک تہذیبی روایت نے صدیوں میں جنم لیا اور خاص طور پر برصغیر کی ہند اسلامی تہذیب کا ایک چمکدار نمونہ بن کر ہر سال ہماری خوشیوں کو دوبالا کر دیتی ہے اور سال بھر کی کلفتیں دور کر دیتی ہے۔ وہ جو عید دینی فرائض کی ادائیگی کے ساتھ اس کی کوکھ سے جنم لینے والی شاندار تہذیبی روایت کا خوبصورت امتزاج بن کر ہمارے معاشرتی افق پر چمکدار تاروں کی کہکشاں بن کر نمودار ہوتی تھی اور خوشیوں کا نور پھیلا دیتی تھی۔ پچھلے برس اس میں وہ آب و تاب نہ رہی اور اس سال تو تقریباً معدوم ہوتی نظر آ رہی ہے۔

وجہ اس کی کورونا کی مہلک بیماری ہے جس نے پورے سماج کے اندر غم اور افسردگی کے سائے پھیلا رکھے ہیں۔ اموات ہو رہی ہیں۔ گھر گھر بیمار پڑے ہوئے ہیں۔ ہسپتالوں میں جگہ نہیں مل رہی۔ آکسیجن سلنڈروں کی کمی ہے۔ میرے عظیم اور تاریخی شہر لاہور میں پورے ملک کی مانند سرکاری ہسپتالوں کا برا حال ہے۔

نجی شعبہ میں کام کرنے والے جن دو چار اچھی شہرت والے ہسپتالوں میں ساری سہولتیں موجود ہیں، ڈاکٹر بھی وہاں کے درجہ استثناء کو پہنچے ہوئے اس مرض کے علاج میں اچھی شہرت کے حامل ہیں لیکن ان ہسپتالوں میں داخلہ نہیں ملتا۔ بستر مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ داخلے کے امیدواروں یعنی بیماری سے تڑپنے والے مریضوں کے لواحقین کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

یہ سب کھاتے پیتے اور خوشحال گھرانوں کے لوگ ہیں، اثر رسوخ رکھتے ہیں۔ روزانہ کے حساب سے ڈیڑھ دو لاکھ روپے کا کم از کم بل ادا کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود ایلیٹ ہسپتالوں میں اپنے مریض کو داخل کرانا اور ایک دو چوٹی کے ڈاکٹر جو یہاں موجود ہیں ان سے فوری طور پر اپنے مریض کا معائنہ کرانا آسان نہیں رہا۔

اسی سے اندازہ لگا لیجئے نچلے متوسط طبقے اور محدود آمدنی والے لوگوں کے لئے اپنے مریضوں کا علاج کس قدر مشکل ہو چکا ہے۔ کورونا کا ایک مریض پورے گھرانے کو متاثر کرتا ہے۔ ضروری انجکشن مہنگے داموں فروخت ہو رہے ہیں۔ آکسیجن سلنڈر نہیں ملتے۔ ایک شہر سے دوسرے تک سفر کرنا محال ہو چکا ہے۔ چونکہ انٹر سٹی ٹرانسپورٹ بند ہے، عید پر گھروں کو جانے والوں کا رش علیحدہ ہے۔ ذاتی گاڑی تو محدود ترین لوگوں کے پاس ہے۔ باقیوں کے لیے دور نہیں قرب و نواح کے شہروں کا سفر ہفت خواں طے کرنے کے مترادف بن چکا ہے۔

اگر آپ کا کنبہ خدا کے فضل سے اس بیماری سے محفوظ و مامون ہے تو اللہ کا بے پایاں شکر ادا کیجیے۔ مزید احتیاط کیجیے۔ عید پر دوسروں کی شفایابی کی دعا کیجیے۔ خاندان میں نزدیک دور کا کوئی رشتہ دار یا ہمسائے کا کوئی فرد اس مہلک مرض کا شکار ہو سکتا ہے، اس کی دستگیری میں حسب توفیق اور حسب استطاعت کوئی کمی روا نہ رکھئے۔

اس بیماری نے پورے معاشرے اور ملک کے تمام عوام کو افسردہ کر رکھا ہے۔ اس مرتبہ عید کا اس سے بڑھ کر تحفہ نہیں ہو سکتا، اگر آپ کے جاننے والوں میں سے کسی غریب یا سفید گھرانے کا فرد کورونا کی لپیٹ میں ہے تو اس کے علاج کے لیے فوری ضروری سہولتوں کی فراہمی کے لیے فراخ دلی کے ساتھ دست تعاون بڑھائیے۔

ویکسین کے انجکشن لگوانے کے لیے اپنے جاننے والوں کی حوصلہ افزائی کیجیے کیونکہ کئی لوگ اس سلسلے میں بھی اندیشہ ہائے دور دراز میں مبتلا ہیں جبکہ یہ انجکشن لگوانا ہر شہری کے لیے ازبس ضروری ہو چکا ہے۔ آکسیجن کے سلنڈر وافر مقدار میں دستیاب ہوں تو گھروں کے اندر بھی ان کے لگوانے کا اہتمام ہو سکتا ہے۔

جماعت اسلامی کے مشہور اور انتہائی قابل اعتماد ادارہ خدمت خلق نے اس امر کا اہتمام کیا ہے کہ جس حد تک ممکن ہو ضرورت مندوں کو ان کے گھروں میں آکسیجن سلنڈر اور ان کو لگوانے کے لیے ضروری تکنیکی سہولتوں کا انتظام و انصرام کیا جائے۔

لیکن اس کے لیے بہت زیادہ مالی وسائل کی ضرورت ہے۔ الخدمت والوں نے صاحب حیثیت لوگوں سے مالی اور دوسری قسم کے تعاون کی اپیل کی ہے۔ جماعت اسلامی اور اس کے تحت خدمت خلق کے لیے کام کرنے والے ادارے جیسا کہ الخدمت ہے دکھی انسانیت کو بروقت امداد پہنچانے کے مختلف شعبوں میں پیش پیش رہے ہیں۔

اس حوالے سے ان کی دیانت و امانت اور ملک گیر سطح پر پوری دلجمعی کے ساتھ مصیبت کے وقت نادار لوگوں کے کام آنا ضرب المثل بن چکا ہے۔ اب جو انہوں نے کورونا کے مریضوں کو ان کے گھروں تک آکسیجن سلنڈر مہیا کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے تو لازم ہے ملک اور بیرون ملک کا ہر پاکستانی دل کھول کر انہیں مالی اور دیگر وسائل فراہم کرے۔

اس طرح دوسرے بھی کئی ادارے مستعد ہیں۔ ان سب کی اپنی اپنی جگہ دامے درمے سخنے مدد کر کے آپ اس عید پر طاری ہونے والی افسردگی کو روحانی مسرت میں بدل سکتے ہیں۔ یہ وہ روحانی بالیدگی اور مسرت و سکون ہو گا جو افسردگی کے عالم میں بھی عید کی حقیقی خوشیوں کو چار چاند لگا دے گا۔


ای پیپر