الوداع رمضان المبارک!
13 May 2021 2021-05-13

دِل اُداس ہے۔ آج آخری رمضان المبارک ہے، یہ ماہ مبارک مسلمانوں کے گھروں میں ایک مہمان کی طرح آتا ہے، یہ بابرکت مہمان جب رخصت ہونے لگتا ہے دل اُسی طرح اُداس ہو جاتا ہے جیسے گھر میں کوئی پسندیدہ مہمان آیا ہو، اُس کی وجہ سے گھر میں رونق لگی ہو، وہ جب رخصت ہونے لگے دل اُداسیوں سے بھرجاتاہے، ابھی کل کی بات ہے پہلا روزہ تھا، آج آخری روزہ ہے ایک مہینہ ایک پل کی طرح گزرگیا، ایک طرف وقت تیزی سے گزرتا جارہا ہے، دوسری طرف ہم یہ سوچ کر بیٹھے ہیں وقت تھما ہواہے، رُکا ہوا ہے۔ وقت ہمیشہ ٹھہرا رہے گا، ہم ہمیشہ زندہ رہیں گے، لوگوں کے جنازوں کو کندھا دیتے ہوئے بھی ہم یہی سوچ رہے ہوتے ہیں یہ تو مرگیا ہم مگر ہمیشہ زندہ رہیں گے، قدرت نے ہماری اِس سوچ کا انتقام ہم سے یہ لیا موت کے خوف سے ہم آزاد ہوکر زندگی کے خوف میں مبتلا ہوگئے، لوگ اب اِس خوف میں مبتلا نہیں وہ مرجائیں گے، لوگ اب اس خوف میں مبتلا ہیں وہ زندہ کیسے رہیں گے؟، ہاں وقت تیزی سے گزرتا جارہا ہے، عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں، پر عقل مندیہاں رہ کتنے گئے ہیں؟....جہاں تک رمضان المبارک کا معاملہ ہے اِس کی بے شمار برکتیں ہیں، اِس کی سب سے بڑی برکت اور رحمت یہ ہے اللہ پاک نے قرآن پاک کا نزول اس مبارک مہینے میں فرمایا، رمضان کا پہلا عشرہ رحمت کا دوسرا مغفرت کا اور تیسرا جہنم کی آگ سے نجات کا ہے، اللہ پاک نے نبی پاک سے فرمایا”اگر مجھے آپ کی اُمت کو آگ میں جلانا ہوتا میں اُس پر رمضان نازل نہ فرماتا“.... جب رمضان المبارک کا چاند دکھائی دیتا آپ ہمیشہ فرماتے”یہ چاند خیروبرکت کا ہے، میں اُس ذات پر ایمان رکھتا ہوں جس نے تجھے (چاند) پیدا کیا،....”حضرت جبرائیل ؑ نے دعا فرمائی“ہلاک ہو جائے وہ شخص جس کو رمضان کا مہینہ ملے اور وہ اپنی بخشش نہ کرواسکے“....حضرت جبرائیل ؑ کی اس دعا پر آپ نے ”آمین کہا.... حضرت جبرائیل ؑ کی اِس دعا اور اُس پر آپ کے ”آمین“ کہنے سے اس ماہ مبارک کی اہمیت اور طاقت کا ہمیں اچھی طرح اندازہ ہوجانا چاہیے، ....اِسی طرح آپ نے فرمایا ” رمضان کی پہلی رات کو شیاطین کو بند کردیا جاتا ہے اور مضبوط باندھ دیا جاتا ہے، اور سرکش جنوں کو بھی بند کردیا جاتا ہے اور دوزخ کے دروازے بھی بند کردیئے جاتے ہیں، اُس کا کوئی دروازہ کھلا نہیں رہتا، اور جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، اور اُس کا کوئی دروازہ بند نہیں رہتا، ....ایک آواز آتی ہے”اے نیکی کے طالب آگے بڑھ، آگے بڑھ کہ یہ نیکی کا وقت ہے، اور اے بدی کے چاہنے والے بدی سے رُک جا اور اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کرلے، کیونکہ یہ وقت توبہ کا ہے، اور اُن کو چھوڑنے کا ہے اور خدا کے لیے ہے“ ۔ .... حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے۔ آپ نے فرمایا ”میری امت کو ماہ رمضان میں پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئیں،.... پہلی چیز یہ کہ جب رمضان المبارک کی پہلی رات آتی ہے تو اللہ پاک اُن کی طرف رحمت کی نظر فرماتا ہے کہ انہیں کبھی عذاب نہ دے گا، ....دوسری چیز یہ کہ شام کے وقت ان کے منہ کی بُو (جو بھوک پیاس کی وجہ سے ہوتی ہے) اللہ پاک کے نزدیک وہ بُو مشک کی خوشبو سے بہترہے، ....تیسری چیز یہ کہ فرشتے رات دن کو ان کے لیے مغفرت کی دعا فرماتے رہتے ہیں، .... چوتھی چیز یہ کہ اللہ پاک جنت کو حکم دیتے ہیں میرے نیک بندوں کے لیے تیار ہو جا، عنقریب وہ دنیا کی مشقت سے آزاد ہوکر میرے گھر میں کرم اور راحت پائیں گے“.... اور پانچویں وآخری چیز یہ کہ جب رمضان المبارک کی آخری رات (یعنی آج کی رات) ہوتی ہے اللہ پاک سب کی مغفرت فرمادیتے ہیں، .... حضرت سہیل بن سعدؓ سے روایت ہے ”جنت کا ایک دروازہ جس کا نام ”ریان “ ہے اس دروازے سے قیامت کے روز صرف روزہ دار گزریں گے“....اِن احادیث اور احکامات باری تعالیٰ کی روشنی میں میرے نزدیک وہ بڑا بدقسمت انسان ہے جو اِس ماہ مبارک کی رحمتوں اور برکتوں سے محروم رہا، ....آج آخری رمضان المبارک ہے، دِل اُداس ہے، ایک تو دِل اِس وجہ سے اُداس ہے کہ یہ مبارک اور بابرکت مہینہ ہماری زندگی سے ایک سال کی رخصت پر جارہا ہے، دوسرے دِل اِس وجہ سے بھی اُداس ہے اس ماہ مبارک میں بھی اپنی زندگی کے بے شمار معمولات ہم نے نہیں چھوڑے، اِس ماہ مبارک میں توبہ کے سارے دروازے اللہ نے کھول دیئے تھے، ہمیں سچے دل سے توبہ کی توفیق مگر نہیں ہوئی، رحمتوں اور برکتوں والا یہ مہینہ بھی عام مہینوں کی طرح ہم نے گزار دیا، ہم میں سے اکثر لوگ صرف بھوکے پیاسے رہے، جیسے ان کے لیے یہ محض”ڈائیٹنگ “ کا مہینہ ہو، رسول اللہ نے فرمایا ”جوجھوٹی بات کہنا اور اُس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ کو اُس کے بھوکا پیاس رہنے کی کوئی حاجت نہیں“.... دوسری جانب اس سے بڑھ کر المیہ کیا ہوسکتا ہے ہم میں سے اکثر لوگ جھوٹ بولنے کو روزے کا باقاعدہ حصہ سمجھتے ہیں، .... دعا ہے اللہ پاک اپنی خصوصی رحمتوں سے ہم پر ترس فرمائے، ہمارے” ناقص روزوں“ کو قبول فرمالے ۔ یقین کریں میں تو اِس خدشہ کا شکار رہتا ہوں ہماری بداعمالیوں اور کرتوتوں کے باعث جس طرح بے شمار مسلمانوں پر اللہ نے اپنے گھر (خانہ کعبہ) اور اپنے محبوب کے گھر (روضہ رسول) کے دروازے بند کردیئے ہیں، کہیں ایسے حالات نہ پیدا ہو جائیں روزے رکھنے کی توفیق بھی ہم سے چھین لی جائے ۔ ان ملاوٹی عبادتوں اور اعمال سے ہم صرف اپنے دلوں کو مطمئن کرسکتے ہیں، اللہ کو راضی نہیں کرسکتے، .... سودکا کاروبار کرنے والا ایک شخص کل بتا رہا تھا ”اس برس پہلے رمضان المبارک کو میں نے اپنی مقررہ حدسے زیادہ زکوٰةدی جس کا صلہ قدرت نے مجھے یہ دیا اس مہینے میرے ”کاروبار“ میں پہلے سے زیادہ برکت پڑی“.... میں نے عرض کیا ”برکت نہیں پڑی قدرت نے تمہاری زکوٰة تمہارے منہ پر ماری ہے“....


ای پیپر